‏filbadeeh-ghazal لیبل والی اشاعتیں دکھا رہا ہے۔ سبھی اشاعتیں دکھائیں

نہ جانے اب ہے کہاں میرا یار ساون میں : موج غزل ادبی فورم کے ۲۶ویں آنلاین عالمی طرحی مشاعرے بعنوان ساون بتاریخ ۲۲ جولائی ۲۰۱۷ کے لئے میری طبع آزمائی : احمد علی برقی اعظمی





نہ جانے اب ہے کہاں میرا یار ساون میں : موج غزل ادبی فورم کے ۲۶ویں آنلاین عالمی طرحی مشاعرے بعنوان ساون بتاریخ ۲۲ جولائی ۲۰۱۷ کے لئے میری طبع آزمائی 
احمد علی برقی اعظمی
نہ جانے اب ہے کہاں میرا یار ساون میں
جو رشکِ گُل تھا مجسم بہار ساون میں
شبِ فراق میں اس کو کہاں تلاش کروں
مِلا تھا مجھ سے جو دیوانہ وار ساون میں
سکونِ قلب مرا لے گیا وہ اپنے ساتھ
دلِ حزیں ہے مرا بیقرار ساون میں
مرے وجود کا حصہ تھا جس کا ناز و نیاز
وہ یاد آتا ہے اب بار بار ساون میں
فراق جس کا ہے سوہانِ روح میرے لئے
کہاں تک اس کا کروں انتظار ساون میں
وہ آج جیسے ہو خواب و خیال میرے لئے
نظر جو آتا تھا ہرسو نکھار ساون میں
بیان کس سے کروں جاکے اپنا حالِ زبوں
نہیں ہے کوئی مرا غمگسار ساون میں
ہے آج میرے لئے ناگوار وہ برقی
ہرایک چیز جو تھی خوشگوار ساون میں


زندگی کا سہارا ہے پیار آپ کا: احمد علی برقی اعظمی



جو عمر میں ہوں بزرگ تم سے تم اُن کو جُھک کر سلام کرنا : احمد علی برقی اعظمی


بزمِ سخنوراں کے ۷۱ ویں عالمی آنلاین فی البدیہہ طرحی مشاعرے بتاریخ ۱۱ جون ۲۰۱۷ کے لئے میری کاوش
احمد علی برقی اعظمی
جو عمر میں ہوں بزرگ تم سے تم اُن کو جُھک کر سلام کرنا
’’ ہو نرم و نازک تمہارا لہجہ ہر اک سے شیریں کلام کرنا ‘‘
ہے جن کو آنا ضرورآئیں گے تم سے ملنے وہ حسبِ وعدہ
شبِ جدائی تم اُن کے غم میں نہ اپنی نیندیں حرام کرنا
جو آج کل دوست ہے تمہارا نہ جانے بن جائے کب وہ دشمن
جو راز کی بات ہے تمہاری کبھی نہ تم اس کو عام کرنا
تمہاری آمد کا منتظر ہوں بتا دو اتنا کب آؤ گے تم
غریب خانے پہ آکے میرے وہیں قیام و طعام کرنا
تمہیں مبارک شراب نوشی مجھے نہیں اس کی اب ضرورت
میں چشمِ میگوں سے پی رہا ہوں نہ ذکرِ مینا و جام کرنا
جسے بھی دیکھو ہے زخم خوردہ تمہارے اس غمزہ و ادا سے
کیا ہے تیرِ نطر سے جیسا کبھی نہ وہ قتلِ عام کرنا
وہ مبتدی ہوں کہ مُنتہی ہوں اسے ہے یکساں سبھی سے الفت
شعار برقی کا یہ رہا ہے ہر ایک کا احترام کرنا


دیا ادبی فورم کے ۱۹۷ ویں عالمی آن لاین فی البدیہہ طرحی مشاعرے بتاریخ ۲ جون ۲۰۱۷ کے لئے میری طبع آزمائی احمد علی برقی اعظمی



دیا ادبی فورم کے ۱۹۷ ویں عالمی آن لاین فی البدیہہ طرحی مشاعرے بتاریخ ۲ جون ۲۰۱۷ کے لئے میری طبع آزمائی
احمد علی برقی اعظمی
وہ ہوتے میری جگہ تو جَلا بُھنا کرتے
جو سنتے سوزِ دروں میرا سر دُھنا کرتے
سناتے رہتے ہیں ہروقت اپنے مَن کی بات
’’ کبھی کبھی تو مری داستاں سنا کرتے ‘‘
جو کرکے خونِ تمنا کوئی چلا جائے
تو ایسے حال میں روتے نہیں تو کیا کرتے
شبِ فراق ہے کیا جان جاتے وہ خود بھی
جو مثلِ شمع وہ میری طح جلا کرتے
سنا رہے تھے فقط سرگذشت وہ اپنی
اگر وہ سنتے تو ہم عرضِ مدعا کرتے
مذاق اُڑاتے نہ سب قول و فعل کا اُن کے
وہ اپنا فرض بخوبی اگر ادا کرتے
قصیدہ پڑھتے ہیں خود اپنی کامیابی کا
وہ کاش سُرخیٔ اخبار بھی پڑھا کرتے
بغور پڑھتے جو برقی نوشتۂ دیوار
تو خود کو سب کا مسیحا نہ وہ کہا کرتے


ہم اپنی سنائیں گے ان کو سنتے وہ نہیں احوال تو کیا : ایک فی البدیہہ طرحی غزل : برقی اعظمی


دل سے بے ساختہ جو شعر نکل جاتا ہے : احمد علی برقی اعظمی




 اکتیسویں  عالمی عبدالستار مفتی میموریل آن لائن فی البدیہہ مشاعرے لے لئے میری طبع آزمائی
احمد علی برقی اعظمی
دل سے بے ساختہ جو شعر نکل جاتا ہے
’’ شعر کیا لفظ کا مفہوم بدل جاتا ہے‘‘
اسے کہتے ہیں سبھی اہلِ جہاں ابن الوقت
وقت کے ساتھ جو انسان بدل جاتا ہے
منحصر کاتبِ تقدیر پہ سب کچھ ہے مرا
وہ جو چاہے تو برا وقت بھی ٹَل جاتا ہے
باغباں کیسے کہوں گلشنِ ہستی کا اسے
غنچہ و گل کو جو بے درد مَسَل جاتا ہے
وعدہ حشر سے کم اس کا نہیں ہر وعدہ
ایک بچے کی طرح دل یہ بہل جاتا ہے
اُس ہُنرمند کا لیتا نہیں کیوں نام کوئی
دے کے شہکار جو اک تاج محل جاتا ہے
کیوں ہے شہزور کے وہ مَدِ مقابل خاموش
زور کمزور پہ جس شخص کا چل جاتا ہے
کاش کرلیتے اسے یاد وہ جب زندہ تھا
جو مسائل کا لئے ساتھ میں حَل جاتا ہے
غازۂ حسن ہے مزدور کی محنت جس کا
اس کا رخسار کڑی دھوپ میں جَل جاتا ہے
یہیں رہ جائے گا سب جاہ حشم اے برقی
ساتھ انساں کے فقط حُسنِ عمل جاتا ہے


آنا ہے اگر تو آجاؤ : احمد علی برقی اعظمی


انحراف ادبی فورم کے زیر اہتمام افتخار عارف کے مصرعہ طرح پر کورونا وائرس کی تباہ کاریوں کے تناظر میں ایک فی البدیہہ طرحی غزل احمد علی برقی اعظمی





انحراف ادبی فورم کے زیر اہتمام افتخار عارف کے مصرعہ طرح پر کورونا وائرس کی تباہ کاریوں کے تناظر میں ایک فی البدیہہ طرحی غزل
احمد علی برقی اعظمی
جو اپنا فرض ہے وہ بھی ادا کئے جائیں
تمام خلق خدا کا بھلا کئے جائیں
وبا کی شکل میں کورونا عذاب قدرت ہے
” دعاکے دن ہیں مسلسل دعا کئے جائیں “
ہے اس سے بچنا تو آپس میں فاصلہ رکھیں
جو احتیاطی تدابیر ہیں کئے جائیں
کہا تھا آپ سے کس نے کہ لاک ڈاؤن میں
بغیر ماسک کے باہر یونہی چلے جائیں
جو مل رہے ہیں تو یونہی ملیں کف افسوس
جو اس کا دینا ہے تاوان وہ دئے جائیں
پلیس والے کسی کے سگے نہیں ہوتے
کیاہے آپ نے جیسا اسے بھرے جائیں
ہے ایک عالمی بحران یہ خدا کے لئے
جو سہہ رہے ہیں سبھی آپ بھی سہے جائیں
جو بات دل میں ہے وہ برملا بیان کریں
سنیں سنیں نہ سنیں حال دل کہے جائیں
وصال یار میسر نہیں تو صبر کریں
مزہ فراق کا بھی کچھ دنوں چکھے جائیں
نہیں ہے کوئی مصاحب تو ایک گوشے میں
خود اپنا چاک گریباں یونہی سئے جائیں
جو جان ہے تو جہاں ہے یہ اک حقیقت ہے
جو روکھی سوکھی ملے کھائیں اور پئے جائیں
ہے لاک ڈاؤن اگر تو الگ تھلگ رہ کر
جہاں ہیں جیسے ہیں برقی یونہی جئے جائیں

بشکریہ  : محبی محمد مجید اللہ ناندید مہاراشٹرا

اک نقش جاوداں ہے محبت کی زندگی : احمد علی برقی اعظمی بشکریہ سائبان ادبی گروپ



غزل
اک نقش جاوداں ہے محبت کی زندگی
سوہان روح ہے مجھے نفرت کی زندگی
ننگِ وجود دونوں جہاں میں ہے ان کی ذات
جو جی رہے ہیں بغض و عداوت کی زندگی
کردار کر رہے ہیں مرا مسخ جو عدو
جینے دیں اب مجھے وہ شرافت کی زندگی
حق نے عطا کیا ہے دلِ درد آشنا
ہے اس لئے عزیزیہ شفقت کی زندگی
جاہ و حشم پہ کہہ دو وہ اپنے کریں نہ ناز
یے چند روزہ اُن کی یہ عشرت کی زندگی
آئے ہیں خالی ہاتھ جو جائیں گے خالی ہاتھ
آئے گی کام کچھ نہ یہ ثروت کی زندگی
برقی کو پے ضمیر فروشی سے اجتناب

اس کے لئے ہے موت خجالت کی زندگی

حفیظ الرحمان احسن کے مصرعہ طرح پر انحراف کے ان لائن فی البدیہہ طرحی مشاعرہ نمبر 439 مورخہ 28 فروری 2020 پر میری طبع آزمائی احمد علی برقی اعظمی




انحراف کے ان لائن فی البدیہہ طرحی مشاعرہ نمبر 439 مورخہ 28 فروری   2020 
پر میری طبع آزمائی
احمد علی برقی اعظمی
صبر آزما بہت ہیں یہ دن انتظار کے
مثلِ خزاں ہیں جھونکے نسیمِ بہار کے
وہ ماجرے خیالی سناتے ہیں پیار کے
لمحے گذررہے ہیں شبِ انتظار کے
فصلِ خزاں ہے ان کے تعاقب میں اس لئے
’’ ہیں تتلیوں کے ہاتھ میں پرچم بہار کے ‘‘
ہے دیکھنا تو دیکھ لیں شاہین باغ میں
تیور ہیں کیسے آج وہاں گلعذار کے
اپنے ہی من کی سب کو سناتے ہیں بات جو
قصے سنیں گے کب وہ مرے حالِ زار کے
اُن کے خرامِ ناز کے مُشتاق ہیں سبھی
وہ جس طرف بھی جاتے ہیں زلفیں سنوار کے
حرکت سے اپنی باز نہ آئیں گے وہ کبھی
دیکھے ہیں اُن کے ساتھ کئی دن گذار کے
قائم رہا نہ وعدوں کا اُن کے کوئی بھرم
قصّے خیالِ خام ہیں قول و قرار کے
دنیائے رنگ و بو کا یہ کیسا نظام ہے
گُل ساتھ ساتھ رہتے ہیں ہر وقت خار کے
ذہنی سکوں کسی کو مُیسر نہیں ہے آج
مارے ہوئے ہیں گردشِ لیل و نہار کے
جی چاہے جتنی مشقِ ستم اِس پہ کرلیں وہ
برقیؔ کو تجربے ہیں غمِ روزگار کے

دل تو لگتا نہیں ہمارا بھی ( مصرعہ طرح افتخار راغب ) دیا ادبی فورم کے ۷۹ویں آن لائن فی البدیہہ طرحی مشاعرے کے لئے میری کاوش احمد علی برقی اعظمی




 دیا ادبی فورم کے ۷۹ویں آن لائن فی البدیہہ طرحی مشاعرے کے لئے میری کاوش
احمد علی برقی اعظمی
زندگی کا ہے جو سہارا بھی
جیتے جی ہے اسی نے مارابھی
کاش اس کی مجھے خبر ہوتی
اس سے ملنے میں ہے خسارا بھی
ضرب کاری تھی اتنی سخت اس کی
چور ہوجائے سنگِ خارا بھی
آگیا دل نہ جانے کیوں اس پر
جس سے ملنا نہ تھا گوارا بھی
ہو گئی اُلٹی میری ہر تدبیر
کام آیا نہ استخارا بھی
میرا جس مہ جبیں پہ دل آیا
دلربا بھی تھا اور دلآرا بھی
کیا کریں اس سے بن ملے برقی
’’
دل تو لگتا نہیں ہمارا بھی‘‘


غالب اکیڈمی،نئی دہلی کے یوم تاسیس اور مرزا غالب کے ۱۵۱ ویں یوم وفات پرطرحی مشاعرہ کا انعقاد


                                            

غالب اکیڈمی،نئی دہلی کے یوم تاسیس اور مرزا غالب کے ۱۵۱ ویں یوم  وفات پرطرحی مشاعرہ کا انعقاد
            غالب اکیڈمی ہرسال مرزا غالب کی یوم وفات اور غالب اکیڈمی  کے یوم تاسیس کے موقع پر ادبی و ثقافتی تقریبات کا اہتمام کر تی آرہی  ہے جس کو بے حدسراہا جاتا رہا ہے۔اس سال بھی طرحی مشاعرے کا شاندارانعقاد کیا گیا۔ سکریٹری غالب اکیڈمی نے شعرا،مہمان و سامعین کا خیر مقدم کیا۔ مشاعرے کی صدارت عصر حاضر کے ذی وقار شاعر جناب وقارمانوی  نے کی اور نظامت کے فرائض معروف شاعرمعین شاداب نے ادا کئے۔ طرح کے تین مصرعے (1)گر نہ اندوہ ِشبِ فرقت بیاں ہو جائے گا (2)بے اعتدالیوں سے سبک سب میں ہم ہوئے (3)ہر قدم دوریِ منزل ہے نمایاں مجھ سے۔ ان تین طرحوں میں دہلی کے معروف و مشہور شعرا نے اپنا کلام پیش کیا۔اشعار پیش خدمت ہیں   ؎
جیسے بھی ہو ہمین بھی دکھا اپنی اک جھلک
ہم بھی کہیں کہ صاحبِ دیدار ہم ہوئے
وقار مانوی
جانے کس خطہئ عالم سے گزر ہے میرا
میں ہوں ایماں سے پریشاں میرا ایماں مجھ سے
جی آر کنول
بات کرنے لگے،ہر سیرت انساں مجھ سے
حامل ِ باطل وشر، سب ہیں پریشاں مجھ سے
ظفر مراد آبادی
شہریت کا مری جو مانگتے ہیں مجھ سے ثبوت
کچھ بتائیں تو سہی کیوں ہیں ہراساں مجھ سے
احمد علی برقی اعظمی
کارواں سب کچھ ہے میرا،وہ نہیں تو کچھ نہیں
وقت پر سب کچھ نثار کارواں ہوجائے گا
تابش مہدی
کیسے بتلاؤں جو پوچھے دل ناداں مجھ سے
 میں ہوں عالم سے کہ ہے عالم امکاں مجھ سے
 احمد محفوظ
جب تری یاد کے جگنو سر مژگاں چمکے
روشنی مانگنے آئی شبِ ہجراں مجھ سے
 جلیل نظامی (دوحہ قطر)
بے ثباتی تعلق کا یقین مجھ کو ہوا
میرے احباب ہوئے جب سے گریزاں مجھ سے
فصیح اکمل
ہے پریشان بہت فتنۂ  دوراں مجھ سے
اس نے دیکھے تھے کہاں سوختہ ساماں مجھ سے
نسیم عباسی
شاخ گل ہے یہ مرے ہاتھ میں شمشیر نہیں
جانے کیوں خوفزدہ ہیں یہ حریفاں مجھ سے
فاروق ارگلی
اہل جنوں کے واسطے تیغ و سناں سے کہا
 ہونٹوں پہ جاں تھی، حوصلے پھر بھی نہ کم ہوئے
شفا کجگاؤنوی
فضل سے میرے ہے شاداب گلستاں مجھ سے
رنگ ایک ایک کلی کا ہے نمایاں مجھ سے
سرفرازاحمد فراز
ایسی نظر پیار کی دونوں نے پیش کی
 مذہب کی فکر چھوڑ کے وہ ہم قدم ہوئے
ممتا کرن
کیوں کر اگے گا سبزہ یہاں کی زمین پر
عرصہ ہوا ہے گاؤں کی مٹی کو نم ہوئے
عمران عظیم
میرے دامن میں تو وحشت ہے جنوں ہے شاہد
 کیا سنور سکتی ہے تقدیرِ بیاباں مجھ سے
شاہد انور
ظلم بتلاؤں کسے وہ رازداں ہوجائے گا
 فاصلہ پھر اس کے میرے درمیاں ہوجائے گا
نسیم بیگم
بار بار آنا مرے ذہین پہ دستک دنیا
جانے کیا چاہتی ہے عمر گریزاں مجھ سے
جمیل مانوی
میری  آنکھوں نے سنواری ہے تری نوک پلک
یوں نگاہیں نہ بدل شہر نگاراں مجھ سے
شاہد انجم
زندگی ہے شرابوں کا تعصب یعنی
ہر قدم دوریئ منزل ہے نمایاں مجھ سے
سمیر دہلوی
عشق سے خالی اگر سارا جہاں ہوجائے گا
چاندنی بجھ جائے گی سورج دھواں ہوجائے گا
ارشد ندیم
ساری فضیلتیں نہیں ملتیں لباس سے
دستار اوڑھ کر بھی کب محترم ہوئے
معین شاداب
            آخر میں سکریٹری غالب اکیڈمی نے شعرا و شرکا اور سامعین کا شکریہ اداد کیا۔