یاد رفتگاں : یوم وصال آج ہے احمد فرازؔ کا یوم وفات : ۲۵ اگست۲۰۰۸ احمد علی برقیؔ اعظمی





یاد رفتگاں : یوم وصال آج ہے احمد فرازؔ کا
یوم وفات :
۲۵ اگست۲۰۰۸
احمد علی برقیؔ اعظمی
یومِ وصال آج ہے احمد فرازؔ کا
جن کے ہے معترف یہ جہاں امتیاز کا
سن دوہزار آٹھ سے وہ ہم سے دور ہیں
جن کا سخن مرقع تھا سوز و گداز کا
ہے گیسوئے عروسِ ادب آج خم بہ خم
جس کو ہے انتظار کسی کارساز کا
اردو غزل کی عہدِ رواں میں تھے آبرو
دھوکہ سخن پہ ہوتا تھا جن کے مجازؔ کا
رونق نہیں ہے محفل ناز و نیاز میں
محمود منتظر ہے کسی پھر ایاز کا
مہدی حسن تھے جس پہ ہمیشہ غزل سرا
اب پیرہن دریدہ ہے پردہ وہ ساز کا
برقیؔ غزل سے اُس کی جو کرتا تھا کسبِ فیض
محرم نہیں ہے آج کوئی اُس کے راز کا

یاد رفتگاں: عہدِ حاضر کے ممتاز اور بیدار مغز صحافی کلدیپ نیر کے سانحۂ ارتحال پر منظوم تاثرات تاریخ وفات : ۲۳ اگست ۲۰۱۸ احمد علی برقی ؔ اعظمی




یاد رفتگاں: عہدِ حاضر کے ممتاز اور بیدار مغز صحافی کلدیپ نیر کے سانحۂ ارتحال پر منظوم تاثرات
تاریخ وفات : ۲۳ اگست ۲۰۱۸ 
احمد علی برقی ؔ اعظمی
شخصیت کلدیپ نیر کی تھی اک تاریخ ساز
رہتی دنیا تک کرے گا ہر صحافی جن پہ ناز
عہدِ حاضر میں تھے وہ اردو صحافت کا ستون
اس صحافی کی صحافت کو تھا حاصل امتیاز
نبضِ دوراں پر بہت مضبوط تھی اُن کی گرفت
اُن کی ہر تحریر تھی سود و زیاں سے بے نیاز
اُن کے رشحاتِ قلم تھے ایک ایسا آئینہ
مُنعکس ہوتا تھا جن میں زندگی کا سو ز و ساز
عمر بھر تھا اُن کا حق گوئی و بیباکی شعار
تھا اسی میں اُن کی مُضمِر عالمی شہرت کا راز
گنگا جمنی ہند کی قدروں کے تھے وہ پاسباں
کرتے تھے وہ پیار سب سے مثلِ محمود و ایاز
مِٹ نہیں سکتے کبھی اُن کی صحافت کے نقوش
تھے وہ برقی ؔ اعظمی قول و عمل میں پاکباز

ہمیں معلوم ہے جرم محبت کی سزا کیاہے : احمد علی برقی اعظمی


famous poet SHAKEEL AAZMI IN ALL INDIA MUSHAIRA DEGLUR 3 FEB 2018






ہیں شکیل اعظمی جو مرے ہم وطن
ان کی غزلوں میں ہے دلنشیں فکر و فن
آپ سنئے یہاں ان کا عرضِ ہُنر

ہیں جو ہر بزم میں رونقِ انجمن
احمد علی برقی اعظمی

Urdu aur Taj Mahal آج حقانی کے دل ہیں روبرو دلنشیں ہے ان کی ادبی گفتگو ki ye dono Nishaniyan nafrat ke nishane par ...





آج حقانی کے دل ہیں روبرو
دلنشیں ہے ان کی ادبی گفتگو
آگرا ہے جن کا آبائی وطن
گلشنِ اردو کی ہیں وہ آبرو
کہتے ہیں دل تاج محلی سب انہیں
ہیں جو میرے ایک یارِ نیکخو
ہیں وہ برقی شاعرِ ہردلعزیز
ذکر جن کا ہر طرف ہے کو بکو
دلؔ تاج محلی کے شعور فکر و فن پر منظوم تاثرات
ڈاکٹر احمد علی برقیؔ اعظمی
سب کے ہے وِردِ زباں دلؔ تاج محلی کا کلام
اہل دل ہیں جو سمجھتے ہیں وہی ان کا مقام
’’ زخمِ دل ‘‘سے ہے نمایاں اُن کے اُن کا کربِ ذات
اور ’’ نقوشِ دلؔ ‘‘ ہے ان کا باعث صد احترام
اُن کے ’’ احساسات ‘‘ کی مظہر ہے اُن کی شاعری
آگرا کے ہے مشاہیرِ سخن میں اُن کا نام
جملہ اصنافِ سخن پر ہے اُنھیں حاصل عبور
اُن کے رخشِ فکر کی جولانیاں ہیں تیز گام
اپنے حُسنِ خُلق سے ہیں وہ دلوں پر حکمراں
امن و صلح و آشتی کا سب کو دیتے ہیں پیام
عہدِ حاضر میں ہیں وہ اک ماہرِ فنِ عروض
شعری سرمایہ ہے ان کا مرجعِ ہر خاص و عام
گنگا جمنی ہند کی تہذیب کے ہیں وہ نقیب
’’ با مسلماں اللہ اللہ با برہمن رام رام‘‘
قدرداں ہو کیوں نہ اُن کے فن کا برقیؔ اعظمی
اُن کے گل ہائے تغزل سے معطر ہے مشام

جارہے ہیں آپ تو پھر مسکراتے جائیے : احمد علی برقی اعظمی ۔۔۔ موجِ سخن کے ۲۰۰ ویں عالمی آنلائن فی البدیہہ طرحی مشاعرے بیاد جشنِ جون ایلیا بتاریخ ۱۹ اگست ۲۰۱۷ کے لئ میری طبع آزمائی



موجِ سخن کے ۲۰۰ ویں عالمی آنلائن فی البدیہہ طرحی مشاعرے بیاد جشنِ جون ایلیا بتاریخ ۱۹ اگست ۲۰۱۷ کے لئ میری طبع آزمائی
جارہے ہیں آپ تو پھر مسکراتے جائیے
’’ اپنی یادوں کا سرو ساماں جلاتے جائیے ‘‘
خانۂ دل جس میں مہماں تھے وہ ڈھاتے جائیے
نقش ہیں جو لوحِ دل پر وہ مٹاتے جائیے
خونِ دل جتنا جلانا ہے جلاتے جائیے
جشنِ بربادی محبت کا مناتے جائیے
سُرخرو ہیں آپ تو پھر سر اُٹھاتے جائے
جاتے جاتے مجھ سے پھر نظریں مِلاتے جائیے
کیوں کیا ترکِ تعلق مجھ سے آخر آپ نے
کیا خطا تھی میری یہ مجھ کو بتاتے جائیے
اِک ہنسی پر آپ کی میں مَرمِٹا دیوانہ وار
آپ سے کس نے کہا مجھ کو رُلاتے جائیے
قصرِ دل میں آکے میرے کیوں جلایا تھا اسے
ہے یہ یادوں کا دیا اس کو بجھاتے جائیے
چار دن کی چاندنی ہے یہ جہانِ آب و گِل
جس طرح پہلے ہنساتے تھے ہنساتے جائیے
آپ کا بھی جلد ہی آئے گا یومِ احتساب
ہے جو دوگز کی زباں منھ میں چلاتے جائیے
زندگی کا ماحصل ہوگی مری اس کی مہک
گلشنِ ہستی میں کوئی گُل کِھلاتے جائیے
دوستی کا گھونٹ دیں اپنے ہی ہاتھوں سے گلہ
فرض ہے جو دوستی کا وہ نبھاتے جائیے
آپ کو جون ایلیا کی دے رہا ہوں میں قسم
گا رہےتھے ان کی جو غزلیں وہ گاتے جائیے
کہہ رہا ہے آپ سے جو آج برقی اعظمی
اس کی سنئے اور اپنی بھی سناتے جائیے


میری قربانیوں کا صلہ کچھ نہیں : احمد علی برقی اعظمی ۔۔۔ بشکریہ حریم سخن


یہ چمن تمھارا ہے تم ہو باغباں اس کے بشکریہ : دیا ادبی گروپ احمد علی برقی اعظمی



یہ چمن تمھارا ہے تم ہو باغباں اس کے
بشکریہ : دیا ادبی گروپ
احمد علی برقی اعظمی
یہ چمن تمھارا ہے تم ہو باغباں اس کے
تم ہو غنچہ و گُل کے آج پاسباں اس کے
فرض جو ہمارا تھا کردیا ادا ہم نے
ہیں تمہارا سرمایہ آج نوجواں اس کے
تم امین ہو جس کے وہ مری امانت ہے
میہماں ہوںمیں جس میں تم ہو میزباں اس کے
یاد ہے تمہیں بھی کیا ان کی یہ فداکاری
آج جتنے چہرے ہیں زیبِ داستاں اس کے
کیا کبھی تَرَس آیا تم کو ان کی حالت پر
خوشنوا عنادل کیوں اب ہیں نوحہ خواں اس کے
قافلے کاکیوں اس کے منتشر ہے شیرازہ
اس لئے بنے تھے کیا میر کارواں اس کے
زد پہ آج برقی کا کیوں ہے آشیاں ان کی
اِرد گِرد رہتی ہیں صرف بجلیاں اس کے


روزنامہ انقلاب، پٹنہ کے مجوزہ مصرعہ طرح: ’’چمن میں پھول کھلیں گے کسی بہانے سے‘‘ پر آج مورخہ ۱۷ اگست کے روزنامہ انقلاب پٹنہ میں شایع خاکسار کی طرحی غزل احمد علی برقی اعظمی بشکریہ روزنامہ انقلاب۔ صفحہ ۱۲ بتاریخ ۱۷ اگست ۲۰۱۸


چمن میں پھول کھلیں گے کسی بہانے سے: نذرِ بسمل عظیم آبادی ۔۔۔بسمل عظیم آبادی کے مصرعہ طرح پر روزنامہ انقلاب پٹنہ کے ماہ رواں کے طرحی مشاعرے کے لئے لکھی گئی خاکسار کی فی البدیہہ طرحی غزل ، بشکریہ روزنامہ انقلاب پٹنہ بتاریخ ۱۷ اگست ۲۰۱۸




بسمل عظیم آبادی کی زمین میں روزنامہ انقلاب پٹنہ کے طرحی مشاعرے کے لئے خاکسار کی غزل کے ساتھ چند مزید شعرا کی طرحی غزلیں
بشکریہ : روزنامہ انقلاب پٹنہ بتاریخ
۱۷ اگست ۲۰۱۸
ڈاکٹر احمد علی برقیؔ اعظمی
سکون ملتا ہے جس کو مجھے ستانے سے
نہ باز آئے گا وہ مجھ پہ مُسکرانے سے
بہار صحنِ چمن میں ہے میرے آنے سے
چلا گیا تو نہ آؤں گا پھر بُلانے سے
خزاں کے بس میں نہیں روک دے وہ رشد و نمو
’’ چمن میں پھول کھلیں گے کسی بہانے سے ‘‘
امیر شہر کو آنا ہے گر خود آجائے
ہے احتراز مجھے اُس کے پاس جانے سے
اُسے ہے بارِ سماعت ہر ایک بات مری
ملے گا کیا اُسے سوزِ دروں سنانے سے
ہے بے لگام جو عہدِ رواں میں اشہبِ وقت
ڈرے وہ کہہ دو زمانے کے تازیانے سے
وہ سوچتا ہے کہ مسند نشین پھر ہوگا
مجھے ہی تختۂ مشقِ ستم بنانے سے
کہو مِلائے نہ آنکھیں وہ موجِ دریا سے
حباب ٹوٹ گیا اپنا سر اُٹھانے سے
دکھا رہا ہوں اسے اس کی شکل میں اُس میں
وہ کیوں ہے چیں بہ جبیں آئینہ دکھانے سے
ہیں آس پاس کئی اور بستیاں موجود
جلن ہے کیوں اُسے بس میرے آشیانے سے
مجھے سمجھتا ہے جو اپنا مُہرۂ شطرنج
وہ چوکتا نہیں اپنے کبھی نشانے سے
تھا مارِ آستیں جب خود ہی میرا پروردہ
نہیں ہے اب کوئی شکوہ مجھے زمانے سے
خدانے دی ہے مرے منھ میں بھی زباں برقیؔ
اگر میں بولا تو بولوں گا پھر ٹھکانے سے



یاد رفتگاں : بیاد سابق وزیر اعظم ہند اتل بیہاری واچپئی احمد علی برقیؔ اعظمی पूर्व प्रधान मंत्री श्री अटल बिहारी वाजपेयी के निधन पर श्रद्धांजली डॉ. अहमद अली बर्क़ी आज़मी



पूर्व प्रधान मंत्री श्री अटल बिहारी वाजपेयी के निधन पर श्रद्धांजली 
डॉ. अहमद अली बर्क़ी आज़मी 
अटल बिहारी जो साबिक़ वज़ीर ए आज़म थे 
वह आज आलम ए फ़ानी से हो गए रुखसत 
उन्हें अज़ीज़ थी हर शै से अपनी इज़्ज़त ए नफ़्स 
था उनका क़ौल " उन्हें मौत से नहीं वहशत "
कई थे अहल ए सियासत जो आये और गए 
था उनका औज ए शराफ उनके इल्म की दौलत 
क़लम के थे जो धनी नेहरू और वाजपेयी 
जहां में उससे थी दोनों की आलमी शोहरत
थे अपने अहद के वह एक सुख़नवर ए मारूफ 
थी उनके रंग ए तग़ज़्ज़ुल में नुदरत व रफ़अत
था उनके नाम की ज़ीनत ख़िताब ए भारत रत्न 
शआर ए ज़िन्दगी उनका था जज़्बा ए खिदमत 
हमारे दरमियान बर्क़ी है उनका दरस ए अमल 
रहें गए मर के भी तारीख हिन्द की ज़ीनत


یاد رفتگاں : بیاد سابق وزیر اعظم ہند اتل بیہاری واچپئی
احمد علی برقیؔ اعظمی
اٹل بیہاری جو سابق وزیر اعظم تھے
وہ آج عالمِ فانی سے ہو گئے رخصت
اُنہیں عزیز تھی ہر شے سے اپنی عزتِ نفس
تھا ان کا قول ’’ اُنہیں موت سے نہیں وحشت ‘‘
کئی تھے اہلِ سیاست جو آئے اور گئے
تھا اُن کا اوج شَرَف ان کے علم کی دولت
قلم کے تھے جو دھنی نہرو ؔ اور واچپئیؔ
جہاں میں اُس سے تھی دونوں کی عالمی شہرت
تھے اپنے عہد کے وہ اک سخنورِ معروف
تھی اُن کے رنگِ تغزل میں نُدرت و رفعت
تھا اُن کے نام کی زینت خطابِ بھارت رتن
شعارِ زندگی اُن کا تھا جذبۂ خدمت
ہمارے درمیاں برقی ؔ ہے اُن کادرسِ عمل
رہیں گے مَر کے بھی تاریخِ ہند کی زینت

Barqi Azmi Reciting Topical poetry On Independence Day In A Function Of ...

اک جشن باوقار ہے یہ پندرہ اگست احمد علی برقیؔ اعظمی एक जश्न ए बावक़ार है यह १५ अगस्त डॉ. अहमद अली बर्क़ी आज़मी


एक जश्न ए बावक़ार है यह १५ अगस्त
डॉ. अहमद अली बर्क़ी आज़मी
एक जश्न ए बावक़ार है यह १५ अगस्त
एक वजह ए इफ़्तेख़ार है यह १५ अगस्त
परचम गुशाई कीजिये हर जा बसद ख़ुलूस
मीज़ान ए एतेबार है यह १५ अगस्त
आज़ाद जब हुआ था ग़ुलामी से यह वतन
उसकी ही यादगार है यह १५अगस्त
दुनिया में है जो हिन्द की अज़मत का एक निशाँ
वह जश्न ए शानदार है यह १५ अगस्त
गुलहाए रंगा रंग है इसके नज़र नवाज़
सब के गले का हार है यह १५ अगस्त
सब के सुकून ए क़ल्ब का बाइस हो यह न क्यों
एक नखल ए सायादार है यह १५ अगस्त
जितना भी दिल लगाना है इससे लगाइये
बस प्यार प्यार प्यार है यह १५ अगस्त
जितना भी कोई नाज़ करे इस पे है वह काम

बर्क़ी तेरा वक़ार है यह १५ अगस्त

اک جشن باوقار ہے یہ پندرہ اگست
احمد علی برقیؔ اعظمی
اک جشنِ باوقار ہے یہ پندرہ اگست
اک وجہہِ افتخار ہے یہ پندرہ اگست
پرچم گشائی کیجئے ہرجا بصد خلوص
میزانِ اعتبار ہے یہ پندرہ اگست
آزاد جب ہوا تھا غلامی سے یہ وطن
اس کی ہی یادگار ہے یہ پندرہ اگست
دنیا میں ہے جو ہند کی عظمت کا اک نشاں
وہ جشنِ شاندار ہے یہ پندرہ اگست
گلہاہے رنگا رنگ ہیں اس کے نظر نواز
سب کے گلے کا ہار ہے یہ پندرہ اگست
سب کے سکونِ قلب کا باعث ہو یہ نہ کیوں
اک نخلِ سایہ دار ہے یہ پندرہ اگست
جتنا بھی دل لگانا ہے اس سے لگائیے
بس پیار پیار پیار پیار ہے یہ پندرہ اگست
جتنا بھی کوئی ناز کرے اس پہ ہے وہ کم
برقیؔ ترا وقار ہے یہ پندرہ اگست



نسائی لب و لہجے کی ممتاز شاعرہ میناؔ نقوی کے شعورِ فکر و فن پر منظوم تاثرات ڈاکٹر احمد علی برقیؔ اعظمی



نسائی لب و لہجے کی ممتاز شاعرہ میناؔ نقوی کے شعورِ فکر و فن پر منظوم تاثرات
ڈاکٹر احمد علی برقیؔ اعظمی
میناؔ نقوی کے تغزل کا الگ انداز ہے
جذبۂ نسواں کی ان کی شاعری آواز ہے
وہ بیاں کرتی ہیں عصری کرب کی جو داستاں
اجتماعی زندگی کا اُس میں سوز و ساز ہے
اُن کے سینے میں دھڑکتا ہے دلِ درد آشنا
عالمی شہرت کا مُضمرجس میں اُن کی راز ہے
اُن کے نو مجموعۂ اشعار ہیں وردِ زباں
ان کی غزلوں سے نمایاں ذہن کی پرواز ہے
’’ سائباں ‘‘ اور ’’ بادباں‘‘ ہیں عہدِ نو کی داستاں
’’ درد پَت جَھڑ کا ‘‘ نسائی کرب کی آواز ہے
’’ کرچیاں ہیں درد کی ‘‘ ہندی میں اُن کی دلفگار
اہلِ ہندی کو بھی اُن کی شاعری پر ناز ہے
’’ جاگتی آنکھیں ‘‘ بیاں کرتی ہیں دردِ ہجر کو
’’ منزل ‘‘ اور ’’ آئینہ اوجِ فکر کا اعجاز ہے
شاعری ہے ان کی برقیؔ زندگی کی ’’ دھوپ چھاؤں ‘‘
نُدرتِ فکر و نظر کی اُن کی جو غماز ہے