عشق نگر اردو شاعری گروپ کے زیر اہتمام بتاریخ ۱۳ جولائی ۲۰۱۸ ایک سہانی شام برقی اعظمی کے نام





عشق نگر اردو شاعری گروپ کے زیر اہتمام بتاریخ ۱۳ جولائی ۲۰۱۸ ایک سہانی شام برقی اعظمی کے نام

ٹھنڈی ہوائیں ،بادل ،بارش اور برق (آسمانی بجلی جسے صاعقہ بھی کہتے ہیں )سے کون واقف نہیں ۔ٹھنڈی ہوا سردی میں بھی اچھی لگتی ہے ۔بادل سرمئی ہوں یا سفید ، دل کو لبھاتے ہیں اور بارش تو کسی بھی صاحب دل کو پاگل بنا سکتی ہے ۔
ہمارا آج کا موضوع گفتگو "برق " ہے ۔بعض لوگ گھریلو بجلی کو برق بولتے ہیں ۔
دراصل برق کا لفظی مطلب " تیزی " "چمک "اور کوندا بھی ہے ۔
براق جو نبی پاک کی سواری بنی ،اس کا نام بھی براق اس کی تیز رفتاری کے سبب ہوا ۔
خیر ہم بات برق کی کر رہے ہیں ۔برق جلا سکتی ہے ۔ خاکستر کر سکتی ہے ۔آنکھوں کو چندھیا دیتی ہے اور ماحول ایک دم روشن کرتی ہے اور غائب ہو جاتی ہے ۔
ہم آج آپ سے ایک ایسی شخصیت کو ملوا رہے ہیں جو نا صرف ایسی ہی صفات سے متصف ہیں بلکہ *برقی * کہلاتے بھی ہیں ۔
جی ہاں ۔ ۔ ۔ ہم واقعی "احمد علی برقی " کا ہی ذکر خیر فرما رہےہیں ۔
آئیے ملتے ہیں اس عظیم شاعر سے کہ جو محفل میں آ جائے تو اکثر دیے بجھ جاتے ہیں ۔کئی شمعیں گل ہو جاتی ہیں ۔کتنے ہی چراغوں کی لو تھرتھرانے لگتی ہے ۔
آپ کا اصل نام :۔ احمد علی ،، قلمی نام: ۔برقی اعظمی اور تخلص:۔ برقی ؔہے ۔
آپ :۔یوم شنبہ، 25؍دسمبر(جو کہ قائد اعظم محمد علی جناح اور حضرت عیسیٰ کی تاریخ پیدائش بھی ہے ) 1953 کو اعظم گڑھ میں پیدا ہوئے ۔
احمد علی برقی اعظمی نے اپنی تعلیم ابتدائیہ سے لے کر کالج تک شبلی کالج اعظم گڑھ میں محاصل کی ۔ وہاں سے اردو میں( ایم اے ) ماسٹرس کرنے کے بعد سنہ 1977میں وہ دہلی چلے آئے اور وہاں جواہرلال نہرو یونیورسٹی سے فارسی میں ایم اے اور پی ایچ ڈی کی ڈگری حاصل کی ۔ اور 1983 میں آل انڈیا ریڈیو کے شعبۂ فارسی سے منسلک ہوئے اور 31 دسمبر 2014 کو ملازمت سے سبکدوش ہوگئے۔
#برقی اعظمی نے اپنے والد محترم جناب رحمت الٰہی برق اعظمی ، جو دیار شبلی کے ایک باکمال صاحب طرز استاد سخن تھے، سے کسب فیض اور شعری تربیت حاصل کی۔ جن کا روحانی فیض برقی اعظمی کے مرصع
کلام کی صورت میں آج تک جاری و ساری ہے۔
برقی اعظمی کا اپنا ایک مخصوص لب و لہجہ ہے جو ان کے شعور فکر وفن کی شناخت ہے۔ برقی اعظمی نے اپنے فکر وفن سے غزل مسلسل کی صورت میں
روایتی اردو شاعری کو ایک جدید رنگ و آہنگ سے روشناس کیا جو ان کا طرۂ امتیازہے ۔ برقی اعظمی نے اپنا
شعری سفر موضوعاتی شاعری سے شروع کیا
اور ٢٠٠٣ سے چھ سال تک ان کی موضوعاتی نظمیں
سائنس، طب، حالات حاضرہ، آفات ارضی و سماو ی جیسے گلوبل وارمنگ، سونامی اور زلزلے وغیرہ سے متعلق دہلی سے شائع ہونے والے ماہنامہ سائنس میں مسلسل شائع ہوتی رہیں۔ بعد ازاں باقاعدہ اردو غزل نویسی کی طرف توجہ کی اورآج انٹرنیٹ کے وسیلے سے ان کی غزلیں اور نظمیں لوگوں کی لذت کام و دہن کا سامان فراہم کرتی ہیں۔ برقی اعظمی اردو کی مختلف ویب سائٹس اورادبی فورم سے کسی نہ کسی حیثیت سے وابستہ ہیں اور ان کا کلام اردو کی بیشتر ویب سائٹس پر دیکھا جاسکتا ہے۔ قارئين گوگل سرچ انجن پر برقی اعظمی لکھ کر ان کی انٹرنیٹ پر سرگرمیوں کے متعلق معلومات حاصل کرسکتے ہیں۔ برقی اعظمی آجکل فیس بک پر بہت فعال نظر آتے ہیں اوراس جدید وسیلہ ترسیل وابلاغ سے جو اقوام عالم سے رابطہ کا ایک بہترین ذریعہ ہے بحسن خوبی استفادہ کررہے ہیں۔ جہاں ان کی ایک ہزار سے زائد غزلیں اور نظمیں ان کے البم کی
شکل میں اس لنک پر دیکھی جاسکتی ہیں۔
https://www.facebook.com/media/set/…
برقی اعظمی جدید اردو غزل میں ، غزل مسلسل کو فروغ دینے میں ایک نمایاں کردار ادا کررہے ہیں ۔ بہ الفاظ دیگر یہ کہہ سکتے ہیں کہ بر قی اعظمی کو غزلِ مسلسل میں غیر معمولی مہارت حاصل ہے۔ ان کو فی البدیہہ غزلیں اور
منظوم تاثرات لکھنے پر بھی قدرت حاصل ہے ۔ اور وہ باقاعدگی کے ساتھ فیس بک پر موجود مختلف ادبی فورمز کے مشاعروں میں شریک ہوتے رہتے ہیں۔ اور کوئی دن ایسا نہیں گزرتا کہ وہ کوئی نہ کوئی نئی غزل فیس پر پوسٹ نہ کرتے ہوں۔
***ایک بار مرحوم عزم بہزاد نے لکھا تھا کہ اگر کسی دن برقی اعظمی کی غزلیں فیس بک پرنظر نہیں آتیں تو ناشتے کے دوران شدید تشنگی کا احسا س ہوتا ہے۔ گویا ان کی شاعری زندگی کے روزانہ معمول کاایک جزو لاینفک معلوم ہوتی ہے۔ میرے خیال میں ایک شاعرکے لئے اس سے بہترخراج تحسین
نہیں ہوسکتا۔ ***
#برقی اعظمی کے لوگوں کے کلام پر منظوم تاثرات بھی ان کی بدیہہ گوئی اور زبان و بیان پر مکمل دسترس کے آئینہ دار ہیں۔ اگر ان کے ان فی البدیہہ تاثرات کو یکجا کرلیا جائے تو بدیہہ گوئی سے متعلق ایک شعری مجموعہ منظر عام پہ آ سکتا ہے #
#ان کو جیسے ہی مشاہیر اردو کے یوم پیدائش یا برسی سے متعلق کوئی اطلاع ملتی ہے تو ان کا قلم خودبخود حرکت میں آجاتا ہے اور وہ یاد رفتگاں کے عنوان کےتحت اسے صفحہ قرطاس پر منتقل کردیتے ہیں اس طرح یاد رفتگاں
سے متعلق بھی ایک مجموعہ ترتیب دیا جاسکتا ہے ۔ #
خلاصہء کلام یہ کہ برقی اعظمی کا اشہب قلم صنف سخن کے ہر میدان میں یکساں جولانیاں دکھاتا ہے۔ جو ان کی
انفرادیت اور اردو شاعری میں جدید لب و لہجہ کا آئینہ دار ہے۔
کسی نامعلوم شاعر کا یہ شعر :
"یادگار زمانہ ہیں ہم لوگ
یاد رکھوفسانہ ہیں ہم لوگ"
برقی اعظمی کی شخصیت پر پوری طرح صادق آتا ہے ۔
اتنا کچھ ہونے کے باوجود بھی برقی اعظمی مقامی سطح پر غیر
معروف ہیں اور میر کی دلی میں گوشہء عزلت میں زندگی گزار رہے ہیں۔
جو ان کے اشعار سے ظاہر ہے۔
وہ لکھتے ہیں کہ ۔
*ہوتا زمانہ ساز تو سب جا نتے مجھے
کیا خوئے بے نیازی ہے دیوانہ پن مرا*
*
ویب سائٹوں پہ لوگ ہیں خوش فہمی کا شکار
نا آشنا وطن میں ہے رنگ سخن مرا*
ان کا یہ ذہنی کرب اس شعر میں بھی ملاحظہ ہو۔
*فصیل شہر سے باہر نہیں کسی کو خبر
بہت سے اہل ہنر یونہی مرگئے چپ چاپ*
آخر میں ہم دعا گو ہیں کہ مولا کریم آپ کو قدم قدم کامیابی عطا کرے اور آپ کا نام اردو کے حوالے سدا زندہ رہے ۔ ۔ ۔
دعا گو :
انتظامیہ عشق نگر
عشق نگر اردو شاعری گروپ کی برقی نوازی پرمنظوم اظہار امتنان و تشکر
احمد علی برقی اعظمی ، نئی دہلی
میں ہوں ممنونِ بزم، ’’ عشق نگر‘‘
ہے جو بزمِ ادب ادیب نواز
آج کی شام ہے جو میرے نام
ہے یہ میرے لئے بڑا اعزاز
یہ تعارف کا سلسلہ اس میں
اس کے حسنِ عمل کا ہے غماز
اس کی دلکش ہے بزم آرائی
منفرد جس کا سب سے ہے انداز
کرتی ہے سب کی عزت افزائی
باعثِ فخر اس کا ہے آغاز
فیس بک پر ہے یہ سفیر ادب
عالمی سطح پر ہے جو ممتاز
ہیں جوانسال اس کے جو ناظم
ہے بلند ان کے ذہن کی پرواز
جملہ احباب کا بھی ہوں ممنون
کامیابی کا ہیں جو اس کی راز
ہے دعا اس کے حق میں برقی کی
کرے اردو کی یہ بلند آواز

قطعہ بعنوان عرض حال
برقی اعظمی
عشق نگر کی ایک سہانی شام ہے جو برقی کے نام
اس کے لئے ہے اس کا تعارف بادۂ عشرت کا اک جام
عشق نگر ہے اس سے شناسا،اس کے لئے ہے یہ اعزاز
میرکی دلی میں رہتا ہے آج سخنور جو گمنام


عالمی ماہنامہ آسمان ادب جولائی ۲۰۱۸

تختۂ مشق ستم مجھ کو بنالے تو بھی: نوشی گیلانی کے مصرعہ طرح پر ہفت روزہ فیس بُک ٹائمز کے ۴۶ ویں عالمی آنلاین فی البدیہہ طرحی مشاعرے کے لئے میری طبع آزمائی


نوشی گیلانی کے مصرعہ طرح پر ہفت روزہ فیس بُک ٹائمز کے ۴۶ ویں عالمی  آنلاین فی البدیہہ طرحی مشاعرے کے لئے میری طبع آزمائی
احمد علی برقی اعظمی
تختۂ مشقِ ستم مجھ کو بنالے تو بھی
چاہتا ہے جو ستانا تو ستالے توبھی
جو بھی لینا ہے تجھے شوق سے پالے تو بھی
چھین لے یہ مرے ہونٹوں سے نوالے تو بھی
عہدِ حاضر میں سبھی خوں کے ہیں پیاسے میرے
اپنی ہے پیاس بجھانی تو بُجھا لے توبھی
کررہے ہیں سبھی کِردار کُشی جب میری
جو سُنانا ہے تجھے آکے سُنا لے تو بھی
زخم خوردہ ہوں میں پہلے ہی سے لیکن پھر بھی
مجھ پہ یہ تیرِ نظر اپنا چلالے تو بھی
کل جو تھا حال ترا آج وہی ہے میرا
جیت کا جشن منانا ہے مَنا لے تو بھی
میری اس شامتِ اعمال پہ ہنسنے والے
’’ چھپ کے تنہائی میں کچھ اشک بہالے تو بھی ‘‘
سب سمجھتے ہیں مجھےمالِ غنیمت برقی
جو اُٹھانا ہے تجھے آکے اُٹھالے تو بھی

نوشی گیلانی کے مصرعہ طرح پر ہفت روزہ فیس بُک ٹائمز کے ۴۶ ویں عالمی  آنلاین فی البدیہہ طرحی مشاعرے کے لئے میری دوسری کاوش
احمد علی برقی اعظمی
جس طرح تجھ کو مناتا تھا منالے تو بھی
پاس آکر مجھے سینے سے لگا لے تو بھی
محفلِ عیش و طرب اپنی سجالے تو بھی
اپنے سوئے ہوئے ارمان جگالے تو بھی
جس طرح مجھ کو دکھانا ہے دکھا لے تو بھی
ہے تماشا جو بنانا تو بنا لے توبھی
دور ہو جائے گی یہ تیرگیٔ وہم و گماں
شمعِ امید کی لو اپنی بڑھا لے تو بھی
منھ چھپائے ہوئے پھرتا ہوں میں اس سے اپنا
آبرو اپنی زمانے سے بچا لے تو بھی
جیسے رقاصۂ دوراں یہ نچاتی ہے تجھے
انگلیوں پر ہے نچانا تو نچالے تو بھی
جس طرح تجھ کو بچاتا تھا ہمیشہ برقی
گر نہ جائے وہ کہیں اس کو بچالے توبھی

چھپ کے تنہائی میں کچھ اشک بہالے تو بھی :نوشی گیلانی کے مصرعہ طرح پر ہفت روزہ فیس بُک ٹائمز کے ۴۶ ویں عالمی آنلاین فی البدیہہ طرحی مشاعرے کے لئے میری طبع آزمائی




نوشی گیلانی کے مصرعہ طرح پر ہفت روزہ فیس بُک ٹائمز کے ۴۶ ویں عالمی  آنلاین فی البدیہہ طرحی مشاعرے کے لئے میری طبع آزمائی
احمد علی برقی اعظمی
تختۂ مشقِ ستم مجھ کو بنالے تو بھی
چاہتا ہے جو ستانا تو ستالے توبھی
جو بھی لینا ہے تجھے شوق سے پالے تو بھی
چھین لے یہ مرے ہونٹوں سے نوالے تو بھی
عہدِ حاضر میں سبھی خوں کے ہیں پیاسے میرے
اپنی ہے پیاس بجھانی تو بُجھا لے توبھی
کررہے ہیں سبھی کِردار کُشی جب میری
جو سُنانا ہے تجھے آکے سُنا لے تو بھی
زخم خوردہ ہوں میں پہلے ہی سے لیکن پھر بھی
مجھ پہ یہ تیرِ نظر اپنا چلالے تو بھی
کل جو تھا حال ترا آج وہی ہے میرا
جیت کا جشن منانا ہے مَنا لے تو بھی
میری اس شامتِ اعمال پہ ہنسنے والے
’’ چھپ کے تنہائی میں کچھ اشک بہالے تو بھی ‘‘
سب سمجھتے ہیں مجھےمالِ غنیمت برقی
جو اُٹھانا ہے تجھے آکے اُٹھالے تو بھی

نوشی گیلانی کے مصرعہ طرح پر ہفت روزہ فیس بُک ٹائمز کے ۴۶ ویں عالمی  آنلاین فی البدیہہ طرحی مشاعرے کے لئے میری دوسری کاوش
احمد علی برقی اعظمی
جس طرح تجھ کو مناتا تھا منالے تو بھی
پاس آکر مجھے سینے سے لگا لے تو بھی
محفلِ عیش و طرب اپنی سجالے تو بھی
اپنے سوئے ہوئے ارمان جگالے تو بھی
جس طرح مجھ کو دکھانا ہے دکھا لے تو بھی
ہے تماشا جو بنانا تو بنا لے توبھی
دور ہو جائے گی یہ تیرگیٔ وہم و گماں
شمعِ امید کی لو اپنی بڑھا لے تو بھی
منھ چھپائے ہوئے پھرتا ہوں میں اس سے اپنا
آبرو اپنی زمانے سے بچا لے تو بھی
جیسے رقاصۂ دوراں یہ نچاتی ہے تجھے
انگلیوں پر ہے نچانا تو نچالے تو بھی
جس طرح تجھ کو بچاتا تھا ہمیشہ برقی
گر نہ جائے وہ کہیں اس کو بچالے توبھی



نذرِ محترم حسنؔ چشتی : احمد علی برقی اعظمی


نذرِ محترم حسنؔ چشتی
احمدعلی برقیؔ اعظمی
ہیں حسنؔ ؔ چشتی یقیناًایک فخرِ روزگار
بحرِ ذخارِ ادب کی ہیں وہ دُرِّ شاہوار
ایسا مُشفق آج تک میں نے کہیں دیکھا نہیں
اُن پہ نازل ہو ہمیشہ رحمتِ پروردگار
ہیں شیکاگو میں وہ ادبی محفلوں کی روشنی
سب کے منظورِ نظر ہیں ان کے ادبی شاہکار
ہیں دیارِ غیر میں ملکِ سخن کے وہ سفیر
اُن کو حاصل ہے جہانِ فکر و فن میں اعتبار
قدرداں خدمات کاہے ان کی برقیؔ اعظمی
ان کی ہے اردو نوازی باعثِ صد افتخار
ٰ


Left To Right With Mohammad Waliullah Wali Janab Farhat Ehsas & Ahmad Ali Barqi Azmi At Rekhta — at Rekhta.org


دارالمصنفین، اعظم گڈھ کے شہرۂ آفاق ماہنامے ’’ معارف ‘‘ کے اگست ۲۰۱۴ کے شمارے میں برقی اعظمی کی روح سخن پر تبصرہ بشکریہ : مدیر ماہنامہ معارف، دارالمصنفین اعظم گڈھ



          دارالمصنفین، اعظم گڈھ کے شہرۂ آفاق ماہنامے ’’ معارف ‘‘ کے اگست ۲۰۱۴ کے شمارے میں برقی اعظمی کی روح سخن پر تبصرہ
بشکریہ : مدیر ماہنامہ معارف، دارالمصنفین اعظم گڈھ

ہم سخن فہم ہیں غالب کے طرفدار نہیں : احمد علی برقی اعظمی


احمد علی برقی اعظمی غزل ۱۔
مجھ کو حق بات سے ہر گز کوئی انکار نہیں
قولِ ناحق کا میں کرتا کبھی اقرار نہیں
سنگساری کا جو دستور ہے اجرا کرنا
پہلا پتھر وہی پھینکے جو گنہگار نہیں
حیثیت اُن کی ہے شطرنج کے مہروں کی طرح
خوابِ غفلت سے جو اس دور میں بیدار نہیں
وار پر وار پسِ پُشت کئے جاتے ہیں
دوست ہیں دشمنِ جاں اب مرے،اغیار نہیں
بے وفائی کا وہی دیتے ہیں طعنہ مجھ کو
ملک و ملت کے کبھی بھی جو وفادار نہیں
میر جعفر تو نہیں زندہ ہے اُس کی اولاد
کون کہتا ہے کہ ہم میں کوئی غدار نہیں
فن کی تخلیق پہ حاوی ہےمزاجِ دوراں
وقت کا ساتھ جو دیتا نہ ہو ، فنکار نہیں
فن کے معیار پہ پرکھیں گے سُخن کا جوہر
’’
ہم سُخن فہم ہیں غالب کے طرفدار نہیں‘‘
کہا مزہ ملتا ہے برقی کی دل آزاری میں
کیوں نہیں کرتا وہ اقرار اگر پیار نہیں

احمد علی برقی اعظمی ۔۔۔۔ غزل ۲۔
مجھ پہ جو گذری ہے وہ قابلِ اظہار نہیں
کون ہے اپنے جو حالات سے بیزار نہیں
نظمِ عالم ہے جدھر دیکھئے درہم برہم
نوعِ انساں یہ کہاں برسرِ پیکار نہیں
کس کی ہیں ریشہ دوانی کے سبھی لوگ شکار
سرنگوں آج سبھی ہیں کوئی سر دار نہیں
مرزا غالب کے ہیں افکار سبھی پر غالب
قدرداں اُن کے میں فن کا ہوں،طرفدار نہیں
جو دکھاتا ہے زمانے کو قلم کا جوہر
اُس سے بہتر مری نظروں میں قلمکار نہیں
زیر کرتا ہے قلمکار قلم سے سب کو
لڑ رہا ہے وہ مگر ہاتھ میں تلوار نہیں
زد میں ہے برق کی ہر وقت نشیمن برقی
جادۂ شوق میں بھی سایۂ دیوار نہیں



مدتوں رویا کریں گے جام و پیمانہ مجھے: نذرِ جگر مرادآبادی ۔ احمد علی برقی اعظمی


حسنِ زندگانی ہے تیری میری آنکھوں میں : احمد علی برقی اعظمی


کیف و مستی سے ہیں سرشار تمھاری آنکھیں : احمد علی برقی اعظمی


خانۂ دل کا باب ہیں آنکھیں: احمد علی برقی اعظمی


اظہارِ مدعا کا مرے تھی صلہ وہ نیند: احمد علی برقی اعظمی


اُس نے مجھ سے دل لگایا میں تو اس قابل نہ تھا :احمد علی برقی اعظمی


غزل
احمد علی برقی اعظمی
مجھ کو یہ دن بھی دکھایا میں تو اس قابل نہ تھا
بزم میں اپنی بلایا میں تو اس قابل نہ تھا
کرکے مجھ کو منتخب اپنی نگاہِ ناز سے
تیرِ مژگاں آزمایا میں تو اس قابل نہ تھا
حُسنِ نیت کا میں اس کے دے سکوں اس کو جواب
وہ جو میرے کام آیا، میں تو اس قابل نہ تھا
بجھنے والی تھی مری شمعِ شبستانِ حیات
اُس نے اُس کی لو بڑھایا میں تو اس قابل نہ تھا
غمزہ و ناز و ادا سے کر کے مجھ کو تازہ دم
اس نے میرا دل لُبھایا میں تو اس قابل نہ تھا
وادیٔ غُربت جہاں کوئی نہ تھا پُرسانِ حال
مجھ کو گِرنے سےبچایا میں تو اس قابل نہ تھا
تھا بہت صبر آزما میرے لئے اس کا فراق
کھو چُکا تھا جس کو پایا میں تو اس قابل نہ تھا
جس کو میں وعدہ شکن سمجھا تھا اس نے بر محل
وعدۂ فردا نبھایا میں تو اس قابل نہ تھا

داد کے قابل ہے برقی اس کا حُسنِ انتخاب
اُس نے مجھ سے دل لگایا میں تو اس قابل نہ تھا

جلوۂ زیبا دکھایا میں تو اس قابل نہ تھا : احمد علی برقی اعظمی


دیا کے ۵۲ ویں آن لائن فی البدیہہ مشاعرے بتاریخ ۴ جولائی ۲۰۱۴ لے لئے میری کاوش
احمد علی برقی اعظمی
جلوۂ زیبا دکھایا میں تو اس قابل نہ تھا
’’ شکر ہے تیرا خدایا میں تو اس قابل نہ تھا‘‘
پیشوا جس دینِ حق کے ہیں محمد مصطفیٰ ﷺ
ایسی اُمت میں اُٹھایا میں تو اس قابل نہ تھا
جس کی ہر آیت سے ظاہر ہے ترا جاہ و جلال
وہ کلامِ حق سنایا میں تو اس قابل نہ تھا
جس کی خوشبوسے معطر ہے جہانِ آب و گِل
خار میں وہ گُل کِھلایا میں تو اس قابل نہ تھا
ہیں جہاں آرام فرما شافعِ روزِ جزا
تونے اُس در پر بُلایا میں تو اس قابل نہ تھا
رمز سے کثرت میں وحدت کے ہے یہ دل آشنا
ہو کے جُز کُل میں سمایا میں تو اس قابل نہ تھا
ذرۂ ناچیز سے کمتر ہے برقی اعظمی
مجھ کو بھی اپنا بنایا میں تو اس قابل نہ تھا
دیا کے ۵۲ ویں آن لائن فی البدیہہ مشاعرے بتاریخ ۴ جولائی ۲۰۱۴ لے لئے میری دوسری کاوش
احمد علی برقی اعظمی
مجھ کو یہ دن بھی دکھایا میں تو اس قابل نہ تھا
بزم میں اپنی بلایا میں تو اس قابل نہ تھا
کرکے مجھ کو منتخب اپنی نگاہِ ناز سے
تیرِ مژگاں آزمایا میں تو اس قابل نہ تھا
حُسنِ نیت کا میں اس کے دے سکوں اس کو جواب
وہ جو میرے کام آیا، میں تو اس قابل نہ تھا
بجھنے والی تھی مری شمعِ شبستانِ حیات
اُس نے اُس کی لو بڑھایا میں تو اس قابل نہ تھا
غمزہ و ناز و ادا سے کر کے مجھ کو تازہ دم
اس نے میرا دل لُبھایا میں تو اس قابل نہ تھا
وادیٔ غُربت جہاں کوئی نہ تھا پُرسانِ حال
مجھ کو گِرنے سےبچایا میں تو اس قابل نہ تھا
تھا بہت صبر آزما میرے لئے اس کا فراق
کھو چُکا تھا جس کو پایا میں تو اس قابل نہ تھا
جس کو میں وعدہ شکن سمجھا تھا اس نے بر محل
وعدۂ فردا نبھایا میں تو اس قابل نہ تھا
داد کے قابل ہے برقی اس کا حُسنِ انتخاب
اُس نے مجھ سے دل لگایا میں تو اس قابل نہ تھا