میں جہاں ہوں ہم وطنو جانے کیسی بستی ہے : احمد علی برقی اعظمی


ہرایک شخص تمھارے لئے پرایا ہے : احمد علی برقی اعظمی


ہمیشہ ملتا ہے کیوں مجھ سے اجنبی بن کر : احمد علی برقی اعظمی


نخلِ حیات کے مرے برگ و ثنر بدل گئے : احمد علی برقی اعظمی


درکار نہیں مجھ کو کوئی تیرے سوا اور : احمد علی برقی اعظمی


میری اور اس کی کہانی اور ہے : احمد علی برقی اعظمی


جس طرف دیکھو اُدھر اک حشر برپا ہوگیا : احمد علی برقی اعظمی


لوگ جیسے عالمِ محشر میں ہوں : احمد علی برقی اعظمی


بے رخی اُن کی یہ عادت تو نہیں : احمد علی برقی اعظمی


تھے جتنے اپنے شناسا ہیں آزمائے ہوئے : احمد علی برقی اعظمی


وہ مجھے بھول گیا مجھ سے بُھلایا نہ گیا : احمد علی برقی اعظمی


خانۂ دل سے مرے اور کہاں جائیں گے آپ : احمد علی برقی اعظمی


اچانک اس نے بُلایا تو آنکھ بھر آئی :احمد علی برقی اعظمی


سکون قلب کسی کو نہیں میسر آج : احمد علی برقی اعظمی


ناز و ادا سے ہوش سبھی کے اُڑا گئے : احمد علی برقی اعظمی