hamd-naat-manqabat لیبل والی اشاعتیں دکھا رہا ہے۔ سبھی اشاعتیں دکھائیں

Ahmad Ali Barqi Azmi Recites His Naat in The Online International Natia Mushaira Of Sukhanwar Chicago





Ahmad Ali Barqi Azmi Recites His Naat in The Online International Natia Mushaira Of Sukhanwar Chicago

Hidayat Ki Roshni - Ahmad Ali Barqi Azmi (india) | Naat E Rasool By Urdu Shayari | Urdu Shayari









Hidayat Ki Roshni - Ahmad Ali Barqi Azmi (india) | Naat E Rasool By Urdu Shayari | Urdu Shayari

دن رات گذاریں گے سرکار کی مدحت میں ۔ عبدالرحیم حزیں اعظمی کے زیرِ صدارت بزم سخنواراں کے ۲۱۷ ویں عالمی آنلاین فی البدیہہ نعتیہ طرحی مشاعرے کے لئے میری طبع آزمائی احمد علی برقی اعظمی


عبدالرحیم حزیں  اعظمی کے زیرِ صدارت بزم سخنواراں کے ۲۱۷ ویں عالمی آنلاین فی البدیہہ نعتیہ طرحی مشاعرے کے لئے میری طبع آزمائی
احمد علی برقی اعظمی
محبوب خدا ہیں وہ ہم جن کی ہیں امت میں
” دن رات گذاریں گے سرکار کی مدحت میں “
کرتا ہوں جو پیش ان کو اشعار کی صورت میں
خوشبوئے محبت ہے گُلہائے عقیدت میں
اظہار محبت ہے خلاق دوعالم کا
واللیل اذا یغشی قرآن کی آیت میں
مشغول زیارت ہیں جو گنبد خضرا کی
ہیں شاہ وگدا یکساں دربار رسالت میں
ہیں رحمتِ عالم وہ شیدا ہے خدا جن کا
کام آئیں گے محشر میں وہ سب کی شفاعت میں
تخلیقِ دوعالم کا سہرا ہے اُنہیں کے سر
سب لوح و قلم اُن کے ہیں سایۂ رحمت میں
کرسکتا نہیں کوئی توصیف رقم اُن کی
جو کچھ بھی لکھا جائے سرکار کی  مِدحت میں
بھائی ہیں حزیں میرے ہے فخر مجھے ان پر
یہ نعت کی محفل ہے اب جن کی صدارت میں
معراج کا اے برقی حاصل ہے شَرَف جن  کو
ہوگی نہ کمی واقع اُن کی کبھی عظمت میں


دن رات گذاریں گے سرکار کی مدحت میں ۔ عبدالرحیم حزیں اعظمی کے زیرِ صدارت بزم سخنواراں کے ۲۱۷ ویں عالمی آنلاین فی البدیہہ نعتیہ طرحی مشاعرے کے لئے میری طبع آزمائی احمد علی برقی اعظمی



عبدالرحیم حزیں  اعظمی کے زیرِ صدارت بزم سخنواراں کے ۲۱۷ ویں عالمی آنلاین فی البدیہہ نعتیہ طرحی مشاعرے کے لئے میری طبع آزمائی
احمد علی برقی اعظمی
محبوب خدا ہیں وہ ہم جن کی ہیں امت میں
دن رات گذاریں گے سرکار کی مدحت میں
کرتا ہوں جو پیش ان کو اشعار کی صورت میں
خوشبوئے محبت ہے گُلہائے عقیدت میں
اظہار محبت ہے خلاق دوعالم کا
واللیل اذا یغشی قرآن کی آیت میں
مشغول زیارت ہیں جو گنبد خضرا کی
ہیں شاہ وگدا یکساں دربار رسالت میں
ہیں رحمتِ عالم وہ شیدا ہے خدا جن کا
کام آئیں گے محشر میں وہ سب کی شفاعت میں
تخلیقِ دوعالم کا سہرا ہے اُنہیں کے سر
سب لوح و قلم اُن کے ہیں سایۂ رحمت میں
کرسکتا نہیں کوئی توصیف رقم اُن کی
جو کچھ بھی لکھا جائے سرکار کی  مِدحت میں
بھائی ہیں حزیں میرے ہے فخر مجھے ان پر
یہ نعت کی محفل ہے اب جن کی صدارت میں
معراج کا اے برقی حاصل ہے شَرَف جن  کو
ہوگی نہ کمی واقع اُن کی کبھی عظمت میں

کی خدا نے مصطفیٰ ﷺ کی وہ پذیرائی کہ بس : بشکریہ ادب و ادیب نواز ناظم شعرو سخن ڈاٹ نیٹ ،کناڈا محترم سردار علی صاحب

کی خدا نے مصطفیﷺ کی وہ پذیرائی کہ بس : بشکریہ ادب و ادیب نواز ناظم شعرو سخن ڈاٹ نیٹ ،کناڈا محترم سردار علی صاحب

ممکن نہ تھا جو کرکے دکھایا حسین نے : کُنج ادب انٹرنیشنل گروپ کے پانچویں فی البدیہہ طرحی مشاعرے بنام سید الشہدا حضرت امام حسین ؓ کے لئے میری نذر عقیدت احمد علی برقی اعظمی




کُنج ادب انٹرنیشنل گروپ کے پانچویں فی البدیہہ طرحی مشاعرے بنام سید الشہدا حضرت امام حسین ؓ کے لئے میری نذر عقیدت
احمد علی برقی اعظمی
ممکن نہ تھا جو کرکے دکھایا حسین نے
ناموسِ مصطفیٰﷺ کو بچایا حسین نے
جو اپنا فرض تھا وہ نبھاتے چلے گئے
دیکھا نہ کچھ بھی اپنا پرایا حسین نے
نقشِ قدم پدر کا پسر کو بھی تھا عزیز
سجدے میں اپنے سر کو کٹایاحسین نے
بچے ،جوان، بوڑھے سبھی ہوگئے شہید
جو کچھ تھا اپنے پاس لُٹایا حسین نے
کس کا لقب ہے سیدِ شُبان خُلد میں
جو پاسکا نہ کوئی وہ پایا حسین نے
شہدائے کربلا کے ہے خوں سے ہرا بھرا
گلزارِ دیں کو ایسے سجایا حسین نے
’’ قتلِ حسین اصل میں مرگِ یزید ہے ‘‘
سچ کرکے اس کو رَن میں دکھایاحسین نے
برقی رہیں گے زندۂ جاوید حشر تک
ایسا جہاں میں نام کمایا حسین نے

حمد باری تعالی احمد علی برقیؔ اعظمی : بشکریہ : ناظم عالمی ادبی گروپ ’’ صبا آداب کہتی ہے ‘‘ جناب امین جس پوری





حمد باری تعالی
احمد علی برقیؔ اعظمی
ہے تو ہی عالم آرا پروردگار عالم
ہرسو ترا نظارا پرورگار عالم
کیسے کروں گذارا پروردگار عالم
بس ہے ترا سہارا پروردگار عالم
مختار کُل تو ہی ہے محتاج سب ہیں تیرے
کچھ بھی نہیں ہمارا پروردگار عالم
فضل و کرم سے اپنے تو بخش دے وہ مجھ کو
جو ہو تجھے گوارا پروردگار عالم
ہے بحرِ بیکراں میں جس کا گِھرا سفینہ
ملت ہے بے سہارا پروردگار عالم
میں گُل سمجھ رہا تھا جوشِ جنوں میں جس کو
ہے مثلِ سنگِ خارا پروردگار عالم
کر سکتا ہے مسخر تو دل کو اُس کے جس سے
میں جیت کر بھی ہارا پروردگار عالم
اظہارِ مدعا کیا اپنا کروں میں تجھ سے
ہے تجھ پہ آشکارا پروردگار عالم
فضل و کرم کا تیرے محتاج ہے یہ برقیؔ
رنج و الم کا مارا پروردگار عالم

ہرصاحب ایماں کو ہو رمضان مبارک : ہفت روزہ فیس بُک ٹائمز کے زیرِ اہتمام ۸۶ ویں عالمی آنلاین فی البدیہہ طرحی مشاعرے کے لئے میری طبع آزمائی احمد علی برقی اعظمی





ہفت روزہ فیس بُک ٹائمز کے زیرِ اہتمام ۸۶ ویں عالمی آنلاین  فی البدیہہ طرحی مشاعرےکے لئے میری طبع آزمائی
احمد علی برقی اعظمی
ہرصاحب ایماں کو ہو رمضان مبارک
تسبیح و تراویح کا فیضان مبارک
رمضان جو اسلام کی ہے شان مبارک
جو جملہ عبادات کی ہے جان مبارک
اللہ کا بندوں پہ یہ احسان مبارک
تسکینِ دل و روح کا سامان مبارک
روحانی غذا سب کو جو کرتا ہے فراہم
ہر سال میں اک ماہ کا مہمان مبارک
اس ماہِ مبارک کو یہ حاصل  ہے فضیلت
نازل ہوا جو اس میں وہ قرآن مبارک
مسجد میں ہیں محمود و ایاز ایک ہی صف میں
یہ عدل و مساوات کی میزان مبارک
قرآن مجسم ہے جو حفاظ کا سینہ
اس سینے کوگجینۂ عرفان مبارک
ہرشخص کو رمضان کی برکات ہوں حاصل
برقی کو بھی ہو اس کا یہ فیضان مبارک



’’ نظروں میں مری آج بھی عالم ہے وہیں کا ‘‘ ـ زکی کیفی کی زمین میں انحراف کے ۳۷۰ ویں عالمی آنلائن فی البدیہہ طرحی مشاعرے کےلئے میری نعتیہ کاوش : احمد علی برقی اعظمی



زکی کیفی کی زمین میں انحراف کے ۳۷۰ ویں عالمی آنلائن فی البدیہہ طرحی مشاعرے کےلئے میری نعتیہ کاوش
احمد علی برقی اعظمی
ہر وقت تصور ہے مدینے کی زمیں کا
’’ نظروں میں مری آج بھی عالم ہے وہیں کا ‘‘
محرومِ سعادت کوئی ہوتا نہیں جس سے
فیضان ہے وہ گنبدِ خضری کے مکیں کا   
معراج کا حاصل یے شَرف صرف اُنھیں کو
ہے کوئی سفر جس نے کیا عرشِ بریں کا
محبوب و مُحِب تھے شبِ معراج وہاں پر
جس جا نہ گذر ہوسکا جبریلِ امیں کا
تخلیق دوعالم کا سبب ذات ہے جن کی
ہے جلوہ فگن نور اسی نورِ مبیں کا
تا عمر امانت میں نہ کی جس نے خیانت
کیا نام سنا آپ نے ہے ایسے امیں کا
تاریخ کے صفحات سے جو محو نہ ہوگا
شق القمر اعجاز ہے اک خاک نشیں کا
ہے سایہ فگن نورِ نبی لوح و قلم پر
صدقہ ہے یہ کونین اسی سرورِ دیں کا
جو ان کی شفاعت کا طلبگار نہیں ہے
کونین میں برقی نہ رہے گا وہ کہیں کا



سفرِ حج و مدینے کی دعائیں مانگوں : فیس بک ٹائمز انٹرنیشنل کی محفل نعت کے ۲۷ ویں سلسلے کے لئے میری نذرِ عقیدت و روداد دل: احمد علی برقی اعظمی



فیس بک ٹائمز انٹرنیشنل کی محفل نعت کے ۲۷ ویں سلسلے کے لئے میری نذرِ عقیدت
احمد علی برقی اعظمی
سفرِ حج و مدینے کی دعائیں مانگوں
پھر وہیں مرنے و جینے کی دعائیں مانگوں
جاکے میں ساقیٔ کوثر کے درِ دولت پر
مئے عرفاں وہاں پینے کی دعائیں مانگوں

حجر اسود کی زیارت کی سعادت ہو نصیب
زندگی چین سے جینے کی دعائیں مانگوں
کشتیٔ عمرِ رواں جس میں ہو محفوظ مری
میں وہاں ایسے سفینے کی دعائیں مانگوں
نورِ عرفاں کی تجلی سے رہے جو معمور
ایسے پُرنور میں سینے کی دعائیں مانگوں
دین و دنیا کی سعادت ہو میسر جس سے
ایسے جینے کے قرینے کی دعائیں مانگوں
ہے جو روحانی ترقی کا وسیلہ برقی
ایسے جاکر وہاں زینے کی دعائیں مانگوں

نذرَ سید الشہدا حضرت امام حسین رضی اللہ تعالی عنہ







’’ دینَ محمدی کو بچایا حسین نے ‘‘ : سائبان ادبی گروپ کے ۹۰ ویں عالمی منقبتی مشاعرے کے لئے میری نذرِ عقیدت بحضور سید الشہدا حٖضرت امام حسین رضی اللہ تعالی عنہ : احمد علی برقی اعظمی


سائبان ادبی گروپ کے ۹۰ ویں عالمی منقبتی مشاعرے کے لئے میری نذرِ عقیدت بحضور سید الشہدا حٖضرت امام حسین رضی اللہ تعالی عنہ
احمد علی برقی اعظمی
جوفرضِ عین تھا وہ نبھایا حسین نے
’’ دینَ محمدی کو بچایا حسین نے ‘‘
خونِ جگر سے سینچ کے میدانِ کربلا
گلزارِ دینِ حق کو سجایا حسین نے
شایاں ہے ان کو سیدِ شبان کا خطاب
جو پاسکا نہ کوئی وہ پایاحسین نے
’’ قتلِ حسین اصل میں مرگِ یزید ہے ‘‘
سچ کرکے اس کو رن میں دکھایا حسین نے
سردے کے راہ حق میں ہیں تاحشر سُرخرو
باطل کے آگے سر نہ جُھکایا حسین نے
نام و نشاں یزید کا باقی نہیں ، جسے
حَرفِ غَلط کی طرح مِٹایا حسین نے
اسلام کی بقا سے نہیں بڑھ کے اپنی جان
حسنِ عمل سے اپنے جتایا حسین نے
شیرِ خدا دکھاتے تھے جو رزمگاہ میں
برقی وہ کام کرکے دکھایا حسین نے





حسین ہائے حسین : آئینے میں راستہ گروپ کی مجلس مسالمہ کے مصرعہ طرح پر میری نذرِ عقیدت بحضور سیدنا حضرت امام حسین رضی اللہ عنہ : احمد علی برقی اعظمی



آئینے میں راستہ گروپ کی مجلس مسالمہ کے مصرعہ طرح پر میری نذرِ عقیدت بحضور سیدنا حضرت امام حسین رضی اللہ عنہ
احمد علی برقی اعظمی
جو کربلا میں تھا تنہا حسین ہائے حسین
’’ چراغ مرقدِ زہرا حسین ہائے حسین ‘‘
نبی کا تھا جو نواسہ علی کا نورِ نظر
تھا سب کو جاں سے جو پیارا حسین ہائے حسین
شہید ہوگیا دینِ نبی کی حُرمت پر
غم و الم کا وہ مارا حسین ہائے حسین
سبھی کو آج رُلاتا ہے خون کے آنسو
وہ بیکسوں کا سہارا حسین ہائے حسین
کرے وہ دستِ یزیدِلعین پر بیعت
نہ تھا اُسے یہ گوارا حسین ہائے حسین
ہے مجتہد کی زباں گُنگ کیا بیان کرے
دل و جگر ہوئے پارا حسین ہائے حسین
ہیں غم میں آج جو شہدائے کربلا کے شریک
سبھی نے رو کے پُکارا حسین ہائے حسین
نہ سوگوار ہوں برقی وہ غم میں کیوں اُس کے

ہے جن کی آنکھ کا تارا حسین ہائے حسین

: کس طرح کروں ذکر میں محبوبِ خدا کاہفت روزہ فیس بک ٹائمز کے ۵۳ ویں خصوصی عالمی نعتیہ فی البدیہہ طرحی مشاعرے کے لئےمیری نعتِ سرورِ کائنات فخر موجودات احمد مجتبی حضرت محمد مصطفی صلی اللہ علیہ وسلم



ہفت روزہ فیس بک ٹائمز کے ۵۳ ویں خصوصی عالمی نعتیہ فی البدیہہ طرحی مشاعرے کے لئےمیری نعتِ سرورِ کائنات فخر موجودات احمد مجتبی حضرت محمد مصطفی صلی اللہ علیہ وسلم
 احمد علی برقی اعظمی
کس طرح کروں ذکر میں محبوبِ خدا کا
حق کیسے کروں  اُن کی ادا مدح و ثنا کا
ان کے ہی وسیلے سے دوعالم کو ملا ہے
پیغام جہاں کو جو دیا رشدو ہدیٰ کا
خلاقِ دوعالم سے یہی میری دعا ہے
’’ ہونٹوں  پہ مرے ذکر رہے صلِ علیٰ کا ‘‘
وہ شافعِ محشر ہیں جسے چاہیں نوازیں
محتاج ہے ہر شاہ و گدا اُن کی عطا کا
اُس ذاتِ گرامی کا نہیں کوئی بھی ہمسر
معراج میں حاصل تھا جسے قُرب خدا کا
واللیل اِذا یغشیٰ ہے اس بات کی شاہد
محبوب کی عاشق ہے مُحِب زُلفِ دوتا کا
قرآن و احادیث کی صورت میں ہے برقی
جو درس مِلا اُن سے ہمیں مہر و وفا کا

فیس بک ٹائمز کی اردو نوازی کو سلام
جاری و ساری رہے اس کا یونہی یہ فیض عام
اس کی بزم آرائیاں ہوتی ہیں برقی دلنواز
دیکھنے کو ملتے ہیں پُرکیف و معیاری کلام



ہفت روزہ فیس بُک ٹائمز کے ۵۳ ویں خصوصی نعتیہ عالمی فی البدیہہ طرحی مشاعرے کے لئے میری نذرِ عقیدت بحضور سرور کائنات فخر موجودات احمد مجتبی حضرت محمد مصطفی ﷺ: احمد علی برقی اعظمی



ہفت روزہ فیس بُک ٹائمز کے ۵۳ ویں خصوصی نعتیہ عالمی فی البدیہہ طرحی مشاعرے کے لئے میری نذرِ عقیدت بحضور سرور کائنات فخر موجودات احمد مجتبی حضرت محمد مصطفی
احمد علی برقی اعظمی
کس طرح کروں ذکر میں محبوبِ خدا کا
حق کیسے کروں  اُن کی ادا مدح و ثنا کا
ان کے ہی وسیلے سے دوعالم کو ملا ہے
پیغام جہاں کو جو دیا رشدو ہدیٰ کا
خلاقِ دوعالم سے یہی میری دعا ہے
’’ ہونٹوں  پہ مرے ذکر رہے صلِ علیٰ کا ‘‘
وہ شافعِ محشر ہیں جسے چاہیں نوازیں
محتاج ہے ہر شاہ و گدا اُن کی عطا کا
اُس ذاتِ گرامی کا نہیں کوئی بھی ہمسر
معراج میں حاصل تھا جسے قُرب خدا کا
واللیل اِذا یغشیٰ ہے اس بات کی شاہد
محبوب کی عاشق ہے مُحِب زُلفِ دوتا کا
قرآن و احادیث کی صورت میں ہے برقی
جو درس مِلا اُن سے ہمیں مہر و وفا کا





کی خدا نے مصطفی کی وہ پذیرائی کہ بس نعت رسول مقبول ﷺ : احمد علی برقی اعظمی



نعتِ رسول مقبول صلی اللہ علیہ وسلم
شاعر : ڈاکٹر احمد علی برقی 
کی خدا نے مصطفی  کی وہ پذیرائی کہ بس
ان کی کی عالم میں ایسی عزت افزائی کہ بس

رحمت الللعالمیں کا بخش کر ان کو لقب
ان کی کی عالم میں ایسی عزت افزائی کہ بس

ان کی عملی زندگی کی ہیں یہ دلکش شاہکار
ہے احادیث نبی میں ایسی دانائی کہ بس

رکھتے ہیں جو اپنے جان و دل سے بھی ان کو عزیز
ہیں محمد مصطفی کے ایسے شیدائی کہ بس

کون ہے دشنام سن کر بھی جو دیتا ہے دعا 
ان کے حسن خلق میں تھی وہ دل آرائی کہ بس

خود سے بے خود کر دیا ان کے تصور نے مجھے
ذہن و دل پہ ایسی یاد مصطفیٰ چھائی کہ بس

سورہ والیل پڑھ کر جھوم اٹھے ہیں اہل دل
ان کی زلفوں کی خدا نے یوں قسم کھائی کہ بس

دامن ِ دل کھینچتی ہے سب کا وہ اپنی طرف
گلشن ِ اسلام میں ہے ایسی پروائی کہ بس

وجد کرتے تھے صحابہ دیکھ کر ان کا خلوص
روح پرور ان کی ایسی تھی جبیں سائی کہ بس

ہیں وہی شمس الضحی بدرلدجٰی نور الہدیٰ
ذات اقدس میں ہے ان کے ایسی رعنائی کہ بس

سن کے تھے کوہ صفا سے دم بخود اہل عرب
ایسی جامع آپ نے تقریر فرمائی کہ بس

جانی دشمن بھی انہیں برقی سمجھتے تھے امین
ان کے قول و فعل میں تھی ایسی گیرائی کہ بس