Wednesday, December 31, 2008

یومِ غالب تقریبات اختتام پذیر

یومِ غالب تقریبات اختتام پذیر
سہیل انجم
نئی دیلی
December 29, 2008


غالبِ خستہ کے بغیر کون سے کام بند ہیں!
دہلی میں وسط دسمبر سے شروع ہوئی یوم غالب تقریبات 27 دسمبر یعنی غالب کے 211ویں یوم پیدائش پر ختم ہو گئیں۔ اس موقع پر بستی حضرت نظام الدین میں واقع مزار غالب پر گل پوشی کی گئی اور اسی سے متصل غالب اکیڈمی میں سیمینار اور مجلس غزل سرائی کا اہتمام کیا گیا۔

مرزا غالب کو ’بیکسیِ عشق‘پر رونا آیا تھا، لیکن مداحان غالب کو ’بیچارگی مزار غالب‘ پہ رونا آتا ہے۔ تاعمر عسرت و تنگ دستی اور کس مپرسی کی زندگی گزارنے والے اس عظیم شاعر کے مزارپر برستی ویرانی دیکھ کر ان کے عاشقوں کی آنکھیں نم ہو جاتی ہیں۔تاہم سال میں ایک دن ایسا ضرور آتا ہے جب روحِ غالب ’مر کے رسوا ہونے اور جنازہ و مزارسے بیزاری ‘کا اظہار کرنے پرضرور شرمسار ہوتی ہوگی۔ان کے مزار پر فاتحہ خوانی کا سلسلہ ہر زائر کی آمد کے ساتھ چلتا رہتا ہے ۔البتہ مزارِ غالب کو پھولوں کی چادر سال میں ایک بار ہی نصیب ہوتی ہے۔

1969ءمیں غالب اکیڈمی کا افتتاح کرتے ہوئے اس وقت کے صدر جمہوریہ ڈاکٹر ذاکر حسین نے اپنے خطبے میں کہا تھا:

’سو سال بیت گئے کہ اسی مہینے میں غالب کا جنازہ بلی ماروں سے حضرت نظام الدین کی اس بستی میں آیا تھا اور یہیں وہ سپرد خاک کیے گئے تھے۔غالب عمر بھر ذاتی اور معاشرتی پریشانیوں میں مبتلا رہے۔لیکن وہ مایوس کبھی نہیں ہوئے۔ہر طرف گھٹا ٹوپ اندھیرا چھا گیا تو وہ اسے دیکھ کر مسکرا دیے اور کہا کہ یہ بھی گزر جائے گا۔ان کی زندگی میں امید کی شمع کبھی گل نہیں ہوئی اور اسی امید پرستی کے سہارے وہ زندگی سے پورا لطف اٹھاتے رہے۔اسی بنا پر وہ کہتے تھے کہ آج نہیں تو کل لوگ مجھے پہچانیں گے۔زندگی میں اگر مجھے اطمینان و سکون کا چمن زار نصیب نہیں تو اس سے کیا ہوا۔ایک دن وہ ہوگا کہ میرے مزار کے چاروں طرف چمن بندیاں اور پھولوں کی کیاریاں ہوں گی۔یہ اس لیے کہ زندگی میں میرا دل کسی کے حسن کے جلووٴں سے معمور اور اس کے قرب کا متمنی تھا۔میری یہ تمنا میرے مزار کے چاروں طرف لالہ و گل کی شکل میں نمایاں ہو گی۔غالب کے مزار کے چاروں طرف جو کچھ کیا جا رہا ہے اس میں غالب اکیڈمی کا قیام شامل ہے۔‘

آج گرچہ غالب کے مزار کے اطراف میں چمن بندیاں اور پھولوں کی کیاریاں نہیں ہیں تو کیا ہوا، مزار سے متصل گزرگاہ حضرت نظام الدین کی درگاہ تک جاتی ہے اور یہ پوری گزرگاہ شب و روز پھولوں اور گل دستوں سے سجی رہتی ہے۔

غالب اکیڈمی کے سکریٹری ڈاکٹر عقیل احمد اور دہلی کے معروف شاعر اور عاشق غالب متین امروہوی نے اپنے رفقا کے ساتھ مزار غالب پر پھولوں کی چادر چڑھا کر ان کی لالہ و گل کی خواہش کی تکمیل کر دی۔

اس موقع پر منعقدہ سیمینار میں متعدد دانشوروں نے مقالے پیش کیے اور غالب کے فن و فلسفے کی گرہیں کھولیں۔جبکہ مجلس غزل سرائی میں گلوکار کرم جیت سنگھ نے غالب کی غزلیں گائیں جن میں یہ دو غزلیں قابل ذکر ہیں:دل سے تری نگاہ جگر تک اتر گئی اور آہ کو چاہئیے اک عمر اثر ہوتے تک۔

متین امروہوی اور احمد علی برقی نے مرزا کو منظوم خراج عقیدت پیش کیا۔متین امروہوی نے منظوم سفرنامہ بھی سنایا۔ جس کے چند بند ملاحظہ فرمائیں:

ہر کسی کا ہے یہی غالب کے بارے میں خیال
یہ وہ سورج ہے نہیں ہوگا کبھی جس کا زوال
کچھ سنہری حرف تجھ سے اے مرے خامہ لکھوں
مرزا غالب کا تہِ دل سے سفرنامہ لکھوں
حال کلکتے کا یا دلی کا ہنگامہ لکھوں
پیرہن اس کی غزل کا نظم کا جامہ لکھوں
فکر کے دریا سے وہ الفاظ کے موتی نکال
یہ وہ سورج ہے نہیں ہوگا کبھی جس کا زوال

شاعر شیریں بیاں‘ شیریں نوا‘ شیریں سخن
ایسا فریادی کہ جس کا کاغذی تھا پیرہن
کل بھی اربابِ ادب میں وہ تھا شمع انجمن
آج بھی ہر دل میں وہ مسند نشیں‘ جلوہ فگن
اے مورخ ہے کوئی تاریخ میں ایسی مثال
یہ وہ سورج ہے نہیں ہوگا کبھی جس کا زوال

گلشنِ اردو میں اس کے دم سے آئی تھی بہار
محفلِ شعر و سخن ہوتی تھی اس سے لالہ زار
عندلیبانِ چمن تھے اس کے نغموں پر نثار
رنگ ہیں قوسِ قزح میں اس کی دنیا کے ہزار
غنچہٴ اشعار میں خوشبو ہے اس کی بے مثال
یہ وہ سورج ہے نہیں ہوگا کبھی جس کا زوال

احمد علی برقی کے منظوم خراج عقیدت کے چند اشعار دیکھیں:

نثر ہے غالب کی اک جوئے رواں
شاعری ہے ان کی گنجِ شائگاں
ان کا طرز فکر تھا سب سے الگ
منفرد ہے ان کا انداز بیاں
تھے وہ اقلیم سخن کے شہر یار
معترف ہے ان کی عظمت کا جہاں
وہ تھا ستائیس دسمبر کا ہی دن
جب ہوا پیدا وہ نقشِ جاوداں
جس کا ہم سر آج تک کوئی نہیں
جس کے احساسات ہیں اب تک جواں
ہے جو اردو شاعری کی آبرو
اس کا ہی جشن ولادت ہے یہاں

مرزا غالب بستی حضرت نظام الدین میں آرام فرما ہیں۔اس بستی کے بارے میں صاحبِ طرز انشا پرداز حضرت خواجہ حسن نظامی کے صاحب زادے اور ملک کے روحانی دانش وروں میں سے ایک خواجہ حسن ثانی نظامی لکھتے ہیں:

’سلطان المشائخ حضرت خواجہ نظام الدین اولیاء کے تشریف لانے سے قبل ہماری بستی کا نام غیاث پور تھا۔دلی والے اسے سلطان جی بھی کہتے رہے ہیں۔ا س کو حضرت نظام الدین کب سے کہا گیا، اس کے بارے میں کچھ کہنا مشکل ہے۔اول اول اس کے موجودہ مقام پر آبادی اس وقت شروع ہوئی جب حضرت نے خود یہاں قبرستان بنوایا۔ خانقاہ چونکہ دریا کے کنارے تھی اور سیلاب کا کچھ ٹھکانہ نہیں تھا‘ اسی لیے شاید اس مقام کو سیلابوں سے بچا کر زندوں کے لیے نہیں ‘ان مردوں کے لیے پسند کیا گیا جو بظاہر مردہ مگر در اصل زندہ تھے۔مرزا اسد اللہ خاں غالب بھی انہی مردوں میں سے ایک زندہ تھے جو حضرت کے چھ سو برس بعد یہاں آکر بسے یا لا کر بسا دیے گئے۔

آج کون یقین کرے گا کہ غالب تعمیرات کے جس جائز کم اور ناجائز زیادہ جنگل میں آرام فرما ہیں، یہاں کا منظرنامہ ہمیشہ سے ایسا نہیں تھا۔ غالب کی زندگی میں اور پھر دفن کے وقت تک یہ جگہ ایک باغ کی شکل میں تھی جس کے مشرق میں نہر بہتی تھی اور باغ کو شاید نیا نویلا ہونے کے سبب باغچی انار کلی جیسا شاعرانہ نام دیا گیا تھا۔


سہراب مودی کی فلم ’مرزا غالب‘ میں ثریا اور بھارت بھوشن
غالب مذکورہ بالا جس باغچی انارکلی میں دفن ہوئے اس کے مالک سید نقی اور سید تقی دو بھائی پیرزادگان درگاہ حضرت اولیا میں سے تھے۔جن کی وراثت چونکہ میرے والد‘ میری والدہ اور ماموں اور خالہ کو بھی پہنچی تھی، اس لیے اس کے کچھ حصے کی فروخت بحیثیت مختار عام راقم الحروف کے ذریعے حکیم عبد الحمید صاحب کے نام اور ذکی خان صاحب کے نام ہوئی۔غالب کے مزار کی تعمیر کے حوالے سے جو ہوائیاں اڑتی رہی ہیں اور جن میں سہراب مودی کا نام مالا کی طرح جپا جاتا ہے، اس کی اصلیت کچھ نہیں ہے۔مودی صاحب کا اس کام میں کبھی کوئی حصہ نہیں رہا۔ اپنی فلم کی ریلیز کے وقت وہ مزار پر چادر چڑھانے ضرور آئے تھے۔مزارِ غالب کی موجودہ تعمیر منشی ہرگوپال تفتہ کے نواسے اور ہندوستان کے مشہور سائنس داں سر شانتی سروپ بھٹناگر اور اشفاق حسین آف وزارتِ تعلیم وغیرہ کے سر ہے۔

مرزا کے نام سے غالب اکیڈمی کا قیام ہمدرد کے بانی حکیم عبد الحمید نے1969ءمیں کیا تھا اور اس کا افتتاح جیسا کہ اوپر لکھا گیا، اس وقت کے صدر جمہوریہ ڈاکٹر ذاکر حسین نے کیا تھا۔غالب کی یاد کو قائم رکھنے کی غرض سے اکیڈمی کے قیام کی خاطر حکیم صاحب نے غالب اکیڈمی کے نام سے ایک سوسائٹی بنائی تھی۔غالب اکیڈمی کے موجودہ سکریٹری ڈاکٹر عقیل احمد کے مطابق سوسائٹی میں کرنل بشیر حسین زیدی، قاضی عبد الودود، مالک رام، کنور مہیندر سنگھ بیدی، خواجہ احمد فاروقی، گوپی ناتھ امن، خواجہ غلام السیدین، محمد مجیب، ہمایوں کبیر، تارا کیشوری سنہا اور وی کے کرشنامینن وغیرہ شامل تھے۔

مزار غالب سے ملحقہ 910 مربع گز پر مشتمل دو قطعہٴ اراضی خریدی گئی اور اس پر غالب اکیڈمی کی تعمیر ہوئی۔اس اکیڈمی کا خاص مقصد غالب کی یاد کو ہند و بیرون ہند سے باہر قائم و دائم رکھنا ہے۔


غالب کا مزار
اکیڈمی میں ایک غالب میوزیم بنایا گیا ہے جس میں غالب کے عہد کی جھلک نظر آتی ہے۔غالب کے مکانوں کی تصاویر میوزیم کی خاص زینت ہیں۔غالب کے علاوہ ان کی غزلیں گانے والی ڈومنی کے مجسمے لوگوں کے دل موہ لیتے ہیں۔غالب کے لباس بھی سجا کر رکھے ہوئے ہیں اور ان کی مرغوب غذاوٴں کو اس انداز میں رنگ و روغن لگا کر بنایا گیا ہے کہ ان پر اصلی کھانے کا گمان ہوتا ہے۔ان کے عہد کے سکے، ڈاک ٹکٹیں، مہریں اور تحریر کے نمونے بھی موجود ہیں۔مشہور مصور ایم ایف حسین اور ستیش گجرال وغیرہ کی پینٹنگس جو کہ غالب کے اشعار پر مبنی ہیں، قابل دید ہیں۔معروف فنکار برجیندر سیال نے چھوٹے چھوٹے دو دو تین تین سنگ ریزوں کو ایک ساتھ ملا کر ان میں غالب کے اشعار کے معنی پہنائے ہیں جو کہ عجوبہ روزگار ہیں۔ان کو دیکھنے کے لیے ہند و بیرون ہند کے زائر سینکڑوں کی تعداد میں روز آتے ہیں۔یہ اسلوب برجیندر سیال کا اپنا ہے اور بقول ڈاکٹر عقیل احمد اب تک ان کا کوئی ثانی پیدا نہیں ہو سکا۔

انھوں نے وائس آف امریکہ سے بات چیت میں مزید بتایا کہ غالب اکیڈمی کے ذریعے غالب کی یادوں کے ساتھ ساتھ ان کے فن و فلسفہ کو بھی پوری دنیا میں پہنچانے کی کوشش کی جاتی ہے۔ہر ماہ ادبی نشست ہوتی ہے اور غالب لیکچر منعقد کروائے جاتے ہیں۔جہان غالب کے نام سے ایک جریدہ بھی شائع کیا جاتا ہے اور اکیڈمی کے پروگراموں میں جو مقالے پڑھے جاتے ہیں ان کو کتابی شکل میں شائع بھی کیا جاتا ہے۔اس کے علاوہ دنیا کی مختلف زبانوں میں غالب پر جو کام ہو رہاہے اس کی اشاعت کا بھی انتظام کیا جاتا ہے۔اردو سے دلچسپی رکھنے والے طلبہ کے لیے مختلف قسم کے تعلیمی پروگرام بھی منعقد کیے جاتے ہیں۔

غالب کی یادوں کو زندہ رکھنے اور عام لوگوں تک ان کے بارے میں معلومات فراہم کرنے کے میدان میں ایک اہم نام ملک کی معروف رقاصہ اوما شرما کا بھی ہے۔وہ 1973ءسے غالب پر مختلف انداز میں سال بہ سال پروگرام کرتی ہیں۔ جس میں سب سے اہم یہ ہے کہ وہ غالب کی غزلوں پر رقص پیش کرتی ہیں اور اپنے انداز، حرکات و سکنات اور اشارہ چشم و ابروسے اشعار کے مفہوم کو رقص کے ذریعے نمایاں کرتی ہیں۔امسال انھوں نے دو پروگرا موں کا اہتمام کیا۔ ایک کینڈل مارچ کا، جو کہ فصیل بند شہر کے ٹاوٴن ہال سے غالب کی حویلی تک گیا تھا اور دوسرا پروگرام رقص پر مشتمل تھا جو کہ 22دسمبر کو چنمے مشن لودھی روڈ میں ہوا تھا۔ یہ رقص غالب کے ایک عاشق پون ورما کی غالب پر کتاب کے اقتباسات پر مبنی تھا۔پون ورما کتاب پڑھتے تھے اور جب شعر آتا تھا تو اوما شرما ڈائس پر آجاتی تھیں اورشعر پر رقص کرتی تھیں۔

اس موقع پر ایسا سیٹ تیار کیا گیا تھا جو انتہائی بامعنی تھا اور یوں لگ رہا تھا کہ مرزا غالب خود مجلس میں موجود ہیں۔ انھوں نے کئی غزلوں پر اپنے فن کا مظاہرہ کیا۔’شمع بجھتی ہے تو اس میں سے دھواں اٹھتا ہے‘ اور ’رہئیے اب ایسی جگہ چل کر جہاں کوئی نہ ہو‘ وغیرہ کی غزلوں پر ان کے رقص سے لوگ بے انتہا محظوظ ہوئے۔ در اصل وہ غالب کی غزلوں پر جورقص پیش کرتی ہیں وہ ان کا اپنا ایجاد کردہ ہے اور برجیندر سیال کی مانند ان کا بھی کوئی ہمسر ابھی تک پیدا نہیں ہوا ہے۔

اوما شرما نے ’غالب میمورئیل موومنٹ‘ کے نام سے ایک گروپ بنا رکھا ہے جس کے چئیرمین معروف سفارتکار سید عابد حسین اور وائس چئیر مین پون ورما ہیں۔اوما شرما نے وائس آف امریکہ سے خصوصی بات چیت میں بتایا کہ وہ غالب کے فن کو رقص کی مدد سے ملک و بیرون ملک میں متعارف کرانا چاہتی ہیں۔ لیکن انھوں نے اظہار تاسف کرتے ہوئے کہا کہ جس قدر مالی اعانت ہونی چاہئیے وہ غالب کے مداحوں کی طرف سے نہیں ہو پاتی۔ تاہم دہلی حکومت اس سلسلے میں ان کی خاصی مدد کرتی ہے لیکن اس بار الیکشن کی وجہ سے اس نے کوئی مدد نہیں کی۔

جب ہم نے ان سے پوچھا کہ ان کو غالب سے کیسے دلچسپی پیدا ہوئی؟ تو انھوں نے پہلے تو ایک زوردار قہقہی لگایا اور پھر کہا کہ انھیں 1973ءمیں غالب کی دو غزلیں سننے کا موقع ملا ۔ جن کے مطلعے تھے:
آہ کو چاہئیے اک عمر اثر ہوتے تک
کون جیتا ہے تری زلف کے سر ہوتے تک
اور
مدت ہوئی ہے یار کو مہماں کیے ہوئے
جوش قدح سے بزم چراغاں کیے ہوئے

انھوں نے کہا کہ اس کے بعد تو وہ غالب کی طرف بڑھتی چلی گئیں۔دس بارہ سال قبل وہ سرکاری ٹیلی ویژن دور درشن کے لیے ’نینا‘ نامی ایک سیریل بنا رہی تھی جس میں ایک قسط غالب پر بھی تھی۔ اس کے لیے جب وہ غالب کی حو یلی میں شوٹنگ کرنے پہنچیں تو اس کی خستہ حالی دیکھ کر دنگ رہ گئیں۔ پھر تو انھوں نے خوب شور مچایا۔ چونکہ اونچے حلقوں میں ان کی پہنچ ہے اس لیے ان کی آواز نقارخانے میں طوطی کی آواز بننے کے بجائے خود نقارہ بن گئی اور پھر غالب کی حویلی کے دن لوٹ آئے۔ اس سے پہلے اس میں لکڑی کی ایک ٹال تھی۔حویلی کی بازیابی میں ان کے رول کو نظر انداز نہیں کیا جا سکتا۔شوٹنگ کے بعد انھوں نے حویلی میں ایک تین روزہ جشن کا اہتمام کیا۔ جس میں علی سردار جعفری، کیفی اعظمی، جاوید اختر اور دوسرے بڑے بڑے شعرا تشریف لائے تھے۔

انھوں نے بتایا کہ چونکہ حالیہ رقص کے پروگرام کو سیاسی تقاضوں کی وجہ سے شہرت نہیں ملی اس لیے وہ اسی پروگرام کو غالب کے یوم وفات یعنی 22فروری کو پھر پیش کریں گی اور ان کی کوشش ہوگی کہ غالب کے فن سے دلچسپی رکھنے والے بڑی تعداد میں اس میں شرکت کریں۔جب ہم نے ان سے پوچھا کہ کیا آپ کو اردو ادیبوں ‘ شاعروں اور اردو سے محبت کا دم بھرنے والوں سے کوئی سپورٹ ملتی ہے تو انھوں نفی میں جواب دیا ۔ جب ہم نے پوچھا کہ کیا اس سلسلے میں وہ پر امید ہیں؟ تو انھوں نے بہ زبانِ غالب کہا:

کوئی امید بر نہیں آتی
کوئی صورت نظر نہیں آتی







No comments: