بیاد کلیم عاجز مرحوم : احمد علی برقی اعظمی


فیس بُک کی محفلیں اردو کی ہیں خدمتگذار : احمد علی برقی اعظمی


بشیر بدر کے مصرعہ طرح پر قوس قزح ادبی گروپ کے ۳۳ویں عالمی فی البدیہہ طرحی مشاعرے کے لئے میری طبع آزمائی :احمد علی برقی اعظمی


بشیر بدر کے مصرعہ طرح پر قوس قزح ادبی گروپ کے ۳۳ویں عالمی فی البدیہہ طرحی مشاعرے کے لئے میری طبع آزمائی
احمد علی برقی اعظمی
پَلوشن بڑھ رہا ہے دن بہ دن جو کم نہیں ہوتا
’’ ہرے پیڑوں کے گرنے کا کوئی موسم نہیں ہوتا‘‘
’’ گلوبَل وارمنگ ‘‘ کی زد میں ہے شیرازۂ ہستی
وگرنہ ناک میں ہرگز سبھی کا دم نہیں ہوتا
سبھی مجبور ہیں شہروں میں جامِ زہر پینے کو
اثر آلودگی کا بڑھ  رہا ہے کم نہیں ہوتا
مٹانے پر تُلا ہے صفحۂ ہستی سے وہ مجھ کو
سرِ تسلیم میرا جس کے آگے خَم نہیں ہوتا
مجھے ڈر ہے نہ رَستے رِستے یہ ناسور ہو جائے
مرے زخمِ جگر کا کیا کوئی مرہم نہیں ہوتا
جَلائے جارہا ہوں اس کو طوفانِ حوادث  میں
چراغِ آرزو پھر بھی مرا مدھم نہیں ہوتا
بسر کب تک کروں گُھٹ گُھٹ کے یونہی زندگی اپنی
نہ جانے کیوں مرا سوزِ دروں یہ کم نہیں  ہوتا
نہ ہوتا سُرخیٔ اخبار ہر سو میرا افسانہ
رقیبِ روسیہ میرا اگر محرم نہیں ہوتا
نہ ہوتا بند میرا ناطقہ احمد علی برقی
نشاط و کیف رنج و غم میں گر مدغم نہیں ہوتا

شہر کے اتنے بتوں کی بندگی کیسے کریں : پروفیسر آل احمد سرور کے مصرعہ طرح پر دیا ادبی فورم کے ۹۶ ویں علمی آن لائن فی البدیہہ طرحی مشاعرے کے لئے میری کاوش






شہر کے اتنے بتوں کی بندگی کیسے کریں : پروفیسر آل احمد سرور کے مصرعہ طرح پر دیا ادبی فورم کے ۹۶ ویں علمی آن لائن فی البدیہہ طرحی مشاعرے کے لئے میری کاوش
احمد علی برقی اعظمی
ہے ادا کرنا جو حقِ بندگی کیسے کریں
بندہ پرور یہ بتائیں آپ ہی کیسے کریں
ہر کوئی خود کو سمجھتا ہے امیر شہر آج
’’ شہر کے اتنے بتوں کی بندگی کیسے کریں‘‘
زد پہ برق و باد کی ہر وقت ہے اپنا چمن
ہم بسر عہدِ رواں میں زندگی کیسے کریں
دندناتے پھر رہے ہیں دائیں بائیں شر پسند
آرزوئے امن و صلح و آشتی کیسے کریں
دوست دشمن میں ہے کرنا اب تو مشکل امتیاز
رونے سے فرصت نہیں ہے دل لگی کیسے کریں
اب نظر آتی نہیں کوئی کرن امید کی
دور گِرد و پیش کی یہ تیرگی کیسے کریں
اس میں ہے درکار برقی اعظمی خونِ جگر
تم ہی ایسے میں بتاؤ عاشقی کیسے کریں

میں اپنے پاس بیٹھا رہ گیا ہوں: فی البدیہہ طرحی غزل بر مصرعہ طرح اقبال کوثر: احمد علی برقی اعظمی






جدید ادبی تنقیدی فورم کے پندرہ روزہ فی البدیہہ طرحی مشاعرے بتاریخ ۲۹ جون ۲۰۱۲ کے لئے میری کاوش
احمد علی برقی اعظمی
بجا تھا پہلے بے جا رہ گیا ہوں
نہیں تھا ایسا جیسا رہ گیا ہوں
میرا سایہ ہی میرا ہمنشیں ہے
’’میں اپنے پاس بیٹھا رہ گیا ہوں‘‘
کروں میں کس سے عرضِ حال اپنی
بھری محفل میں تنہا رہ گیا ہوں
سمندر کی طرح ہے میری حالت
ہے پانی پھر بھی پیاسا رہ گیا ہوں
بساطِ زندگی پر کیا بتاؤں
مقدر کا میں مُہرا رہ گیا ہوں
نہیں ہے کوئی میرے آگے پیچھے
میں اپنوں میں اکیلا رہ گیا ہوں
ہیں کُہنہ مشق جو اقبال کوثر
میں ان کے فن کا شیدا رہ گیا ہوں
یہ بزم اعزاز میں جن کے سجی ہے
پڑھا اُن کو تو پڑھتا رہ گیا ہوں
ہے برقی زندگی ایسا معمہ
اسی کے گِرد اُلجھا رہ گیا ہوں

جدید ادبی تنقیدی فورم کے پندرہ روزہ فی البدیہہ طرحی مشاعرے بتاریخ ۲۹ جون ۲۰۱۲ کے لئے میری دوسری کاوش
احمد علی برقی اعظمی
سیاست کا میں مُہرا رہ گیا ہوں
وہ آقا ہیں میں بندا رہ گیا ہوں
ہے زیرِ لب تبسم کیوں سبھی کے
میں جیسے اک تماشا رہ گیا ہوں
مجھے چشمِ حقارت سے نہ دیکھو
میں فکرو فن میں یکتا رہ گیا ہوں
ہے اتنا شور بزمِ آب و گِل میں
میں گونگا اور بہرا رہ گیا ہوں
نگاہیں دیکھ کر ہیں اس کو خیرہ
اسے دیکھا تو تکتا رہ گیا ہوں
سمجھتے ہیں مجھے وہ جنسِ ارزاں
ہر اک شے سے میں سستا رہ گیا ہوں
دکھائی راہ جن کو زندگی بھر
وہ کہتے ہیں میں اندھا رہ گیا ہوں
نگایہں پھیر لیں جب سے انھوں نے
میں برقی ہکّا بَکّا رہ گیا ہوں





Barqi Azmi With Eminent Urdu Fiction Writer & Secreatary of Bihar Urdu Academy Moshtaque Ahmad Noori


احمد علی برقی اعظمی مشاہیر علم و ادب کی نظر میں


Fayyaz Sheheryar
احمد علی برقی اپنی غیر معمولی صلاحیتوں کے لیے مقبول ہیں اور مقتدر بھی ۔ پر گو ہیں اور اصلاح سے بے نیاز بھی۔ میں سمجھتا ہوں کہ اس دور کے اساتذہ کی پہلی صف میں بھی انکی جگہ الگ اور نمایاں ہے ۔
فیاض شہریار ڈائریکٹر جنرل آل انڈیا ریڈیو
ماخوذ از فیس بک
" روحِ سُخن " اُردو غزلیہ شاعری میں ایک بیش بہا اضافہ ہے - یہ بات وثوق سے کہی جا سکتی ہے کہ برقی صاحب کی شاعری غزل میں نئے تجربوں کی طرف اچھّی پیش قدمی ہے "

سرور عالم راز سرور، امریکا


" آپ ہیئت اور موضوع دونوں اعتبار سے روایت کا دامن تھامے دکھائی دیتے ہیں، مجاز سے حقیقت کی جہت میں سفر اُردو شاعری کی پہچان رہی ہے ،اسی لیے شاعر کا ذہن بھی اسی حقیقت کو موضوعِ اظہار بناتا ہے "

مظفر احمد مظفر، انگلینڈ


" آج وہ شاید واحد شاعر ہیں جو انٹرنیٹ اور سوشل سائنس کی مدد سے دُنیا کے مُختلف حصّوں میں معروف و مقبول ہیں "

عبد الحئی: اسٹنٹ ایڈیٹر، اُردو دُنیا نئی دہلی


" جناب برقی اعظمی نئے عہد کے شاعر ہیں اور پوری تعلیم بھی یو نیورسٹیوں اور کالجوں میں ہُوئی ہے - لیکن ان کی علمی و ادبی تربیت کچھ ایسی ہوئی ہے کہ وہ کسی بھی سطح پر اپنی تہذیب و روایت سے دامن کش نہیں ہوتے "

ڈاکٹر تابش مہدی، بھارت


ڈاکٹر احمد علی برقی صاحب کا بہترین مجموعۂ کلام " روحِ سُخن " اپنی آب و تاب کے ساتھ منظرِ عام پر آگیا ہے جو قابلِ دید بھی ہے اور قابلِ داد بھی "

سیّد ضیاء خیرآبادی، امریکا


" ڈاکٹر احمد علی برقی کا تخلیقی سفر خلوص اور مُحبّت کے گیت گاتا ہُوا نفرت کی دیواروں کو توڑتا ہوا، ملکوں کی سرحدوں کو پار کرتا ہوا، انسانیت اور تہذیب کے وقار کو بڑھاتا ہوا، امن اور شانتی کا درس دیتا ہوا، حق کا پرچم اُٹھائے دورِ حاضر کے تقاضوں کو پورا کرتا ہوا آگے بڑھ رہا ہے "

ڈاکٹر سیّدہ عمرانہ نشتر خیر آبادی، امریکا


ڈاکٹر احمد علی برقیؔ اعظمی، شاعر،نقاد، دانشور اور عصر حاضر کے شگفتہ بیان شاعر ہیں -

ڈاکٹر نصرت جہاں کی نظر میں

ڈاکٹر احمد علی برقی اعظمی نازِ سخن اور شہنشاہِ سخن ہیں۔

ڈاکٹر ایم زیڈ کنول













گرامیداشت مولانا جلال الدین رومی دکتر احمد علی برقی اعظمی


نعت رسول مقبول ﷺ بعنوان رودادِ دل : احمد علی برقی اعظمی


غالب اکیڈمی نئی دہلی میں ادبی نشست کا اہتمام




غالب اکیڈمی میں ادبی نشست کا اہتمام
گذشتہ روز غالب اکیڈمی ،نئی دہلی میں ایک ادبی نشست کا اہتمام کیا گیا جس کی صدارت جناب انجم عثمانی نے کی اور ہندی اردو کے شعرا اور افسانہ نگار وں نے اپنی تخلیقات پیش کیں۔نشست میں عالمی شہرت یافتہ مزاح نگار مشتاق احمد یوسفی کے انتقال پر ملال پر رنج وغم کا اظہار کیا گیا۔ انجم عثمانی نے اظہار خیال کرتے ہوئے کہا کہ مشتاق احمد یوسفی ٹونک میں پیدا ہوئے۔دنیا کے مختلف ممالک میں رہ کر کراچی میں رہنے لگے ان کی تحریریں کلاسک کا درجہ رکھتی ہیں۔ وہ اردو کے بڑے ادیب تھے طنزو مزاح کی دنیا انھیں کے دم سے آباد تھی ان کے جانے سے اردو کا بہت بڑا نقصان ہوا ہے۔ ان کی کتابیں چراغ تلے،خاکم بہ دہن،زرگزشت،آبِ گم اور شام شہریاراں نے ان کو امر کردیا یہ اردو ادب کا وہ سرمایہ ہے جس پر آنے والی نسلیں فخر کریں گی۔اس موقع پر انجم عثمانی نے اپنا انشائیہ بھی پڑھ کر سنایا جسے بہت پسند کیا گیا۔چشمہ فاروقی نے جاہل کے عنوان سے ایک افسانہ پڑھا اور شعرا نے اپنے کلام سے سامعین کو محظوظ کیا۔ چند اشعار پیش خدمت ہیں۔
رہ عشق میں وہ بھی آتی ہے منزل

نہ ہنستی ہیں آنکھیں نہ روتی ہیں آنکھیں

متین امروہوی
حساب لے کوئی جو بے قصور مارئے گئے

اور اپنی بے ہنری کی قسم بھی کھا نہ سکے

نسیم عباسی
خدا احساس بن کر بولتا ہے

کوئی مجھ میں اتر کر بولتا ہے

سکندر عاقل
خوشی کو بانٹتے اور غم کو چھپانے والے

وہ بھی کیا لوگ تھے رشتوں کو نبھانے والے

سمیر وشسٹھ
تجھ کو مانا کہ ادب کا ہے سلیقہ لیکن

اتنا سر بھی نہ جھکا اپنا کہ دستار گرادے

منوج بیتاب
جب سے اس دل کو میرے تیری چاہت ہوگئی

جینے کی مرمر کے اس کی عادت ہوگئی

ڈاکٹر دویا جین
تیری طلب کی حد نے ایسا جنون بخشا

ہم خود کو بھول بیٹھے تھے یاد کرتے کرتے

عزیز مرزا
اس موقع پر جناب ڈاکٹر مظہر محمود نے اظہار خیال کرتے ہوئے کہا کہ اس طرح کی ادبی نشستوں کا انعقاد ضروری ہے۔آخر میں سکریٹری غالب اکیڈمی نے بتایا کہ اس سال اردو رسم الخط سکھانے کے لیے اگنو اور اردو اکادمی کے سرٹیفکٹ کورس میں داخلے ہو رہے ہیں ۔جواردو بولنا جانتے ہیں اور شعر بھی کہتے ہیں لیکن اردو رسم الخظ سے واقف نہیں ہیں ۔ ان کے لیے اچھا موقع ہے۔


قلبی واردات اور عصری رجحانات کے شاعر ڈاکٹر احمد علی برقی اعظمی: ڈاکٹر مجیب شہزر ، بشکریہ شعرو سخن ڈاٹ نیٹ


http://sherosokhan.net/ahmed-ali-barqi-by-mujeeb-shehzar

قلبی واردات اور عصری رجحانات کے شاعر ڈاکٹر احمد علی برقی اعظمی: ڈاکٹر مجیب شہزر ، بشکریہ شعرو سخن ڈاٹ نیٹ

’’ روح سخن ‘‘ برقی اعظمی کے فکر و فن کا آئینہ ۔ تحریر انجیبنئر محمد فرقان سنبھلی ۔ بشکریہ اردو نیٹ جاپان

’’ روح سخن ‘‘ برقی اعظمی کے فکر و فن کا آئینہ
تحریر انجیبنئر محمد فرقان سنبھلی ۔ بشکریہ اردو نیٹ جاپان






DETI HAIN DAWAT E DEEDAR TUMHARI AANKHEIN. BARQI AZMI.PRODUCED BY MOHAM...

دھوپ میں نکلو گھٹاؤں میں نہا کر دیکھو : ایک زمین کئی شاعر ندا فاضلی اور احمد علی برقی اعظمی ، بشکریہ ناظم ایک زمین کئی شاعر ، اردو کلاسک اور ایک اور انیک جناب عمر جاوید خان



ایک زمین کئی شاعر
ندا فاضلی اور احمد علی برقی اعظمی
ندا فاضلی
دھوپ میں نکلو گھٹاؤں میں نہا کر دیکھو
زندگی کیا ہے کتابوں کو ہٹا کر دیکھو
صرف آنکھوں سے ہی دنیا نہیں دیکھی جاتی
دل کی دھڑکن کو بھی بینائی بنا کر دیکھو
پتھروں میں بھی زباں ہوتی ہے دل ہوتے ہیں
اپنے گھر کے در و دیوار سجا کر دیکھو
وہ ستارہ ہے چمکنے دو یوں ہی آنکھوں میں
کیا ضروری ہے اسے جسم بنا کر دیکھو
فاصلہ نظروں کا دھوکہ بھی تو ہو سکتا ہے
وہ ملے یا نہ ملے ہاتھ بڑھا کر دیکھو

احمد علی برقی اعظمی
رسمِ اظہار محبت کو نبھا کر دیکھو
دل سے دل چاہنے والوں کے مِلا کر دیکھو
ہم کو آپس میں لڑاکر جو جدا کرتی ہے
بُغض و نفرت کی وہ دیوار گِرا کر دیکھو
کیوں ہو گُم سُم کہو کیا حال ہے کچھ تو بولو
نیچی نظروں کو اِدھر اپنی اُٹھا کر دیکھو
بوجھ جو دل پہ ہے ہو جائے گا اِس سے ہلکا
ہنسو دل کھول کے مجھ کو بھی ہنس کر دیکھو
بدگمانی کا نہیں ہے کہیں دنیا میں علاج
پاس آؤ ہمیں نزدیک سے آکر دیکھو
کیوں اندھیرے میں الگ اور تھلگ بیٹھے ہو
’’ دھوپ میں نکلو گھٹاؤں میں نہا کر دیکھو ‘‘
گرمجوشی سے وہ تم سے بھی مِلے گا آکر
ہاتھ برقی کی طرف اپنے بڑھا کر دیکھو
غزل دیگر
احمد علی برقی اعظمی
خانۂ دل کو جو ویراں ہے بسا کر دیکھو
حال کیسا ہے مرا سامنے آکر دیکھو
تم پہ ہو جائیں گے اسرارِ حقیقت روشن
شمعِ ایمان و یقیں دل میں جلا کر دیکھو
میں بُلانے پہ نہ آؤں تو شکایت کرنا
پہلے تم مجھ کو بصد شوق بُلا کر دیکھو
موم کی طرح پگھل جائے گا پتھر کا جگر
اُس سے اک بار ذرا پیار جتا کر دیکھو
ہے اسے بارِ سماعت جو اسے رہنے دو
حالِ دل اپنا ہے جو اس کو سناکر دیکھو
وہ تمھیں ٹوٹ کے چاہے گا اگر جاگ گیا
خوابِ غفلت میں ہے جو اس کو جگا کر دیکھو
کیوں ہو برقی سے خفا تھوک دو اپنا غصہ
مان بھی جاؤ اسے اپنا بنا کر دیکھو



ہفت رروزہ فیس بُک ٹائمز کے ۴۳ ویں عالمی آنلاین فی البدیہہ طرح مشاعرے بتاریخ ۱۸ جون ۲۰۱۸ کے لئے میری کاوش احمد علی برقی اعظمی





ہفت رروزہ فیس بُک ٹائمز کے ۴۳ ویں عالمی آنلاین فی البدیہہ طرح مشاعرے بتاریخ ۱۸ جون ۲۰۱۸ کے لئے میری کاوش

احمد علی برقی اعظمی
رسمِ اظہار محبت کو نبھا کر دیکھو
دل سے دل چاہنے والوں کے مِلا کر دیکھو
ہم کو آپس میں لڑاکر جو جدا کرتی ہے
بُغض و نفرت کی وہ دیوار گِرا کر دیکھو
کیوں ہو گُم سُم کہو کیا حال ہے کچھ تو بولو
نیچی نظروں کو اِدھر اپنی اُٹھا کر دیکھو
بوجھ جو دل پہ ہے ہو جائے گا اِس سے ہلکا
ہنسو دل کھول کے مجھ کو بھی ہنس کر دیکھو
بدگمانی کا نہیں ہے کہیں دنیا میں علاج
پاس آؤ ہمیں نزدیک سے آکر دیکھو
کیوں اندھیرے میں الگ اور تھلگ بیٹھے ہو
’’ دھوپ میں نکلو گھٹاؤں میں نہا کر دیکھو ‘‘
گرمجوشی سے وہ تم سے بھی مِلے گا آکر
ہاتھ برقی کی طرف اپنے بڑھا کر دیکھو