yaad-e-raftagan لیبل والی اشاعتیں دکھا رہا ہے۔ سبھی اشاعتیں دکھائیں

نذرِ والِدِ محترم رحمت الٰہی برق اعظمی مرحوم احمد علی برقی اعظمی



نذرِ والِدِ محترم رحمت الٰہی برق اعظمی مرحوم
احمد علی برقی اعظمی
میرے والد کا ہے روحانی تصرف میرا فن
دیکھ سکتے کاش ان کی آپ ’’ تنویرِ سخن‘‘
گُلشنِ شبلی میں اُن کی ذات تھی مثلِ بہار
اُن کے گلہائے سخن سے روح پرور تھا چمن
اُن کی شہرت بس فصیلِ شہر تک محدود تھی
راس آتا ہی نہ تھا اُن کو زمانے کا چلن
پاسداری فکر و فن کی تھی انہیں بیحد عزیز
تھے کلاسیکی روایت پر ہمیشہ گامزن
بندشِ الفاظ میں اُن کا نہ تھا کوئی جواب
شخصیت تھی ان کی برقی فخرِ ابنائے وطن

بیادِ ناخدائے سخن میر تقی میر میرؔ اقلیم سخن کے تھے حقیقی تاجدار احمد علی برقیؔ اعظمی


بیادِ ناخدائے سخن میر تقی میر
میرؔ اقلیم سخن کے تھے حقیقی تاجدار
احمد علی برقیؔ اعظمی
شخصیت ہے میر کی دنیائے اردو کا وقار
اُن کی عصری معنویت آج بھی ہے برقرار
ضوفگن ہے جس سے بزمِ علم و دانش آج تک
بحرِذخارِ ادب کی تھے وہ دُرِ شاہوار
تھا یہاں پر میرؔ جیسا صاحبِ فکر و نظر
اہلِ دہلی کے لئے ہے باعثِ صد افتخار
میرؔ کا رنگِ تغزل بن گیا ان کی کی شناخت
مرزاغالبؔ کو بھی تھا ان کے سخن پر اعتبار
میرؔ کا ثانی نہ تھا کوئی بھی ان کے دور میں
میرؔ اقلیمِ سخن کے تھے حقیقی تاجدار
ہیں نقوشِ جاوداں اُن کے خزاں ناآشنا
گلشنِ اردو میں ان کی ذات ہے مثلِ بہار
تھی کسی کو بھی نہیں تابِ سخن ان کے حضور
تھے معاصر ان کے اُن کے سامنے مثلِ غبار
صرف برقیؔ ہی نہیں ان کے سخن کا قدرداں
سب مشاہیرِ سخن میں کرتے ہیں اُن کا شمار

بیادِ مرزا غالب ( آج ۲۷ دسمبر جن کا یوم تولد ہے) Remembering Mirza Ghalib On His Birth Anniversary


بیادِ مرزا غالب ( آج ۲۷ دسمبر جن کا یوم تولد ہے) Remembering Mirza Ghalib On His Birth Anniversary


Remembering Mirza Ghalib On His Birth Anniversary


یاد رفتگاں : بیاد پروین شاکر احمد علی برقی اعظمی



یاد رفتگاں : بیاد پروین شاکر
احمد علی برقی اعظمی
ہے یہاں آسودۂ خاک ایک ایسی شاعرہ
شہرۂ آفاق تھا جس کے سخن کا دایرہ
مرجع اہل نظر ہے اس کا آفاقی پیام
ناگہانی موت جس کی ہے ادب کا سانحہ
نام تھا پروین شاکر تھی جو ہر سو ضوفگن
منقطع ایسا ہوا وہ روشنی کا سلسلہ
اردو دنیا آج بھی ہے اس کے غم میں سوگوار
تلخ تھا جس کے لئے یہ زندگی کا ذایقہ
مظہرِ سوزِ دروں ہے اس کا معیاری کلام
جذبۂ نسواں کا جس کی شاعری ہے تجزیہ
فکر و فن کا آج بھی ہوتا جہاں اس کے اسیر
پیش آتا گر نہ اس کو ناگہانی حادثہ
مِل گئے برقی عزایم ساتھ اس کے خاک میں
کررہی تھی ندرتِ فکر و نظر کا تجزبہ


شاعرِ جادو بیاں تھے ڈاکٹر دھرمیندرناتھہ :یادِ رفتگاں : بیاد ڈ اکٹر دھرمیندرا ناتھ : احمد علی برقی اعظمی



یادِ رفتگاں : بیاد ڈ اکٹر دھرمیندرا ناتھ

احمد علی برقی اعظمی
شاعرِ جادو بیاں تھے ڈاکٹر دھرمیندرناتھہ
گنگا جمنی ہند کی تھے جو ثقافت کے امین
نعت گو شعرا پہ ہے تالیف ان کی شاہکار
دے جزائے خیر ان کو اس کی رب العالمین
ان کو اردو شاعری پر بھی تھا حاصل اک عبور
مرجعِ اہلِ نظر ہیں ان کی غزلیں بہترین
ان کی منظومات بھی ہیں فکر و فن کا شاہکار
بزم میں گرویدہ تھے غزلوں کے ان کی سامعین
شہرِ دہلی کی تھے ادبی محفلوں کی جان وہ
کرتے تھے ہموار جو فکری تناظر کی زمین
ریختہ پر بھی ہے اک محفوظ ان کا ویڈیو
جس سے ہونگے مدتوں محظوظ ان کے ناظرین
زیب تاریخ ادب ہوگا ہمیشہ ان کا نام
ہر طرف بکھرے ہوئے ہیں ان کے برقی شایقین



بیاد یوم سر سید : احمد علی برقی اعظمی



بیادِ یوم سرسید
احمد علی برقی اعظمی
یاد رکھیں یومِ سرسید ہے آج
ہے دلوں پر اہل دل کے جن کا راج
آج ہی پیدا ہوا وہ عبقری
جس نے بدلا وقت کا اپنے مزاج
کرگئے پیدا وہ اک فکری نظام
ختم کرکے سارے فرسودہ رواج
عہد میں اپنے جہالت کے خلاف
تھی بلند اُن کی صدائے احتجاج
زندۂ جاوید ہیں اُن کے نقوش
کام ایسے کرگئے بے تخت و تاج
جن کے دل میں ملک و ملت کا ہے درد
ہیش کرتے ہیں انھیں اپنا خراج
قوم کے تھے وہ حقیقی رہنما
معترف ہے کام کا اُن کے سماج
عصرِ حاضر میں بھی برقی اعظمی
ہے ضرورت اُن کے ہوں سب ہم مزاج

REMEMBERING UMAR QURAISH MARHOOM ON HIS BIRTH ANNIVERSARY ON 16TH SEPTEMBER AHMAD ALI BARQI AZMI


یادِ رفتگاں : بیادِ ڈاکٹر وزیر آغا مرحوم REMEMBERING DR. WAZEER AGHA ON HIS 7th DEATH ANNIVERSARY


یاد رفتگاں : یوم وصال آج ہے احمد فرازؔ کا یوم وفات : ۲۵ اگست۲۰۰۸ احمد علی برقیؔ اعظمی





یاد رفتگاں : یوم وصال آج ہے احمد فرازؔ کا
یوم وفات :
۲۵ اگست۲۰۰۸
احمد علی برقیؔ اعظمی
یومِ وصال آج ہے احمد فرازؔ کا
جن کے ہے معترف یہ جہاں امتیاز کا
سن دوہزار آٹھ سے وہ ہم سے دور ہیں
جن کا سخن مرقع تھا سوز و گداز کا
ہے گیسوئے عروسِ ادب آج خم بہ خم
جس کو ہے انتظار کسی کارساز کا
اردو غزل کی عہدِ رواں میں تھے آبرو
دھوکہ سخن پہ ہوتا تھا جن کے مجازؔ کا
رونق نہیں ہے محفل ناز و نیاز میں
محمود منتظر ہے کسی پھر ایاز کا
مہدی حسن تھے جس پہ ہمیشہ غزل سرا
اب پیرہن دریدہ ہے پردہ وہ ساز کا
برقیؔ غزل سے اُس کی جو کرتا تھا کسبِ فیض
محرم نہیں ہے آج کوئی اُس کے راز کا

یاد رفتگاں: عہدِ حاضر کے ممتاز اور بیدار مغز صحافی کلدیپ نیر کے سانحۂ ارتحال پر منظوم تاثرات تاریخ وفات : ۲۳ اگست ۲۰۱۸ احمد علی برقی ؔ اعظمی




یاد رفتگاں: عہدِ حاضر کے ممتاز اور بیدار مغز صحافی کلدیپ نیر کے سانحۂ ارتحال پر منظوم تاثرات
تاریخ وفات : ۲۳ اگست ۲۰۱۸ 
احمد علی برقی ؔ اعظمی
شخصیت کلدیپ نیر کی تھی اک تاریخ ساز
رہتی دنیا تک کرے گا ہر صحافی جن پہ ناز
عہدِ حاضر میں تھے وہ اردو صحافت کا ستون
اس صحافی کی صحافت کو تھا حاصل امتیاز
نبضِ دوراں پر بہت مضبوط تھی اُن کی گرفت
اُن کی ہر تحریر تھی سود و زیاں سے بے نیاز
اُن کے رشحاتِ قلم تھے ایک ایسا آئینہ
مُنعکس ہوتا تھا جن میں زندگی کا سو ز و ساز
عمر بھر تھا اُن کا حق گوئی و بیباکی شعار
تھا اسی میں اُن کی مُضمِر عالمی شہرت کا راز
گنگا جمنی ہند کی قدروں کے تھے وہ پاسباں
کرتے تھے وہ پیار سب سے مثلِ محمود و ایاز
مِٹ نہیں سکتے کبھی اُن کی صحافت کے نقوش
تھے وہ برقی ؔ اعظمی قول و عمل میں پاکباز

یاد رفتگاں : بیاد سابق وزیر اعظم ہند اتل بیہاری واچپئی احمد علی برقیؔ اعظمی पूर्व प्रधान मंत्री श्री अटल बिहारी वाजपेयी के निधन पर श्रद्धांजली डॉ. अहमद अली बर्क़ी आज़मी



पूर्व प्रधान मंत्री श्री अटल बिहारी वाजपेयी के निधन पर श्रद्धांजली 
डॉ. अहमद अली बर्क़ी आज़मी 
अटल बिहारी जो साबिक़ वज़ीर ए आज़म थे 
वह आज आलम ए फ़ानी से हो गए रुखसत 
उन्हें अज़ीज़ थी हर शै से अपनी इज़्ज़त ए नफ़्स 
था उनका क़ौल " उन्हें मौत से नहीं वहशत "
कई थे अहल ए सियासत जो आये और गए 
था उनका औज ए शराफ उनके इल्म की दौलत 
क़लम के थे जो धनी नेहरू और वाजपेयी 
जहां में उससे थी दोनों की आलमी शोहरत
थे अपने अहद के वह एक सुख़नवर ए मारूफ 
थी उनके रंग ए तग़ज़्ज़ुल में नुदरत व रफ़अत
था उनके नाम की ज़ीनत ख़िताब ए भारत रत्न 
शआर ए ज़िन्दगी उनका था जज़्बा ए खिदमत 
हमारे दरमियान बर्क़ी है उनका दरस ए अमल 
रहें गए मर के भी तारीख हिन्द की ज़ीनत


یاد رفتگاں : بیاد سابق وزیر اعظم ہند اتل بیہاری واچپئی
احمد علی برقیؔ اعظمی
اٹل بیہاری جو سابق وزیر اعظم تھے
وہ آج عالمِ فانی سے ہو گئے رخصت
اُنہیں عزیز تھی ہر شے سے اپنی عزتِ نفس
تھا ان کا قول ’’ اُنہیں موت سے نہیں وحشت ‘‘
کئی تھے اہلِ سیاست جو آئے اور گئے
تھا اُن کا اوج شَرَف ان کے علم کی دولت
قلم کے تھے جو دھنی نہرو ؔ اور واچپئیؔ
جہاں میں اُس سے تھی دونوں کی عالمی شہرت
تھے اپنے عہد کے وہ اک سخنورِ معروف
تھی اُن کے رنگِ تغزل میں نُدرت و رفعت
تھا اُن کے نام کی زینت خطابِ بھارت رتن
شعارِ زندگی اُن کا تھا جذبۂ خدمت
ہمارے درمیاں برقی ؔ ہے اُن کادرسِ عمل
رہیں گے مَر کے بھی تاریخِ ہند کی زینت

بیاد استاد محترم شادروان پروفسور عبدالودود اظہر دہلوی بزرگداشت استاد ارجمند شادروان عبدالودد اظہر دہلوی دکتر احمد علی برقیؔ اعظمی





بیاد استاد محترم شادروان پروفسور عبدالودود اظہر دہلوی
بزرگداشت استاد ارجمند شادروان عبدالودد اظہر دہلوی
دکتر احمد علی برقیؔ اعظمی
مظہر فہم و فراست بود اظہر دھلوی
گوھرِ گنجِ سعادت بود اظہر دھلوی
کرد شمعِ فارسی را ضوفشاں در طول و عرض
بر فرازِ اوجِ شہرت بود اظہر دھلوی
بود استادِ شفیقم ھرچہ من ھستم ازاوست
پیکرِ مہر و محبت بود اظہر دھلوی
بود در دھلی یکی از چہرہ ھای سرشناس
افتخارِ ملک و ملت بود اظہر دھلوی
باب ترویجِ زبان فارسی را باز کرد
دوستدار علم و حکمت بود اظہر دھلوی
بود دانشگاہِ نہرو از حضورش سرفراز
مرجعِ اہل بصیرت بود اظہر دھلوی

یاد رفتگاں : بیاد شکیل بدایونی مرحوم ( بمناسبت یوم تولد) احمد علی برقی اعظمی Remembering Shakeel Badauni On His Birth Anniversary


یاد رفتگاں ـ بیاد مولوی خدا بخش خان بانی خدا بخش لائبریری پٹنہ


یاد رفتگاں ـ بیاد مولوی خدا بخش خان بانی خدا بخش لائبریری پٹنہ
احمد علی برقی اعظمی
تھے خدا بخش محسنِ اردو
جن کا ممنون ہے جہانِ ادب
دے گئے ہم کو ایسی وہ میراث
ہوتے ہیں بہرہ مند جس سے سب
جو اکٹھا کئے تھے مخطوطات
ہیں بقائے ادب کا اپنے سبب
صدق دل سے یہی دعا ہے مری
ان پہ نازل ہو رحم و فضلِ ِ رب
ان کا یومِ وفات تین اگست
کیوں نہ برقی ہو وجہہِ رنج و تعب




بیادِ ممتاز فلمی اداکارہ مینا کماری تاریخ تولد: یکم اگست ۱۹۳۲۔ تاریخ وفات ۳۱مارچ ۱۹۷۲ :احمد علی برقی اعظمی




بیادِ ممتاز فلمی اداکارہ مینا کماری
تاریخ تولد: یکم اگست ۱۹۳۲۔ تاریخ وفات ۳۱مارچ ۱۹۷۲
احمد علی برقیؔ اعظمی
پیش کرتا ہوں میں اُس مینا کماری کو خراج
جو دلوں پر کرتی تھی اپنی اداکاری سے راج
مہ جبیں بانو سے جو مینا کماری بن گئی
دلبری اور دلنوازی کا تھا اس میں امتزاج
سن بہتّر میں جو اس دنیا سے رخصت ہو گئی
حکمراں ہے وہ دلوں پر آج بھی بے تخت و تاج
فلمی دنیا میں ہے جس کا شہرۂ آفاق نام
رہتی دنیا تک کریں گے پیش سب اس کو خراج
مِٹ نہیں سکتے کبھی اُس کے نقوشِ جاوداں
جیسے تھے مقبول کل وہ، ویسے ہیں مقبول آج
اُس اداکارہ کا سب سے منفرد انداز تھا
غمزدہ انسانیت کی تھی صدائے احتجاج
تھی اداکارہ وہ جیسی ویسی ہی تھی شاعرہ
غم کی اک ملکہ تھی،جس کا دردِ دل تھا لا علاج
’’جوار بھاٹا‘‘ اور ’’پاکیزہ‘‘ میں اپنے کام سے
کردیا پیدا دلوں میں اہل دل کے اختلاج
پردۂ سیمیں پہ تھیں جس کی ادائیں دلنواز
فلم بینوں کی تھی برقیؔ اعظمی وہ ہم مزاج


مئو کی تھے عظمت فضا ابن فیضی :احمد علی برقی اعظمی

نذرِ فضا ابن فیضی مرحوم
احمد علی برقی اعظمی
مئو کی تھے عظمت فضا ابن فیضی
تھے مخدومِ ملت فضا ابن فیضی
ہیں وردِ زباں ان کے شعری محاسن
تھے وجہہِ سعادت فضا ابن فیضی
عیاں ہے یہ رنگِ تغزل سے اُن کے
سخن کی تھے رفعت فضا ابن فیضی
ہیں ۶ شعری مجموعے اس کی شہادت
تھے بر اوجِ شہرت فضا ابنِ فیضی
سلاست کے پیکر، بلاغت کے مظہر
کمالِ فصاحت فضا ابن فیضی
سپہرِ ادب پر منور ہیں اب تک
بصد شان و شوکت فضا ابن فیضی
ہے اردو ادب اُن کا مرہونِ منت
ہے برقی صداقت فضا ابنِ فیضی
استاذ الشعراء حضرت فضا ابن فیضی

سن پیدائش 1922
سن وفات 2009
نام:فیضٰ لحسن،تخلض۔فضاؔ،خلف رشید جناب مولوی منظورا لحسن صاحب
تلمیذ:حضرت مولانا فیضٰ لحسن صاحب فیضؔ
                 صاف رنگ، سوکھا ہوا کمزور بدن،موزوقد،معصوم چہرہ،منکسرالمزاج، آنکھوں پر دبیز شیشہ کی عینک، پست آواز بلند فکر ایک عہد آفریں شاعر جو برِّ صغیر ہند و پاک کے لئے محتاجِ تعارف نہیں ۔اپنے بارے میں خود ہی کہتے ہیں۔

کانٹا ہو مگر رنگ و بو رکھتا ہوں
پیاسا ہوں مگر جوشِ سبو رکھتا ہوں
شاداب نہیں گو مرا پیکر لیکن
نبضوں میں بہاروں کا لہو رکھتا ہوں

مدرسہ فیض عام مئو کے فارغ التحصیل ہیں۔منشی،مولوی،عالم و فاضل ہیں۔ اردو فارسی اور عربی تینوں زبانوں میں مہارت رکھتے ہیں۔فنِ عروض کے  کےماہر،شعروادب کے دلدادہ،بڑے پختہ کار اور صاحب نظر ہیں۔مئو ناتھ بھنجن کے شاعروں اور ادیبوں کے مذاق کی بلندی اور شائستگی آپ ہی کی دین ہے۔
نظموں اور غزلوں میں آپ کے جدید تجربے، نئی نئی تر کیبیں، خوبصورت بندشیں،دلآویز تشبیہیں اردو ادب میں اضافے کی حیثیت رکھتی ہیں۔
زند گی اور اس کی نزاکتوں پر گہری نظر رکھتے ہیں،دیکھئے کتنے حسین انداز میں کہتے ہیں۔

چھونے والے تو اسے موجِ صبا بن کے نہ چھو
زندگی پھول کی پتیّ ہےبکھر جائے گی

زبان و بیان کی شوخی اور طرزِ ادا کی جدّت ملاحظہ کیجئے۔

یہ موجِ رنگ کہیں پیرہن سے رکتی ہے
بدن تمام ہے سیّال چاندنی کی طرح

اس نحیف و نا تواں شاعر کا یہ حوصلہ بھی قابلِ رشک ہےجو دوسروں کے غم کو بھی اپنا ہی غم سمجھتے ہوئے کہتے ہیں۔

میں وہ سر گستۂ آلام زمانہ ہو فضاؔ
غم کسی کا ہو مرے رُخ سے عیاں ہوتا ہے

صرف اتناہی نہیں بلکہ نہایت جرأت کے ساتھ یہ بھی کہہ گزرے کہ۔

پھونک دے اے تپِ عصرِ حاضر مجھے
لوگ بے چین ہیں روشنی کے لئے 

اس کے با و جود جب عوام کی بے حِسی اور نا قدر شناسی پر نگاہ پڑتی ہے تو بڑے افسوس کے ساتھ اپنے تاثرات کا یوں اظہار کرتے ہیں کہ۔

یہ سوچتا ہوں کہ ہے کوئی پڑھنے والا بھی
مرے قلم نے تو لکھنے کو لکھ دیا ہے بہت

اور یہ حقیقت ہے کہ اپنے ہمعصروں میں جناب فضا ابن فیضیؔ نے جتنا کچھ لکھ دیا ہے ابتک کسی نے نہیں لکھا۔



یاد رفتگاں : بیادمنشی پریم چند :احمد علی برقیؔ اعظمی تاریخ تولد: ۳۱ جولائی ۱۸۸۰ تاریخ وفات : ۸ اکتوبر ۱۹۳۶



یاد رفتگاں : بیادمنشی پریم چند
احمد علی برقیؔ اعظمی
تاریخ تولد: ۳۱ جولائی ۱۸۸۰
تاریخ وفات : ۸ اکتوبر ۱۹۳۶
اردو ادب کی شان تھے منشی پریم چند
اہلِ نظر کی جان تھے منشی پریم چند
اردو میں روح عصر ہیں ان کی نگارشات
خوش فکر و خوش بیان تھے منشی پریم چند
اجداد اُن کے گرچہ قدامت پسند تھے
پَر فکر سے جوان تھے منشی پریم چند
کرداروں کے وسیلے سے ان کی زبان میں
لوگوں کے ترجمان تھے منشی پریم چند
’گودان‘ ہو ’غبن ‘ ہو کہ ’بازار حُسن ‘ ہو
فنکار اک مہان تھے منشی پریم چند
بیحد عزیز تھی اُنھیں انسان دوستی
انسان مہربان تھے منشی پریم چند
سینے میں جن کے برقیؔ تھا اک دردمند دل
وہ حامئ کسان تھے لنشی پریم چند



یادِ رفتگاں : بیادِ جانی واکر(جن کی آج بتاریخ ۲۹ جولائی برسی ہے)




یادِ رفتگاں : بیادِ جانی واکر(جن کی آج بتاریخ ۲۹ جولائی برسی ہے)
احمد علی برقی اعظمی

جانی واکر جو ہنساتے تھے کبھی
اب نہیں ہیں تو رلاتے ہیں ہمیں

اُن کے کردار جو ہیں وِردِ زباں
اُن کی اب دلاتے ہیں ہمیں

ذہن میں زندہ دلی کے ہیں نقوش
آج بھی یاد جو آتے ہیں ہمیں

پردۂ فیلم پہ ان کے افکار
خوابِ غفلت سے جگاتے ہیں ہمیں


بس میں کنڈکٹری کرتے تھے کبھی
اب بھی وہ راہ دکھاتے ہیں ہمیں

ہنستے ہنستے وہ اداکاری میں
قصۂ درد سناتے ہیں ہمیں

اپنی فیلموں میں اشاروں سے کبھی
ایسا لگتا ہے بلاتے ہیں ہمیں

ایسے فنکار تھے برقی اب بھی
کھلکھلا کر جو ہنساتے ہیں ہمیں