Monday, June 16, 2008

طوفان نرگس

طوفان نرگس
آج ماینمار ھے طوفان نرگس کا شکار
ھے گلوبل وارمنگ کا اس پہ یہ بھرپور وار
کیجئے راہ عمل مل جل کے کوئی اختیار
ورنہ آتے ھی رھینگے یہ حوادث بار بار
ھو گئے برباد لاکھوں ھیں ھزاروں لاپتہ
لوٹنے کا لوگ جن کے کر رھے ھیں انتظار
جا بجا بکھرے ھوئے ھیں ھر طرف لاشوں کے ڈھیر
بچ گئے ھیں جو انھیں ھے اب مدد کا انتظار
یہ ھے فطرت کے توازن کے بگڑنے کا عمل
آ رھا ھے ایک طوفان حوادث بار بار
کوئی پیمان کیوٹو پر نھیں کرتا عمل
ان مسائل کے لئے ھے نوع انساں ذمہ دار
اب بھی گر سوچا نہ اس آغاز کے انجام پر
آج ماینمار ھے کل ھوگا اس کا ھم پہ وار
پھلے ریٹا آیا پھر کٹرینا اور نرگس نے آج
کردیا ھے دامن انسانیت کو تار تار
آج ھے درکار ان کو بین الاقوامی مدد
جو ھیں ماینمار میں طوفان نرگس کے شکار
آج ھیں ھر ملک کو درپیش ایسے سانحے
پھلے بنگلادیش تھا سیلاب و طوفاں کا شکار
ھر طرح کا ھے پلوشن باعث سوحان روح
اس سے بچنے کی کریں تدبیر فورا اختیار
وقت کی ھے یہ ضرورت آج اے احمد علی
رکھیں فطرت کے توازن کو ھمیشہ برقرار

No comments: