Monday, August 25, 2008

غزل

غزل
ڈاکٹر احمد علی برقی اعظمی
دیرینہ روابط کو نہ یوں توڑ مکمل
یہ ضد نہیں اچھی ہے اسے چھوڑ مکمل
آئینہ دل توڑنے والے یہ سمجھ لے
ہوگا نہ دوبارہ کبھی یہ جوڑ مکمل
کیوں باز نہیں آتا ہے اس فتنہ گری سے
اس فتنہ و شر کی یہ روش چھوڑ مکمل
دیوار کو اس باہمی نفرت کی گرا کر
دے گردش ایام کا رخ موڑ مکمل
ماضی کا تصور تجھے سونے نہیں دے گا
کیوں ترک تعلق تھا اسے چھوڑ مکمل
جو اس کے عزائم ہیں وہ پورے نہیں ہونگے
ہم دینگے جواب اس کو یہ منھ توڑ مکمل
آنا ہے تو آ پھر کریں تجدید روابط
جانا ہے تو جا ساتھ مرا چھوڑ مکمل
ہو جائے گا شرمندہ تعبیر ترا خواب
احمد علی برقی سے نہ منھ موڑ مکمل

No comments: