Saturday, August 24, 2013

ایک شام برقی اعظمی کے نام منعقد


ایک شام برقی اعظمی کے نام منعقد



بھوپال۔ ۳۰ دسمبر ۲۰۱۲۔ مشہور شاعر ڈاکٹر احمد علی برقی اعظمی کے اعزاز میں ایک شام برقی اعظمی کے نام مسلم سلیم کے دولت کدہ پر منعقد کی گئی۔ اردو یوتھ فورم کے زیر اہتمام منعقدہ اس تقریب میں ڈاکٹر احمد علی برقی اعظمی کے بصیرت افروز کلام کو نہایت انہماک سے سنا اور دادِ تحسین دی گئی۔ مسلم سلیم، ڈاکٹر سوریہ بالی سورج اور ڈاکٹر اعظم نے بھی اپنے کلام سے نوازا۔ صدارت پروفیسر آفاق احمد نے فرمائی جبکہ نظامت کے فرائض مسلم سلیم نے انجام دئیے۔ ڈاکٹر احمد علی برقی اعظمی جشنِ مسلم سلیم کے سلسلے میں بھوپال تشریف لائے تھے اور اسی دن صبح تقریب کی صدارت بھی فرمائی تھی۔
شعرا کا تعارف پیش کرتے ہوئے مسلم سلیم نے کہا کہ ڈاکٹر برقی اعظمی بر صغیر کے ایک ممتاز شاعر ہیں۔ اعظم گڑھ میں متولّد ڈاکٹر برقی اعظمی نے دلی کو وطنِ ثانی بنا لیا ہے اور وہاں آل انڈیا ریڈیو کی فارسی نشریات کے سربراہ ہیں۔ ڈاکٹر برقی اعظمی بے حد زود گو شاعر ہیں لیکن علمی استعداد، علم عروض اور زبان و بیان پر زبردست گرفت کے سبب ان کی برق رفتار شاعری میں تمام تر شعری محاسن بدرجہءِ اتم پائے جاتے ہیں۔ وہ اب تک ۳ ہزار سے زائد غزلوں اور موضوعاتی نظموں سے قطعِ نظر سیکڑوں شعرا ء و ادبا ء پر منظوم تاثرات قلمبند کر چکے ہیں۔ اگر گینیز بک آف رکارڈز میں ایسی کوئی کیٹے گری ہوتی تو یقیناً ڈاکٹر برقی اعظمی ہی اس کے حقدار ہوتے۔
ڈاکٹر اعظم کے بارے میں مسلم سلیم نے کہا کہ وہ بھوپال کے اردو افق پرایک نئے ستارے کی طرح ابھرے ہیں۔ ان معیاری کلام اور فعالیت اردو کے لئے ایک فالِ نیک ہے۔
مسلم سلیم نے کہا کہ ڈاکٹر سوریہ بالی سورج جیسے شاعروں کا نمودار ہونا اس بات کی علامت ہے کہ غیر اردو داں طبقہ تیزی سے اردو کی جانب راغب ہو رہا ہے۔ ڈاکٹر سوریہ بالی سورج کا تعلق الہ آباد سے ہے۔ حال ہی میں انکا تقرر زیرِ تعمیر آل انڈیا انسٹی ٹیوٹ آف میڈیکل سائینس، بھوپال میں ہوا ہے۔ ڈاکٹر سوریہ بالی سورج جب امریکہ میں زیرِ تعلیم تھے تبھی سے میرا (مسلم سلیم) ان سے غائبانہ تعارف اور خط و کتابت تھی۔ آج ان کا کلام ان ہی کے دہنِ مبارک سے سن کر از حد مسرت کا احساس ہورہا ہے۔
اپنے صدارتی خطبہ میں عظیم المرتبت پروفیسر آفاق احمد نے ڈاکٹر احمد علی برقی اعظمی کو اردو کا ایک مخلص اور نایاب شاعر بتایا۔ پروفیسر آفاق احمد نے کہا کہ اردو ادب کی تاریخ میں ایسے کم ہی شعرا ہونگے جو زود گوئی کے با وصف اتنا مرصع کلام کہتے ہونگے۔ پروفیسر آفاق احمد نے جناب مسلم سلیم کا شکریہ ادا کیا کہ وہ ڈاکٹر احمد علی برقی اعظمی اور ڈاکٹر سوریہ بالی سورج جیسے ہونہار شعرا کو اپنی ویب سائٹوں کے ذریعے منظرِ عام پرلا رہے ہیں۔ اردو یوتھ فورم کا تذکرہ کرتے ہوئے پروفیسر آفاق احمدنے اظہارِ مسرت کیا کہ ایک طویل عرصے کے بعد بھوپال کی کسی اردو تقریب میں اتنے سارے اعلیٰ تعلیمیافتہ نوجوانوں کی شمولیت اس با ت کا مژدہ ہے کہ بھوپال میں اردو کا احیاء ہونے کو ہے۔
ابتداء میں اردو یوتھ فورم کے صدر عطاء اﷲ فیضان، سکریٹری عبد الا حد فرحان، نائب صدر شارق علی و اراکین نے ڈاکٹر احمد علی برقی اعظمی و دیگرمعزز مہمانوں کی گل پوشی اور استقبال کیا۔
اردو یوتھ فورم کے اراکین میں ڈاکٹر احمد علی برقی اعظمی کی مقبولیت کا یہ عالم تھا کہ وہ دیر رات تک ان کا کلام سنتے اور دادِ تحسین دیتے رہے۔ بڑی تعداد میں یہ نوجوان ڈاکٹر احمد علی برقی اعظمی کو بھوپال ریلوے اسٹیشن پر الوداع کہنے پہنچے اور تب تک ان کا کلام فرمائشیں کرکے سنتے رہے جب تک ٹرین روانہ نہیں ہو گئی۔

No comments: