اردو کے عروج و زوال پر ایک تاثراتی نظم : احمد علی برقی اعظمی

اردو کے عروج و زوال پر ایک تاثراتی نظم
کہتے ہیں آج اردو ہے اک عالمی زباں
احمد علی برقیؔ اعظمی
کہتے ہیں آج اردو ہے اک عالمی زباں
یہ قافلہ ہے جانبِ منزل رواں دواں
حضرت امیر خسرو سے غالبؔ کے عہد تک
اردو کے ہے عروج کی پُرلطف داستاں
آزاد ہے یہ مذہب و ملت کی قید سے
اب عالمی زبان ہے یہ لشکری زباں
جمہوریت کی آج یہ زندہ مثال ہے
ہر جا ملیں گے آپ کو اردو کے قدرداں
اردو زبانِ دل ہے غزل اس کی جان ہے
اِس صنف کا ہے سکہ جدھر جاءئے رواں
آشوبِ روزگار میں اردو پلی بڑھی
سرسید اور حالیؔ تھے اردو کے پاسباں
ڈپٹی نذیر احمد و شبلیؔ تھے اُن کے ساتھ
تھے اپنے عہد میں یہ زبان و ادب کی جاں
ہم کھا کما رہے ہیں فقط اس کے نام پر
کرتے ہیں فخر اپنی ہے یہ مادری زباں
نسلِ جدید آج ہے اردو سے نابلد
رومن میں لکھ رہی ہے یہ اردو کہانیاں
کیا فیس بُک پہ اردو ہے سوچا یہ آپ نے
کیا صرف یہ ہماری ہے بس مادری زباں
نوبل انعام کس کو مِلا آج تک بتائیں
اہلِِ نظر کی آج ہے غیرت کا امتحاں
میری بصد خلوص ہے یہ آپ سے اپیل
سنجیدگی سے غور کریں اب ہیں ہم کہاں
اب میرؔ و ذوق ؔ و غالبؔ و مومنؔ نہیں رہے
مٹتے ہی جارہے ہیں یہ عظمت کے سب نشاں
لازم ہے ہم پہ مل کے کریں اس کا احتساب
یو این کی آج تک نہیں اردو ہے کیوں زباں
اردو ہے اب جمود و تعطل کا کیوں شکار
اردو کے اس زوال پہ برقیؔ ہے نوحہ خواں


نہ بجھا شمعِ محبت کو جلانے والے : احمد علی برقی اعظمی


’’ نگاہیں ہیں میری نظر کی طرف ‘‘موج غزل کے ۱۲۹ ویں عالمی آنلاین فی البدیہہ طرحی مشاعرے بعنوان میر رنگ کے لئے میری طبع آزمائی احمد علی برقی اعظمی



موج غزل کے ۱۲۹ ویں عالمی آنلاین فی البدیہہ طرحی مشاعرے بعنوان میر رنگ کے لئے میری طبع آزمائی
احمد علی برقی اعظمی
نظر سب کی ہے بام و در کی طرف
’’ نگاہیں  ہیں میری نظر کی طرف ‘‘
جو کرتا نہیں میری چارہ گری
میں کیوں دیکھوں اس چارہ گر کی طرف
رگوں میں ہے ان کی تعصب کا خوں
جو ہیں آج اس فتنہ گر کی طرف
ضرورت ہے مُردہ پرستوں کی آج
توجہ ہو اہلِ ہُنر کی طرف
مرا چاند جب میرے پہلو میں ہے
میں کیوں دیکھوں شمس و قمر کی طرف
تعاقب میں ہے جس کے برقِ تپاں
میں جاتا ہوں اب اپنے گھر کی طرف
سلامت رہے میرا یہ آشیاں
میں کیوں دیکھوں لعل و گُہر کی طرف
زباں پر غریبوں کا ہے جس کی نام
وہ در اصل ہے اہلِ زر کی طرف
وہ لاتا ہے کیا دیکھئے اب پیام
نگاہیں ہیں جس نامہ بر کی طرف
جو ہے فارغ البال برقی یہاں
وہ دیکھے گا کیوں نوحہ گر کی طرف




طرحی غزل بر مصرعہ طرح رحمت الہی برقؔ اعظمی برائے واٹس ایپ گروپ ’’ بزم سخن لندن برطانیہ‘‘
مصرعہ طرح : کہنا نہ چاہیے تھا مگر کہہ دیا گیا
احمد علی برقیؔ اعظمی
جو فتنہ گر تھا اُس کو بشر کہہ دیا گیا
’’ کہنا نہ چاہیے تھا مگر کہہ دیا گیا ‘‘
دنیائے رنگ و بو کا بھی دستور ہے عجیب
اہلِ نظر کو تنگ نظر کہہ دیا گیا
نا آشنا ہے آج جو فنِ عروض سے
نخلِ ادب کا اُس کو ثمر کہہ دیا گیا
بزمِ ادب میں جس کے ترنم کی دھوم ہے
اس خوشنوا کو مِثلِ جگرؔ کہہ دیا گیا
روشن دماغ تھے جو وہ گوشہ نشیں رہے
جو تیرہ دل تھا نورِ سحر کہہ دیا گیا
اب کررہے ہیں چہرۂ تاریخ مسخ وہ
جو میرا گھر تھا اپنا وہ گھر کہہ دیا گیا
صدیوں سے سجدہ گاہ تھاجو مومنین کی
اُس خانۂ خدا کو کھنڈرکہہ دیا گیا
ہے محتسب کو خوب مہارت حساب میں
تھا جو صفر اسے بھی گُہر کہہ دیا گیا
طرزِ عمل سے اپنے تھا برقیؔ سیاہ قلب
جس خوبرو کو شمس و قمر کہہ دیا گیا




احمد علی برقی اعظمی کی غزلیہ شاعری (ایک تجزیاتی مطالعہ) سرور عالم راز سرور ۱۲۲۰۔اِنڈین رَن ڈرائیو، نمبر۔۱۱۶ کیرلٹن، ٹیکساس، امریکہ



احمد علی برقی اعظمی کی غزلیہ شاعری
(ایک تجزیاتی مطالعہ)
سرور عالم راز سرور
۱۲۲۰۔اِنڈین رَن ڈرائیو، نمبر۔۱۱۶
کیرلٹن، ٹیکساس، امریکہ

بخشا خدا نے برق مجھے ایسا مرتبہ
سایہ بھی جب پڑا تو مرا روشنی کے ساتھ
جب جناب رحمت الٰہی برق اعظمی صاحب نے یہ شعرکہاتھا تو ان کے خواب و خیال میں بھی نہ ہوگا کہ اس شعر کی تعبیر ان کے صاحبزادے احمد علی برقی اعظمی بحیثیت ایک شاعر کی شکل میں دُنیائے اُردو کے اُفق پرظاہر ہو کر ان کی یاد تازہ کر جائے گی۔ رحمت الٰہی برق صاحب اپنے وقت کے ایک صاحب طرز اُستاد شاعر تھے۔ان کے مجموعہ کلام ’’تنویرسخن‘‘ کا سرسری مطالعہ بھی ان کی شاعرانہ مقام اور بلندپایہ صلاحیتوں کے اثبات وتصدیق کے لئے کافی ہے۔ اُردو کا ایک بہت بڑاَ المیہ یہ رہا ہے کہ ہر زمانہ میں اس میں خدا جانے کتنے بلند پایہ ،صاحب علم اور منفردرنگ کے شاعر اور ادیب پیدا ہوئے اور عمر بھر شعر و ادب کی بھر پور اور بے لوث خدمت انجام دے کرِ اس حالت میں راہئ ملک عدم ہو گئے کہ اہل اردو نے نہ توان کی زندگی میں ان کی اور ان کے فن کی مناسب قدر کی اور نہ ہی ان کے بعد انھیں یاد رکھنے کی طرح یاد رکھا چنانچہ آج بیشتر اُردو دنیا ان کے نام اور کام دونوں سے مطلق نا واقف ہے۔ جناب رحمت الٰہی برقؔ مرحوم بھی ایسے ہی شاعروں میں سے تھے۔ زیر نظر کتاب ’’روحِ سخن‘‘ ان کے صاحبزادے احمد علی برقی اعظمی کی شعر گوئی کا عکاس ایسا مجموعہ ہے جو اُن کے فن وفکر کی روشنی سے دنیائے اردو کو منور کرنے کی صلاحیت رکھتا ہے۔ اگر رحمت الٰہی صاحب آج زندہ ہوتے تو اس کتاب کودیکھ کر یقیناًبہت خوش ہوتے کیونکہ یہ مجموعہ نہ صرف ان کے شعری ورثہ کی صحت اور زندگی کا ایک جیتا جاگتا ثبوت ہے بلکہ احمد علی برقی صاحب کے ہاتھوں خودبھی ایک نئے انداز فکر وبیان کی ابتدا کی ایک نیک فال کی حیثیت رکھتا ہے ۔
برقی صاحب کی شاعری ایک سیدھے سادے ، شریف انفس انسان کی سیدھی سادی شاعری ہے جس کوہر صاحب دل سمجھ سکتا ہے اور محسوس بھی کر سکتا ہے۔ اس شاعری میں غزل کا کوئی مخصوص رنگ تلاش کرنے کی ضرورت نہیں ہے۔ اس میں نہ تو مرزا غالب کی پیچیدہ خیالی اورفلسفہ ہے اور نہ میرتقی میر کا سا حزن و ملال ، نہ ناسخ کی استادی ہے اور نہ داغ کی سادہ بیانی اور معنی آفرینی، نہ جگر مرادآبادی کی سرشاری ہے اور نہ فانی بدایونی کی قنوطیت اور گریہ و زاری۔یہ شاعری انسانی جذبات و خیالات کا ایک عام سا اظہارہے جس کو غزل کے سکہ بنداصولوں اور پیمانوں پر پرکھنا تحصیل لا حاصل کے مترادف ہو گا۔اس میں ہر شخص کو اپنا دکھ درد، اپنی امید اور حوصلہ، اپنی نا کامی اورنامرادی، دنیا کے ہاتھوں خود پر گزرے ہوئے حالات و حادثات اور ایک عام انسان کی عام زندگی کے معمولات نظر آئیں گے اور یہی اس شاعری کی انفرادیت اور خصوصیت ہے۔ اگر شاعر کے ساتھ قدم بقدم چل کر وہ ذہنی سفر کیا جائے جو اس شاعری کا منبع ہے تواس سے لطف اندوز اور مستفید ہونا بہت آسان اور خوشگوارہے۔
’’روحِ سخن‘‘پرایک سرسری نگاہ ڈالئے تو جو چیز اس میں فوراً نمایاں نظر آتی ہے وہ اس کی سادہ بیانی اور بوجھل الفاظ و تراکیب کا بڑی حد تک فقدان ہے۔ جو لوگ برقی صاحب سے واقف ہیں ان کو کتاب میں موصوف کی شخصیت اوراخلاق وکردا ر کا عکس نظر آئے گااور ان کے کلام کی سادگی اور پرکاری میں خود برقیؔ صاحب کارفرما دکھائی دیں گے۔ کتاب کا مطالعہ قاری کے لئے مختلف سطحوں پر خوشگوار اور خوش آئند ہے ۔ اگر اس مجموعہ کا مطالعہ تفصیل اور دقت فکر و نظر سے کیا جائے تو صاحب کتاب کی غزلیہ شاعری کے چند ایسے مزید پہلو سامنے آتے ہیں جو اہل دل کو غور وخوض، تنقید و تنقیح اور تجزیہ و تحلیل کی دعوت دیتے ہیں جس کے نتیجہ میں برقی صاحب کی غزل کے کچھ منفرد اور دلکش نقوش اجاگر ہوتے ہیں جو کتاب کی قدروقیمت میں اضافہ کرتے ہیں۔ یہ اجمال کچھ تفصیل چاہتا ہے۔
غزل کے لغوی معنی ’’اپنے محبوب سے باتیں کرنا‘‘ ہیں۔ اس حوالے سے عشق کی وفا شعاری ، حسن کی بے وفائی اور غفلت شعاری ، عاشق و معشوق کے کچھ اصلی اور کچھ فرضی قصے ،معاملات و واردات اور اسی قبیل کے دوسرے مضامین غزل کے عام اور معروف موضوعات میں بنیادی حیثیت رکھتے ہیں۔ ان کے ساتھ ساتھ لیلیٰ اور مجنوں، شیریں اور فرہاد، سسّی اور پنوں کے اصلی اور فرضی قصے، گل وبلبل ، گلشن وگل چیں ، قفس اور صیاد کی کہانی ، بہار وخزاں کا فسانہ، دنیا کی بے ثباتی اورانسانی زندگی کے صبر آزما حقائق اپنی تمام تفصیلات اورتلازموں کے ساتھ صدیوں سے غزل کی روایات کا ایک نہایت دلچسپ اور بیش بہا حصہ بنے ہوئے ہیں۔ غزل کا تصور کیجئے تو ایسے سب خیالات، تصورات، تجربات، مشاہدات اور محسوسات ہماری نگاہ عشق پرست کے سامنے آ جاتے ہیں جن کا تعلق عشق اور معاملات عشق سے کسی بھی صورت میں ہو سکتا ہے ۔ پھر یہی عشق کبھی اپنے مجازی روپ میں ہماری تنہائیوں کا ساتھی ہے اور کبھی عشق حقیقی کے روپ میں ہمارے دکھ ،درد کا مرہم بن جاتا ہے۔ اُردو کے پہلے معروف شاعر ولی دکنی سے لے کر آج تک اُردو کی تاریخ میں ایک بھی شاعر ایسا نہیں گزرا ہے جس نے غزل کے ان معروف و مقبول موضوعا ت کو نظم کرنے میں تکلف سے کا م لیا ہو بلکہ کچھ اساتذہ تو عاشقانہ معاملات پر اس قدر زور دیتے ہیں کہ ایسے مضامین اور طرز فکر ہی ان کی شناخت بن گئے ہیں۔ یہ بات بھی قابل ذکر ہے کہ شعرا نے اِن عاشقانہ مضامین کو صرف براہ راست ہی اپنی غزل میں ایک دلچسپ اور جذباتی موضوع کی طرح استعمال نہیں کیا ہے بلکہ شیریں و فرہاد، گل وبلبل، بہاروخزاں، ہجر و وِصال، صحرا نوردی اور سیر گلشن غرضیکہ ہر نفس شعر کو تشبیہ، استعار ہ، اشارہ اور کنایہ کی طرح بھی باندھا ہے گویا کسی نہ کسی صورت سے یہ موضوعات ان کی غزلیہ شاعری کا چھوٹا یا بڑا جزو ضرور رہے ہیں۔اب یہ صورت حال اتنی عام ہے کہ غزل اور عاشقانہ مضامین لازم و ملزوم ہو کر رہ گئے ہیں گویا ایک کا تصور دوسرے کے بغیر نا ممکن ہے۔
درجِ بالا حوالے سے اگر برقی صاحب کی غزل کا مطالعہ کیا جائے تو ایک عجیب اور نہایت دلچسپ حقیقت کا انکشاف ہوتا ہے۔جیسا کہ اوپر بیان کیا جا چکا ہے اُردو غزل کے محبوب موضوعات حسن و عشق کی کارفرمائی، گل وبلبل کے افسانے، شیریں و فرہاد کے قصے ، دنیا کی بے ثباتی اور کم سوادی، آشیانہ اور قفس ، بہارو خزاں، تصوف ومعرفت وغیرہ ہیں۔ عام خیال یہ ہے کہ غزل کی شعریت، تغزل، اثر پذیری، معنی آفرینی، ایجاز و اعجاز، داخلیت و خارجیت غرضیکہ ہر وہ خصوصیت یا انفرادیت جو اس کو بقول پروفیسر رشید احمد صدیقی صاحب ’’اردو شاعری کی آبرو‘‘ کا مقام عطا کرتی ہے اِنھیں بنیادی موضوعات سے نمو پاتی ہے اور انھیں سے سیراب ہوتی ہے۔ اگر غزل سے یہ نکال دئے جائیں تو وہ خشک ، بے رنگ اور بے آب وگیاہ ہو کر رہ جائے گی۔ اردو شاعری کے کئی صدی پر محیط دَورمیں ایک بھی شاعر ایسا نہیں گزرا ہے جس نے اپنے کلام میں ان معاملات عشق سے کسی سطح پر احتراز برتا ہو۔ غزل کے دوسرے مضامین بھی اکثر و بیشتر یا تو براہ راست یا پھر اشارہ ، کنایہ اور تشبیہات و استعارات کی صورت میں انھیں سوتوں سے پھوٹتے ہیں اور غزل کو اس کی صدرنگی سے مالا مال کرتے ہیں۔ اس حقیقت کے پیش نظر اگر برقیؔ صاحب کی غزل کا مطالعہ کیا جائے تو یہ حیرت انگیز بات منکشف ہوتی ہے کہ انھوں نے غزل کے ان پرانے، آزمودہ اور روایتی موضوعات سے تقریباً مطلق پرہیز کیا ہے۔ ایک غزل کے بعد دوسری غزل پڑھتے جائیے تواِن موضوعات پر ایک آدھ شعر ’’بقدر بادام‘‘ نظر آجاتا ہے اور وہ بھی تلاش کرنا پڑتا ہے ۔ دوسرے مضامین والے اشعار کی فراوانی میں ایسے روایتی اشعار گم ہو کر رہ گئے ہیں۔ مثال کے طور پر گل، گلشن، قفس، بہاروخزاں کو ذہن میں رکھ کر ’’روحِ سخن‘‘ کا مطالعہ کیجئے تو گنتی کے چند اشعار دکھائی دیتے ہیں جن کے عمومی رنگ کی عکاسی نیچے دی ہوئی مثالوں سے بخوبی ہوتی ہے۔
سبھی نالاں ہیں جورِ باغباں سے
چمن کی درہم و برہم فضا ہے
گل و بلبل دَریدہ پیرہن ہیں
نہیں یہ ظلم ہے تو اور کیا ہے
مرادل خزاں کا شکار تھا مجھے انتظار بہار تھا
مگر آئی فصل بہار جب مرے بال و پر وہ کتر گئے
بہار میں بھی عیاں ہیں خزاں کے اب آثار
جسے بھی دیکھئے لگتا ہے سوگوار مجھے
غنچے چمن میں آج ہیں یہ سر بریدہ کیوں
گل پیرہن ہیں باغ میں دامن دَریدہ کیوں
یہ کون باغباں ہے یہ کیسا نظام ہے
بارالم سے برگ وشجر ہیں خمیدہ کیوں
گلوں کی چاک دامانی کا منظردیکھ کر اکثر
لبوں پر اہل گلشن کی شکایت آہی جاتی ہے
برقی صاحب کی غزل کے مطالعہ کے بعد ذہن میں دو سوال ابھرتے ہیں۔ ایک تو یہ کہ انہوں نے اپنی غزلیہ شاعری میں غزل کے روایتی مضامین یعنی عشقیہ معاملات و واردات سے اتنامکمل احتراز کیوں برتا ہے؟ دوسرے یہ کہ ان مضامین کی کمی کو انہوں نے کس طرح پورا کرنے کی کوشش کی ہے؟ پہلے سوال کا جواب تو شاید برقی صاحب خود بھی نہ دے سکیں حالانکہ روایتی مضامین کے نہ باندھنے سے خود اُن کی شاعری کو کسی فائدہ کے بجائے نقصان پہنچا ہے کیونکہ اس طرح انہوں نے اپنے اوپر مضامین کا میدان نہایت تنگ کردیا ہے اور سامنے کے مضامین نیز یکسانیتِ زبان وبیان کو کلام میں کھل کھیلنے کا موقع فراہم کر دیا ہے۔ میرا خیال یہ ہے کہ یہ احتراز صاحب موصوف کی زود گوئی اور بسیار گوئی کا شاخسانہ ہے۔ وہ غزل کا مطلع کہتے ہیں تو ان کی زود گو طبیعت اسی رنگ میں دوسرے اشعار بے تکان موزوں کرنے لگتی ہے اور پھر اس دَریاکی روانی کسی اور خیال یا بندش کو خاطر میں نہیں لاتی۔ دیکھتے ہی دیکھتے غزل مکمل ہو جاتی ہے اور برقی صاحب کو اس کااحساس بھی نہیں ہوتا ہے کہ زیر تصنیف غزل کے مضامین سے ملتے جلتے مضامین وہ اور بہت سی غزلوں میں باندھ چکے ہیں۔ زود گوئی اور بسیار گوئی کاایک لاحقہ یہ بھی ہے کہ شاعر اپنے کلام پر نظر ثانی کے توسط سے خود احتسابی کرنے میں کمزور ہوتا ہے ۔ غزل کہہ کر اس کی زودپسند طبیعت اُس کی اشاعت اور ابلاغ کو دوسری باتوں پر ترجیح دیتی ہے اور اس طرح یہ صورت حال غزل دَر غزل قائم رہتی ہے۔
زیرنظر کتاب کے مطالعہ سے یہ بات بھی معلوم ہوتی ہے کہ برقی صاحب نے روایتی غزلیہ مضامین کے فقدان کا علاج دو طرح سے کرنے کی شعوری یا غیر شعوری کوشش کی ہے۔ غزل مسلسل برقی صاحب کے اس اقدام کا پہلا عنصر ہے۔موصوف کی بیشتر غزلیں شروع سے آخر تک ایک ہی رنگ اور تقریباًیکساں مضامین کے مختلف پہلو اجاگر کرتی ہیں گویا ان کی غزلوں میں مسلسل غزل کا رنگ بہت نمایاں ہے۔ اس موضوع پران کے ساتھ گفتگو سے راقم الحروف نے یہ نتیجہ اخذ کیاہے کہ ان کی غزل کایہ رنگ غیر اختیاری ہے اور غزل کہتے وقت خود بخود مرتب ہوتا جاتا ہے یعنی وہ دانستہ غزل مسلسل نہیں کہنا چاہتے ہیں بلکہ ایسا غیر شعوری طور پر نا دانستگی میں ہو جاتا ہے۔ یقیناًیہ صورت حال بھی ان کی زود گوئی کی وجہ سے ہے جس کا قدرے مفصل بیان آگے آئے گا۔ جیسا کہ اوپر لکھا جا چکا ہے غزل شروع کرتے ہی ان کی زود گو طبیعت شعر گوئی کی باگ تھام لیتی ہے اور تقریباً بے اختیاری کے عالم میں غزل مکمل ہوجاتی ہے۔ایسی غزل مسلسل کی دو مثالیں دیکھئے۔ یہ رنگ تغزل پوری کتا ب میں نظر آتا ہے ۔ یہ کہناغلط نہیں ہوگا کہ مسلسل غزل کی یہ یکسانیت غزل کی اثر پذیری کم کرتی ہے اور اس پر اتنی شدت اور التزام سے عمل نہیں ہونا چاہئے تھا۔
مُجھ کو ہنس ہنس کر رُلایا دیر تک
چین پھر اُس کو نہ آیا دیر تک
آنے والا تھا حریمِ ناز میں
مُنتظر تھا میں نہ آیا دیر تک
تھا بہت صبر آزما یہ انتظار
بارِ ناز اُس کا اُٹھایا دیر تک
آتشِ سیال تھا میرا لہو
میرا خوں اُس نے جلایا دیر تک
میں ورق اُس کی کتابِ حُسن کا
چاہ کر بھی پڑھ نہ پایا دیر تک
ایک یادوں کا تسلسل تھا جسے
میں نہ ہرگز بھول پایا دیر تک
حالِ دل برقی کا تھا نا گُفتہ بِہ
سر پہ چھت تھی اور نہ سایا دیر تک
غزل مسلسل کی ایک اور مثال درج ذیل ہے۔ ایک ہی مضمون کے مختلف پہلو بیان کرنے میں برقی صاحب کی مشاقی میں شبہ نہیں لیکن ایک حد کے بعد اچھی چیز کے حسن میں بھی کمی محسوس ہونے لگتی ہے۔
خانۂ دل میں تھے مہماں آپ تو ایسے نہ تھے کردیا کیوں اِس کو ویراں آپ تو ایسے نہ تھے
آپ توافسانۂ ہستی کا عنواں تھے مرے دیکھ کر اب ہیں گریزاں آپ تو ایسے نہ تھے
توڑ ڈالا زندگی بھر ساتھ دینے کا بھرم کیا ہوئے وہ عہد و پیماں آپ تو ایسے نہ تھے
میرے دل میں کچھ نہیں ہے بھول جائیں آپ بھی کس لئے ہیں اب پشیماں آپ تو ایسے نہ تھے
آپ کے لب پر ہے آخر آج کیوں مُہرِ سکوت سازِ دل پر تھے غزلخواں آپ تو ایسے نہ تھے
کیف و سرمستی کا ساماں آپ تھے میرے لئے مثلِ آئینہ ہیں حیراں آپ تو ایسے نہ تھے
کچھ بتائیں تو سہی اِس بدگمانی کا سبب کیوں ہیں اب برقی سے نالاں آپ تو ایسے نہ تھے
غزل کے روایتی موضوعات سے احتراز کے علاج کا دوسرا عنصربرقی صاحب کی وہ کوشش ہے جو ہر مضمون ،ہر بیان اور ہر جذبہ کو ایک شخص واحد کے حوالے سے پیش کرتی ہے۔ یہ شخص واحد خود برقی صاحب ہیں۔ ان کی بیشتر غزلوں کا مرکزی کردار خود اُن کی ذات ہے۔ اگر یہ نکتہ ذہن میں رکھ کر اُن کے کلام کا مطالعہ کیا جائے تو یہ ظاہر ہو جائے گا کہ ان کی غزل انھیں کی شخصیت کے اِردگرد گھومتی ہے اور اس کا ظاہر و باطن انھیں کی ہستی ہے۔ کیا برقی صاحب اپنی غزل کو اس کی روایت سے الگ کر کے ان کوششوں سے ایک نیا روپ یا آہنگ دے سکے ہیں؟ یہ مسئلہ غور وفکر کا طالب ہے۔ اس تناظر میں ’’روح سخن ‘‘ کا مطالعہ دلچسپی سے یقیناًخالی نہیں ہے۔
برقی صاحب کا رنگ تغزل ان کی چھوٹی بحر کی غزلوں میں نکھر کر ظاہر ہوتا ہے۔ انہیں کم سے کم الفاظ میں اپنا مطلب بیان کرنے کاہنر بخوبی آتا ہے۔ چونکہ موصوف نے فارسی زبان میں ڈاکٹریٹ کی ہوئی ہے اس لئے انہیں فارسی پر عبور حاصل ہے اور وہ تراکیب کے استعمال سے پوری طرح فائدہ اٹھاسکتے ہیں اور اٹھاتے بھی ہیں۔ فارسی کی استعداد سے وہ مزید کام لے سکتے تھے لیکن ان کی چھوٹی بحر کی غزلوں میں تراکیب کم ہی نظر آتی ہیں۔ اس کی وجہ بظاہریہ معلوم ہوتی ہے کہ برقی صاحب نے ایسی غزلوں میں خود کو آسان اور سامنے کے مضامین تک محدود رکھا ہے۔ وہ ایسے مضامین کو باندھنے پر مجبور بھی ہیں کیونکہ غزل کے عام اور معروف مضامین سے تقریبا مکمل پرہیز نے ان پر مضامین کا میدان بہت تنگ کر دیا ہے۔ غزل میں روایتی مضامین کا ایک عظیم ذخیرہ موجود ہے اور شاعروں کی بڑی اکثریت انہیں اپنے اپنے انداز میں باندھ کر اپنی غزل کے دامن میں وسعت پیدا کرلیتی ہے۔ برقی صاحب کے یہاں مضامین کی یکسانیت نظر آتی ہے جو بعض اوقات قاری کی عدم توجہ اور عدم دلچسپی کا سبب بن جاتی ہے۔ مضامین کی اس یکسانیت کے باوجود شاعر موصوف جا بجا اپنی شعر گوئی کی خداداد صلاحیت سے جذبات کا جادو جگاتے ہیں ۔ سیدھے سادے اندازمیں گہری بات کہہ دینا اور آسان اور عام فہم الفاظ میں قاری کے دل کو چھو لینا آسان کام نہیں ہے۔ برقی صاحب یہ ہنر خوب جانتے ہیں۔ چھوٹی بحروں کے درج ذیل چنداشعار ان کی قادرالکلامی کی دلیل ہیں:
دل کی ویرانی کبھی دیکھی ہے کیا یہ پریشانی کبھی دیکھی ہے کیا
میری چشم نم میں جو ہے موج زن ایسی طغیانی کبھی دیکھی ہے کیا
آئینہ میں شکل اپنی دیکھ کر ایسی حیرانی کبھی دیکھی ہے کیا
رسم الفت کو نبھا کر دیکھو دل سے اب دل کوملا کر دیکھو
جو تمہیں ہم سے الگ کرتی ہے تم وہ دیوار گرا کر دیکھو
بوجھ ہو جائے گا دل کا ہلکا خود ہنسو اور ہنسا کر دیکھو
بدگمانی کا نہیں کوئی علاج ہم کو نزدیک سے آکر دیکھو
میں نہ آؤں تو شکایت کرنا پہلے تم مجھ کو بلا کر دیکھو
کیوں ہو برقی سے خفا کچھ تو کہو تم اسے ا پنا بنا کر دیکھو
بہت رفتار تھی یوں تو ہواکی مری شمعِ وَفا پھربھی جلا کی
میں جس سے کر سکوں عرض تمنا ضرورت ہے اسی درد آشنا کی
ہے شیوہ جس کابرقی بے وفائی توقع اس سے کیا مہر و وَفا کی
دیدہ و دل ہیں فرشِ راہ مرے تجھ کوبھی انتظا ر ہے کہ نہیں
مجھ سے باتیں اِدھر اُدھر کی نہ کر یہ بتا مجھ سے پیار ہے کہ نہیں
منتظر کب سے ہے ترا برقی تجھ کو کچھ پاسِ یار ہے کہ نہیں
جہاں فطرت فیاض نے برقی صاحب کو ذوق سلیم اور طبع موزوں سے متصف کیا ہے وہیں انہیں زود گوئی کی صلاحیت بھی عطا کی ہے۔ برقیؔ صاحب کی شعر گو ئی بھی ان کے تخلص کی مناسبت سے برق رفتار ہے۔وہ شعراس قد ر تیزی سے کہتے ہیں کہ حیرت ہوتی ہے۔ یہی وجہ ہے کہ وہ ’’فی البدیہہ مشاعروں‘‘میں اکثرشرکت کرتے ہیں اورسب سے پہلے غزل کہہ کر ہاتھ جھاڑتے ہوئے کھڑے ہو جاتے ہیں۔ برسو ں کی مشق کے بعد اب ان کی زودگوئی کی یہ کیفیت ہے کہ برقی صاحب کے یہاں وقت ، موقع، تقریب، جشن، محفل کی کوئی تخصیص نہیں ہے۔کوئی تقریب یا محفل ہو، کیسا ہی موقع یا جشن ہو وہ جب چاہیں ،جس وقت چاہیں، جس قدر چاہیں اور جس موضوع پر چاہیں فی البدیہہ ایک شعر کے بعد دوسرا شعر بلکہ پوری پوری غزلیں یا طویل نظم کہنے پر مکمل قدرت رکھتے ہیں۔یہ کہنا بالکل درست ہے کہ اب شعر گوئی ان کی عادت میں داخل ہو گئی ہے اور ان کے لئے شعر کہنا یا کوئی واقعہ یا حادثہ نظم کرنا نثر لکھنے کے مقابلہ میں بدرجہا آسان ہے۔ چنانچہ ان کے پاس ’’موضوعاتی شاعری‘‘ کا ایک ایسابہت بڑا ذخیرہ جمع ہو گیا ہے جو انہوں نے اپنے ارد گرد کے حالات و واقعات کے انگیز کرنے پر کی ہے۔ اس شاعری میں سیاسی، سماجی، مذہبی،اخلاقی غرضیکہ ہر موضوع پر چھوٹی یا بڑی نظم یاقطعہ نہایت چابک دستی اور شستگی سے نظم کیا گیا ہے۔ ان کی اس موضوعاتی شاعری کا ایک حصہ زیر نظر کتاب ’’روحِ سخن‘‘ میں بھی دیکھا جا سکتا ہے۔ اتنے مختلف اور متنوع موضوعات پر یہ منظومات برقی صاحب نے بلا تکان و تکلف کہی ہیں اور یہ ان کے فن کا کمال کی مکمل عکاسی کرتی ہیں۔ موضوعاتی شاعری نہ صرف یہ کہ آسان نہیں ہے بلکہ یک گونہ خطرناک بھی ہے کیونکہ ذرا سی لا پروائی یا تساہلی سے موضوعاتی شاعری رنگ بدل کر’’ فضولیاتی شاعری‘‘ بن سکتی ہے۔ برقیؔ صاحب جس طرح اس خطرے سے دامن بچا کر نکل گئے ہیں اس سے ان کی دقت نظر اور شاعرانہ مہارت کا بخوبی اندازہ ہوتاہے۔
یہاں زود گوئی کے حوالے سے چندباتیں کہنا مناسب معلوم ہوتا ہے۔ زود گوئی صرف ایک قسم کی نہیں ہوتی ۔ ایک زودگوئی تو وہ ہوتی ہے جس کی وجہ سے غزل کے مضامین میں گہرائی اور گیرائی کم ہوجاتی ہے ، اشعار میں زبان وبیان و مضامین کی یکسانیت دَر آتی ہے اور بعض اوقات کسی غزل پر یہ گمان ہوتا ہے کہ یہ اس سے قبل نظر سے گزر چکی ہے۔ ایسی زود گوئی سے دامن بچانا مشکل ضرور ہے لیکن ایک ماہر اور صاحب فن شاعرکے لئے نا ممکن نہیں ہے۔ برقیؔ صاحب کی یہ زود گوئی اختیاری ہے۔ وہ حسب فرمائش جب کہئے ہر موضوع پر داد سخن دے سکتے ہیں اور دیتے ہیں۔ اُن کی زودگوئی ان کی غزل گوئی میں بھی دَر آئی ہے چنانچہ کئی زمینوں میں برقیؔ صاحب نے دو غزلے کہے ہیں ۔ ویسے بھی ان کی عام غزل خاصی طویل ہوتی ہے۔اختیاری زود گوئی میں ایک بڑا نقص یہ ہوتا ہے کہ بسا اوقات اس کے ساتھ بسیار گوئی کا لاحقہ بھی لگا ہوتا ہے گویا زودگو ئی اور بسیار گوئی کا چولی دامن کا ساتھ ہے۔جو شاعر زود گو ہو گا وہ تقریباً ہمیشہ بسیار گو بھی ہوتا ہے۔ زودگوشاعر شعوری طور پر اگربسیار گو نہ بھی ہو تو غیر شعوری طور پر اس کی زودگوئی اسے مجبور کرتی ہے کہ وہ شعر کے بعد شعر کہتاجائے گویا اس کی زودگو طبیعت شعر گوئی کا جو سوتا کھول دیتی ہے وہ فطری طور پر ایک دریا میں تبدیل ہو سکتا ہے اور شاعر اس میں بہنے کے لئے خود کو مجبور پاتا ہے۔ بذات خود نہ تو زودگوئی میں کوئی برائی ہے اور نہ ہی بسیارگوئی کوئی عیب ہے۔ البتہ زود گوئی توخطرناک نہیں ہوتی لیکن بسیار گوئی تقریبا ہمیشہ ہی خطرناک ہوتی ہے کیونکہ بسیار گو شاعر اپنی دُھن میں سامنے کے مضامین اوراچھے مضامین میں تمیز نہیں کر سکتا ہے اور اس کے نتیجہ میں اس کی شاعری بھرتی کا شکار ہوکر رہ جاتی ہے۔
زود گوئی کی دوسری قسم غیر اختیاری ہے۔ اس کو علامہ اقبال کی شعر گوئی کے حوالے سے واضح کیا جا سکتا ہے۔ علامہ موصوف کی شعرگوئی کے بارے میں بانگ دِرا کے دیباچہ نگار جناب شیخ عبدالقادرنے اپنے دیباچے میں لکھا ہے کہ ’’ (اقبالؔ )شعر کہنے کی طرف جس وقت مائل ہوتے تو غضب کی آمد ہوتی تھی۔ ایک ایک نشست میں بے شمار اشعار ہو جاتے تھے۔ ان کے دوست اور بعض طالب علم جو پاس ہوتے پنسل کاغذ لے کر لکھتے جاتے اور وہ اپنی دُھن میں کہتے جاتے۔ میں نے اس زمانے میں انھیں کبھی کاغذقلم لے کر فکرسخن کرتے نہیں دیکھا۔ موزوں الفاظ کا ایک دریا بہتا یا ایک چشمہ اُبلتا محسوس ہوتا تھا۔ ایک کیفیت رِقّت کی عموماً ان پر طاری ہوتی تھی ، اپنے اشعار سُریلی آواز سے ترنم میں پڑھتے تھے ، خود وجد کرتے اور دوسروں کو وجد میں لاتے تھے۔‘‘ آگے چل کر شیخ صاحب مزید لکھتے ہیں کہ ’’بایں ہمہ موزونی طبع وہ (اقبال )حسب فرمائش شعر کہنے سے قاصر ہے۔ جب طبیعت خود مائل بہ نظم ہو تو جتنے شعر چاہے کہہ دے ، مگر یہ کہ ہر وقت اور ہر موقع پر حسب فرمائش وہ کچھ لکھ سکے یہ قریب قریب ناممکن ہے۔‘‘
علامہ اقبالؔ کی زود گوئی غیر اختیاری تھی یعنی وہ ایک قسم کی کیفیت قلب تھی جو اُن پر کسی کسی وقت طاری ہو جاتی تھی۔ ان کے لئے یہ ممکن نہیں تھا کہ جب چاہیںیہ کیفیت اپنے اوپر طاری کرلیں اور شعر کہنا شروع کردیں۔ کسی دوست یا عزیز کی فرمائش پر غزل یا نظم کہنا اُن کے لئے تقریباً نا ممکن تھا ۔ دوسرے الفاظ میں ہم غیر اختیاری زودگوئی کو آمد کہہ سکتے ہیں۔
یہاں کسی سطح پر بھی علامہ اقبال اور برقی صاحب کا تقابلہ مطلق مقصو د نہیں ہے بلکہ زود گوئی کی مختلف قسموں کی نشاندہی اور شناخت دکھانا منظور ہے اور اس کوشش کامقصد بھی برقی صاحب کی غزل گوئی کے رموز ونکات کو واضح کرنا اور اُن پر دیانتداری سے اظہار خیال ہے۔ ادبی تنقید ایک صحت مند عمل ہے اور اس سے کسی کی تنقیص کبھی مقصود نہیں ہوتی ۔ یہاں بھی یہی ادبی محرک کار فرماہے۔
’’روح سخن‘‘ اپنی جملہ خوبیوں کی وجہ سے دنیائے اردو میں تحسین کی نگاہ سے دیکھا جائے گا۔ نگاہ نکتہ چیں کو اس میں ایسے مقامات بھی نظر آئیں گے جن کی اصلاح کتاب کو بہتر بنا سکتی تھی لیکن یہ تو ہر انسانی کوشش کے ساتھ پیش آتا ہے۔ اس کیفیت کی ایک صورت کی جانب مختصر اشارہ کرنے میں ہرج نہیں ہے۔ شعر کوشاعرکی معنوی اولاد کہاجاتا ہے اور ہر شاعر کو اپنا کلام عزیز ہوتا ہے۔ اس کے لئے اپنے پورے کلام میں سے بہتر کلام کا انتخاب کرنا کسی
آزمائش سے کم نہیں ہوتاکیونکہ اس کام میں ایک شعرکو دوسرے پرترجیح دینی ضروری ہے ۔ یہ کلیہ برقی صاحب پر بھی صادق آتا ہے۔ وہ بھی ’’روح سخن‘‘ کی ترتیب وترویج میں خود احتسابی کے صبر آزما مرحلے سے ہمیشہ کامیابی سے نہیں گزر سکے ہیں۔ ہونا تو یہ چاہئے تھا کہ وہ کتاب کی اشاعت کے لئے غزلوں کے انتخاب میں خود احتسابی کا سخت ترین معیار اختیار کرتے اور اس طرح اس کا معیار بلند کرتے۔لیکن وہ ہمیشہ ایسا نہ کر سکے ہیں چنانچہ دو چار مقامات پر ان کی غزلوں میں ایسے اشعار دَرآئے ہیں جو معیار کے لحاظ سے بہت کمزورہیں۔اچھی خاصی غزل میں ایسے اشعار قاری کے لئے ایک لمحۂ فکریہ بن جاتے ہیں۔ چند مثالیں دیکھئے:
دیارِ شوق میں تنہا بلاکے چھوڑ دیا
حسین خوابِ محبت دکھا کے چھوڑدیا
کیاتھا وعدہ نبھانے کا رسم الفت کا
دکھائی ایک جھلک مسکرا کے چھوڑ دیا
’’رہا نہ گھر کابالآخر نہ گھاٹ کا برقی ‘‘
وہ آزماتا رہا، آزما کے چھوڑ دیا
مقطع کے پہلے مصرع کے صحیح سیاق وسباق کوذہن میں رکھا جائے تو اس کا جواز غزل میں نظر نہیں آسکتا۔ زیادہ حدِاَدب! اگلی مثالوں میں بھی قابل غورحصہ کو ’’۔۔۔۔‘‘ سے مقید کر دیا گیا ہے۔
دَرِ دل کھلا ہے چلے آئیے
یہ بے جا تکلف نہ فرمائیے
میں ہوں آپ کو دیکھ کر دم بخود
کہاں ہوں مجھے خود سے ملوائیے
’’ضیافت کے ساماں ہیں سب آپ کے
جو جی چاہے وہ پیجئے کھائیے‘‘
جلوہ گاہ خوباں میں جب کبھی وہ آتے ہیں
بارِ ناز سب ان کا شوق سے اٹھاتے ہیں
دل پہ اہل دل کے وہ بجلیاں گراتے ہیں
زیر لب ہمیشہ وہ جب بھی مسکراتے ہیں
’’دو ہزار گیارہ تھا جیسے وعدۂ فردا‘‘
سالِ نو میں بھی دیکھیں کیا وہ گل کھلاتے ہیں
برقی صاحب کے یہاں اچھے اشعار کی کمی نہیں ہے۔ ان سے موصوف کی شاعری کا حسن مزیدبڑھ گیا ہے۔ اگر وہ اپنے کلام کے حق میں جذباتیت سے کام نہ لیتے تو اس حسن و قیمت میں اور بھی اضافہ ہوتا۔ بایں ہمہ برقی صاحب کی شاعری ایک حساس صاحب دل اور ماہر فن کی شاعری ہے۔ اُردو شاعری میں برقی صاحب نے اب تک جو مقام حاصل کیا ہے مستقبل میں اس میں ترقی یقینی ہے ۔اس ضمن میں ہماری دعائیں اور نیک تمنائیں ان کے ساتھ ہیں۔درج ذیل اشعار موصوف کی مہارت سخن اور صلابت فکر کی بھرپور عکاسی کرتے ہیں :
نہ تو ملتا ہے وہ مجھ سے،نہ جدا ہوتا ہے کچھ سمجھ میں نہیں آتا کہ یہ کیا ہوتا ہے
جب نہیں دیتا دَرِ دل پہ وہ دستک برقی کیابتاؤں میں تمھیں ایسے میں کیا ہوتا ہے
جاتا ہے مجھ کو چھوڑ کے اے بے خبر کہاں ’’تیرے بغیر رونق ِ دیوار و دَر کہاں‘‘
پھر وہی شدتِ جذبات کہاں سے لاؤں جیسے پہلے تھے وہ حالات کہاں سے لاؤں
منتشر ہو گئے اَوراقِ کتابِ ہستی ساتھ دیتے نہیں حالات کہاں سے لاؤں
داستاں ایسی ہے جس کانہیں عنواں کوئی مجھ سا دُنیا میں نہیں بے سرو ساماں کوئی
سوچتا ہوں کچھ کہوں، پھر سوچتا ہوں کیا کہوں اپنے آگے وہ کسی کی مانتا کچھ بھی نہیں
’’روحِ سخن‘‘ اُردو غزلیہ شاعری میں ایک بیش بہا اضافہ ہے۔ یہ بات وثوق سے کہی جا سکتی ہے کہ برقی صاحب کی شاعری غزل میں نئے تجربوں کی طرف اچھی پیش قدمی ہے۔ ان کا اگلا قدم شاید اس شعور معرفت کی اگلی منزل کی طرف بڑھے گا جس کا انھوں نے اپنے اس خوبصورت شعر میں اشارہ کیا ہے۔ برقی صاحب کی یہی موعودہ خودشناسی اردو شاعری میں ان کے مقام کی ضامن ہو گی۔
شعورِ معرفت مضمر ہے برقی خود شناسی میں ’’خودی کا رازداں ہو جا، خدا کاترجماں ہو جا‘‘



AA

Top of Form

تیرہویں صدی سے لے کر اب تک کہ چند شعرا کرام ایک ساتھ بشکریہ جاوید مرزا و عظمت سخن


تیرہویں صدی سے لے کر اب تک کہ چند شعرا کرام ایک ساتھ
بشکریہ جاوید مرزا و عظمت سخن
پہلی قطار بائیں سے دائیں
امیر خسرو ، کبیر ، محمد قلی قطب شاہ ، ولی دکنی ، آبرو شاہ مبارک ، مظہر جان جاناں ، مرزا رفیع سودا ، سراج اورنگ آبادی ، خواجہ میر درد ، میر تقی میر ، نظیر اکبر آبادی ، میر حسن ، غلام علی ہمدانی ، رحمان بابا ، انشاءاللہ خان انشاء ، شاہ نصیر ، بہادر شاہ ظفر ، امام بخش ناسخ ، خواجہ حیدر علی آتش ، محمد ابراہیم ذوق ، مرزا رضا برق ، مرزا اسد اللہ خان غالب ، آصف الدولہ ، مومن خان مومن ، مرزا سلامت علی دبیر
دوسری قطار بائیں سے دائیں
میر ببر انیس ، دیا شنکر کول نسیم ، واجد علی شاہ اختر ، امیر مینائی ، میاں محمد بخش ، داغ دہلوی ، جلال لکھنوی ، میر مہدی مجروح ، الطاف حسین حالی ، اسماعیل میرٹھی ، شاد عظیم آبادی ، خواجہ غلام فرید ، اکبر الہ آبادی ، مبارک عظیم آبادی ، ریاض خیر آبادی ، بیخود بدایونی ، شبلی نعمانی ، مرزا ، ہادی رسوا ، صفی لکھنوی ، بیخود دہلوی ، سائل دہلوی ، حکیم محمد اجمل شیدا ، جلیل مانک پوری ، ثاقب لکھنوی ، مولوی عبدالحق
تیسری قطار بائیں سے دائیں
آغا شاعر قزلباش ، آرزو لکھنوی ، غلام بھیک نیرنگ ، حسرت موہانی ، بیدم شاہ وارثی ، احسن مارہروی ، علامہ محمد اقبال ، ناطق لکھنوی ، فانی بدایونی ، وحشت رضا کلکتوی ، برج نارائن چکسبت ، سیماب اکبر آبادی ، یگانہ چنگیزی ، اصغر گونڈوی ، جوش ملسیانی ، نیاز فتح پوری ، تلوک چند محروم ، استاد قمر جلالوی ، جگر مراد آبادی ، جوش ملیح آبادی ، فراق گور کھپوری ، افسر میرٹھی ، رام پرساد بسمل ، منور لکھنوی ، سید آل رضا رضا
چوتھی قطار بائیں سے دائیں
صوفی غلام تبسم ، پطرس بخاری ، بہزاد لکھنوی ، پنڈت ہری چند ، حفیظ جالندھری ، بسمل عظیم آبادی ، اثر صہبائی ، بسمل سعیدی ، مخمود دہلوی ، آنند نرائن ملا ، عندلیب شادانی ، شاد عارفی ، چراغ حسن حسرت ، جمیل مظہری ، شوکت تھانوی ، سید سجاد ظہیر ، مجنوں گور کھپوری ، ذوالفقار علی بخاری ، اختر شیرانی ، ساغر نظامی ، باقی صدیقی ، جلال الدین اکبر ، محمد دین تاثیر ، عابد علی عابد ، حیدر دہلوی
پانچویں قطار بائیں سے دائیں
ماہر القادری ، مخدوم محی الدین ، منور بدایونی ، صبا اکبر آبادی ، عرش ملسیانی ، وامق جونپوری ۔ عبدالحمید عدم ، شیر افضل جعفری ، ن م راشد ، اختر اورینوی ، کرنل محمد خان ، پرویز شاہدی ، اسرارالحق مجاز ، تابش دہلوی ، ساحر بھوپالی ، نشور واحدی ، فیض احمد فیض ، اعجاز صدیقی ، میرا جی ، استاد دامن ، معین احسن جزبی
چھٹی قطار بائیں سے دائیں
احتیشام حسین , حفیظ ہوشیار پوری , سراج الدین ظفر , مجید لاہوری , اقبال عظیم , ضیاء فتح آبادی , علی سردار جعفری , شمیم کرہانی , ساحر ہوشیار پوری , پروفیسر منظور حسین شور , میر گل خان ناصر , جانثار اختر , غلام تاباں ربانی , سکندر علی وجد , قیوم نظر , شعری بھوپالی , یوسف ظفر , احسان دانش ، یزدانی جالندھری , اختر الایمان , شکیل بدایونی , ضمیر جعفری , احمد ندیم قاسمی
ساتویں قطار بائیں سے دائیں
شاعر لکھنوی ، شان الحق حقی ، کیف بھوپالی ، فارغ بخاری ، جعفر طاہر ، مختار صدیقی ، سورش کاشمیری ، اختر ہوشیارپوری ، جگن ناتھ آزاد ، ظہیر کاشمیری ، کیفی اعظمی ، خمار بارہ بنکوی ، مجروع سلطان پوری ، قتیل شفائی ، تنویر نقوی ، صہبا لکھنوی ، انجم رومانی ، ساحر لدھیانوی ، سلام مچھلی شہری ، سیف الدیں سیف ، وزیر آغا ، حسرت جے پوری ، ظہور نظر ، عزیز حامد مدنی ، محشر بدایونی
آٹھویں قطار بائیں سے دائیں
شوکت واسطی ، شیخ ایاز ، امید فاضلی ، ایوب صابر ، راہی احمد راہی ، ضیاء جالندھری، بیدل حیدری ، کلیم عاجز ، خاطر غزنوی ، جمیل الدین عالی ، ناصر کاظمی ، رئیس فروغ ، کمال احمد صدیقی ، حمایت علی شاعر ، سر شار صدیقی ، باقر مہدی ، نریش کمار شاد ، خلیل الرحمن اعظمی ، عرش صدیقی ، احمد ہمدانی
نویں قطار بائیں سے دائیں
ابن انشاء ، فرید جاوید ، محمد علوی ، قمر جمیل ، راجہ مہدی علی خان ، ساغر صدیقی ، ابن صفی ، منیر نیازی ، حبیب جالب ، دلاور فگار ، شبنم رومانی ، انور سدید ، بیکل اتساہی ، رسا چغتائی ، مظہر امام ، واصف علی واصف ، عمیق حنفی ، شمیم جے پوری ، نظیر صدیقی ، محبوب خزاں
دسویں قطار بائیں سے دائیں
فخر الدین بلے ، مصطفی زیدی ، نظیر صدیقی ، رشید قیصرانی ، صادقین ، احمد فراز ، جون ایلیاء ، قابل اجمیری ، حفیظ تائب ، صہبا اختر ، شہزاد احمد ، اقبال کوثر ، راجیندر منچندا بانی ، تنویر سپرا ، ظفر اقبال ، محسن بھوپالی ، شکیب جلالی ، خادم رزمی ، تاج سعید ، رضی اختر شوق ، احمد مشتاق
گیارہویں قطار بائیں سے دائیں
شاذ تمکنت ، اطہر نفیس ، رام ریاض ، حفیظ بنارسی ، محسن احسان ، مظفر وارثی ، مرتضے برلاس ، مشفق خواجہ ، بشیر بدر ، ظفر گورکھپوری ، عالم تاب تشنہ ، انور مسعود ، سید سبط علی صبا ، گلزار ، ساقی فاروقی ، عادل منصوری ، طارق عزیز ، شو کمار بٹالوی ، ندا فاضلی ، ماجد صدیقی ، سحر انصاری ، عطا شاد ،عبیداللہ علیم ، عرفان صدیقی ، اسلم انصاری
بارہویں قطار بائیں سے دائیں
وسیم بریلوی ، جاذب قریشی ، خورشید رضوی ، افتخار عارف ، انور شعور ، خالد احمد ، عطاالحق قاسمی ، پیرزادہ قاسم ، امیر قزلباش ، ناصر زیدی ، مسرور انور ، مشتاق عاجز ، امجد اسلام امجد ، غلام محمد قاصر ، جلیل عالی ، جاوید اختر ، سلیم کوثر ، نذیر قیصر ، اسلم کولسری ، عدیم ہاشمی ، افتخار نسیم افتی ، خواجہ رضی حیدر ، اظہر عنایتی ، محسن نقوی ، حکیم ناصر
تیرہویں قطار بائیں سے دائیں
اعتبار ساجد ، عبداللہ کمال ، ثروت حسین ، نصیر الدین نصیر ، صابر ظفر ، عبدالاحد ساز ، جمال احسانی ، شعیب بن عزیز ، راحت اندوی ، فیصل عجمی ، لیاقت علی عاصم ، منور رانا ، باصر کاظمی ، حسن کاظمی ، نصیر احمد نصیر ، احمد علی برقی اعظمی ، عارف امام ، عقیل عباس جعفری ، ایف ڈی شرف ، عزم بہزاد ، سعود عثمانی ، آنس معین ، ذی شان ساحل ، عباس تابش ، منصور آفاق
چودہویں قطار بائیں سے دائیں
مقصود وفا ، فرحت عباس شاہ ، رضی الدین رضی ، شاہین عباس ، رانا سعید دوشی ، شاکر حسین شاکر ، رحمان حفیظ ، عرفان ستار ، اجمل سراج ، شاکر شجاع آبادی ، مرشد سعید ناصر ، ذوالفقار عادل ، محمد مختار علی ، ادریس بابر ، شہزاد نیر ، شاہد زکی ، عزیز فیصل ، رمزی آثم ، عزیز نبیل ، جبار واصف ، وصی شاہ ، افتخار حیدر ، علی اکبر ناطق ، ندیم بھابھہ ، دانیال طریر
پندرہویں قطار بائیں سے دائیں
ممحمد محمود احمد ، اتباف ابرک ، عابی مکھنوی ،اظہر فراغ ، تجمل کلیم ، کاشف حسین غائر ، مسرور پیرزادو ، علی زریون ، رحمان فارس ، حماد نیازی ، شہزاد قیس ، ابھشیک شکلا ، تہذیب حافی ، مبشر سعید ، زبیر قیصر ، ابن منیب ، نعیم رضا بھٹی ، سرفراز آرش ، عمیر نجمی ، عطاالحسن ، رانا عامر لیاقت ، وقار خان ، عمار اقبال ، خرم آفاق ، ضیا مذکور






گرامیداشت مولانا جلال الدین رومی بمناسبت بزرگداشت مولوی در ھند در خانہ فرھنگ جمھوری اسلامی ایران در دھلی نو ، ھند دکتر احمد علی برقی اعظمی





گرامیداشت مولانا جلال الدین رومی بمناسبت بزرگداشت مولوی در ھند در خانہ فرھنگ جمھوری اسلامی ایران در دھلی نو ، ھند
دکتر احمد علی برقی اعظمی
افتخار ھند و ایران مولوی است
نازش دانش پژوھان مولوی است
مرجع ارباب عرفاں مولوی است
محرم اسرار یزدان مولوی ست
در زبان فارسی در مثنوی
شارح آیاتِ قرآن مولوی است
مثنوی سرچشمہ رشد و ھدی است
دوستدار نوع انسان مولوی است
می دھد پیغام انسان دوستی
غمگسار دلفگاران مولوی است
در جہان معنوی معرفت
رھبر روشن ضمیران مولوی است
روشن است از قونیہ تا شرق و غرب
روشنی نور ایمان مولوی است
قدردانِ اوست برقی اعظمی
سرگروہِ بزمِ رندان مولوی است


ایشیا ٹائمز یو ایس کا اردو صفحہ ۳۱ اکتوبر ۲۰۱۸ بشکریہ : ایشیا ٹائمز اردو یو یس و محترم حسن چشتی شیکاگو


کروڑی مل کالج دہلی میں ڈاکٹر محمد ریاض اور احمد علی برقی اعظمی کے نام ایک شام


زندگی سے زندگی کا حق ادا ہوتا نہیں : ایک زمین کئی شاعر جگر مراد بادی اور احمد علی برقی اعظمی : بشکریہ ایک زمین کئی شاعر، ایک انیک



ایک زمین کئی شاعر
جگر مراد بادی اور احمد علی  برقی  اعظمی
جگر مرادآبادی
عشق لا محدود جب تک رہنما ہوتا نہیں
زندگی سے زندگی کا حق ادا ہوتا نہیں
بیکراں ہوتا نہیں بے انتہا ہوتا نہیں
قطرہ جب تک بڑھ کے قلزم آشنا ہوتا نہیں
اس سے بڑھ کر دوست کوئی دوسرا ہوتا نہیں
سب جدا ہو جائیں لیکن غم جدا ہوتا نہیں
زندگی اک حادثہ ہے اور کیسا حادثہ
موت سے بھی ختم جس کا سلسلہ ہوتا نہیں
کون یہ ناصح کو سمجھائے بہ طرز دل نشیں
عشق صادق ہو تو غم بھی بے مزا ہوتا نہیں
درد سے معمور ہوتی جا رہی ہے کائنات
اک دل انساں مگر درد آشنا ہوتا نہیں
میرے عرض غم پہ وہ کہنا کسی کا ہائے ہائے
شکوۂ غم شیوۂ اہل وفا ہوتا نہیں
اس مقام قرب تک اب عشق پہنچا ہی جہاں
دیدہ و دل کا بھی اکثر واسطا ہوتا نہیں
ہر قدم کے ساتھ منزل لیکن اس کا کیا علاج
عشق ہی کم بخت منزل آشنا ہوتا نہیں
اللہ اللہ یہ کمال اور ارتباط حسن و عشق
فاصلے ہوں لاکھ دل سے دل جدا ہوتا نہیں
کیا قیامت ہے کہ اس دور ترقی میں جگرؔ
آدمی سے آدمی کا حق ادا ہوتا نہیں
احمد علی برقی اعظمی
جب جنونِ شوق میرا رہنما ہوتا نہیں
میں کہاں ہوں خود مجھے اس کا پتا ہوتا نہیں
جب جنونِ آگہی ہوتا ہے میرا خضرِ راہ
صرف وہ ہوتا ہے کوئی دوسرا ہوتا نہیں
دیدہ و دل اس سے ملنے کے لئے ہیں فرشِ راہ
کون سا لمحہ ہے جو صبر آزما ہوتا نہیں
اک متاعِ شوق تھی جو کردیا اس پر نثار
’’ زندگی سے زندگی کا حق ادا ہوتا نہیں‘‘
جس کے سینے میں دھڑکتا ہے دلِ درد آشنا
دوسروں کے غم سے وہ نا آشنا ہوتا نہیں
میری خوئے بے نیازی ہے مجھے بیحد عزیز
اس لئے دانستہ عرضِ مدعا ہوتا نہیں
موجِ طوفانِ حوادث کا یہ ہوجاتی شکار
کشتیٔ دل کا اگر وہ ناخدا ہوتا نہیں
دل کو دل سے راہ ہوتی ہے جنونِ شوق میں
جب یہ آجائے کسی پر پھر جدا ہوتا نہیں
رہروانِ شوق کے بھی پاؤں ہوجاتے ہیں شَل
سب کے بس کا جادۂ صبر و رضا ہوتا نہیں
منحصر بس دل پہ ہے یہ کاروبارِ زندگی
جس کا دل اچھا ہے وہ ہرگز بُرا ہوتا نہیں
چشمِ پُرنم سے  وہ ہوجاتا ہے اکثر آشکار
عشق کا اظہار یونہی برملا ہوتا نہیں
اس کی یادوں کا تصور بخشتا ہے روشنی
قصر دل کا جب کبھی روشن دیا ہوتا نہیں
تھے وہ برقی شہریارِ کشورِ شعرو سخن
کیا کروں مجھ سے جگر کا حق ادا ہوتا نہیں




’’ میں ہوں زمیں کے ساتھ کبھی آسماں کے ساتھ ‘‘ سیدہ منور جہاں زیدی کے مصرعہ طرح پرعشق نگر اردو شاعری کے ۴۴ ویں عالمی آنلاین فی البدیہہ طرحی مشاعرے میں میری طبع آزمائی : احمد علی برقی اعظمی



سیدہ منور جہاں زیدی کے مصرعہ طرح پرعشق نگر اردو شاعری کے ۴۴ ویں عالمی آنلاین فی البدیہہ طرحی مشاعرے میں میری طبع آزمائی
احمد علی برقی اعظمی
میرا معاملہ ہے یہ اہلِ جہاں کے ساتھ
جیسے کوئی سلوک کرے بے زباں کے ساتھ 
دونوں جگہ ہوں گردشِ حالات کا شکار
’’ میں ہوں زمیں کے ساتھ کبھی آسماں کے ساتھ ‘‘
دل میں ہے خون آتشِ سیال کی طرح
رہتا ہوں جیسے میں کسی آتش فشاں کے ساتھ
فصلِ بہار میں بھی خزاں کا شکار ہوں
اک ربطِ خاص ہے مرا دردِ نہاں کے ساتھ
میں نے جنھیں سکھایا تھا فنِ سپہہ گری
تھے سامنے وہی مرے تیر و کماں کے ساتھ
میری شناخت اب جو مٹانے پہ ہیں تلے
کرتے ہیں چھیڑ چھاڑ نماز و اذاں کے ساتھ
اس کا کبھی کسی سے نہ سودا کروں گا میں
برقی جو عشق ہے مجھے اردو زباں کے ساتھ




Ahmed Ali Barqi Azmi | 3rd Annual Function | Purple Pen | Vasudha Kanupr...

My Father Rahmat Ilahi Barq Azmi's ghazal Recited by Mohd Asad..