ایک زمین کئی شاعر مرزا غالب اور احمد علی برقی اعظمی مرزا غالب



ایک زمین کئی شاعر
مرزا غالب اور احمد علی برقی اعظمی
مرزا غالب
یک ذرۂ زمیں نہیں بے کار باغ کا 
یاں جادہ بھی فتیلہ ہے لالے کے داغ کا 
بے مے کِسے ہے طاقتِ آشوبِ آگہی 
کھینچا ہے عجزِ حوصلہ نے خط ایاغ کا 
بُلبل کے کاروبار پہ ہیں خندہ ہائے گل 
کہتے ہیں جس کو عشق خلل ہے دماغ کا 
تازہ نہیں ہے نشۂ فکرِ سخن مجھے 
تِریاکیِ قدیم ہوں دُودِ چراغ کا 
سو بار بندِ عشق سے آزاد ہم ہوئے 
پر کیا کریں کہ دل ہی عدو ہے فراغ کا 
بے خونِ دل ہے چشم میں موجِ نگہ غبار 
یہ مے کدہ خراب ہے مے کے سراغ کا 
باغِ شگفتہ تیرا بساطِ نشاطِ دل 
ابرِ بہار خم کدہ کِس کے دماغ کا! 
عالمی ادبی فورم صبا آداب کہتی ہے کے ۱۳ ویں پندرہ روزہ فی البدیہہ طرحی مشاعرے کے لئے میری طبع آزمائی
احمد علی برقی اعظمی
عنقا سکوں ہے عہدِ رواں میں دماغ کا
جیسے گذر گیا ہو زمانہ فراغ کا
ناسور بن گیا ہے ہر اک زخمِ خونچکاں
کیا ماجرا سناؤں تمہیں دل کے داغ کا
منزل کی سمت جوشِ جنوں میں ہوں گامزن
بس نقشِ پا ہے اس کے وسیلہ سراغ کا
تاریک کررہا ہے وہ کیوں میرے ذہن کو
دینا ہے کام روشنی گھر کے چراغ کا
گلشن کا باغباں نے بُرا حال کردیا
ہر گُل زباں حال سے کہتا ہے باغ کا
جس گلستاں میں پہلے چہکتی تھیں بلبلیں
اب بے سُرا ہے راگ وہاں صرف زاغ کا
شیرازۂ حیات ہے اس طرح منتشر
برقی ہو جیسے دل پہ تسلط دماغ کا



کہتے ہیں جس کو عشق خلل ہے دماغ کا : عالمی ادبی فورم صبا آداب کہتی ہے کے ۱۳ ویں پندرہ روزہ فی البدیہہ طرحی مشاعرے کے لئے میری طبع آزمائی : احمد علی برقی اعظمی



بشکریہ : صبا آداب کہتی ہے فورم
عالمی ادبی فورم صبا آداب کہتی ہے کے ۱۳ ویں پندرہ روزہ فی البدیہہ طرحی مشاعرے کے لئے میری طبع آزمائی
احمد علی برقی اعظمی
عنقا سکوں ہے عہدِ رواں میں دماغ کا
جیسے گذر گیا ہو زمانہ فراغ کا
ناسور بن گیا ہے ہر اک زخمِ خونچکاں
کیا ماجرا سناؤں تمہیں دل کے داغ کا
منزل کی سمت جوشِ جنوں میں ہوں گامزن
بس نقشِ پا ہے اس کے وسیلہ سراغ کا
تاریک کررہا ہے وہ کیوں میرے ذہن کو
دینا ہے کام روشنی گھر کے چراغ کا
گلشن کا باغباں نے بُرا حال کردیا
ہر گُل زباں حال سے کہتا ہے باغ کا
جس گلستاں میں پہلے چہکتی تھیں بلبلیں
اب بے سُرا ہے راگ وہاں صرف زاغ کا
شیرازۂ حیات ہے اس طرح منتشر
برقی ہو جیسے دل پہ تسلط دماغ کا





اس کی چشم میگوں میں میکشی کا موسم ہے : احمد علی برقی اعظمی


میری قربانیوں کا صلہ کچھ نہیں :حریم سخن گروپ کے تیسرے فی البدیہہ طرحی مشاعرے کے لئے میری کاوش احمد علی برقی اعظمی



حریم سخن گروپ کے تیسرے فی البدیہہ طرحی مشاعرے کے لئے میری کاوش
احمد علی برقی اعظمی
میری قربانیوں کا صلہ کچھ نہیں
آج تک اس نے مجھ کو دیا کچھ نہیں
اپنے من کی ہی وہ بات کرتا رہا
اس سے کہتا رہا پَر سُنا کچھ نہیں
میں اندھیرے میں یونہی بھٹکتا رہا
’’ چاند، سورج، ستارہ ، دیا کچھ نہیں ‘‘
کرکے عرضِ تمنا ہوں اس سے خَجِل
چَل دیا سن کے وہ اور کہا کچھ نہیں
فرض ہے جس کا حاجت روائی مری
اُس کی جانب سے مجھ کو مِلا کچھ نہیں
اُس کی ہرزہ سرائی سے حیران ہوں
یوں تو اُس نے کہا بَرمَلا کچھ نہیں
فردِ جُرم اُس کی پہلے سے تیار تھی
کیوں مجھے دی سزا یہ پتہ کچھ نہیں
نکتہ چینی کی برقی ہے عادت جسے
آگے پیچھے اُسے سوجھتا کچھ نہیں



ازخود : تعارفی سلسلہ :1 شخصیت : احمد علی برقیؔ اعظمی بشکریہ : ادبی گروپ کرچیاں



بشکریہ : ادبی گروپ کرچیاں
کرچیاں اردو کا ہے ایسا گروپ
جس میں ہے عصری ادب کا انتخاب
ہو یہ معیاری ادب کا پاسدار
اس کے ہوں شرمندۂ تعبیر خواب
اقتضائے وقت ہیں ایسے گروپ
کرسکیں جو فکر و فن کا احتساب
ازخود : تعارفی سلسلہ :1
شخصیت : احمد علی برقیؔ اعظمی
میں احمد علی برقیؔ اعظمی ۲۵؍ دسمبر ۱۹۵۴ء کو شہر اعظم گڑھ (یو۔پی) کے محلہ باز بہادر میں پیدا ہوا۔ میں درجہ پنجم تک مدرسہ اسلامیہ باغ میر پیٹو، محلہ آصف گنج، شہر اعظم گڑھ کا طالبعلم رہا، بعد ازآں شبلی ہائر سیکینڈری اسکول سے دسویں کلاس کا امتحان پاس کرنے کے بعد انٹرمیڈیٹ کلاس سے لے کر ایم۔اے اُردو تک شبلی نیشنل کالج، اعظم گڑھ کا طالب علم رہا۔ میں نے ۱۹۶۹ء میں ہائی اسکول، ۱۹۷۱ء میں انٹرمیڈیٹ، ۱۹۷۳ء میں بی۔اے اور ۱۹۷۵ء میں ایم۔اے اُردو کی سند حاصل کی اور شبلی کالج سے ہی ۱۹۷۶ء میں بی۔ایڈ کیا۔
بعد ازآں مزید اعلیٰ تعلیم کے حصول کے لئے
۱۹۷۷ء میں دہلی آ کر جواہر لعل نہرو یونیورسٹی،نئی دہلی میں ایم۔اے فارسی میں داخلہ لیا اور یہاں سے ۱۹۷۹ء میں ایم۔اے فارسی کی سند حاصل کی اور بعد ازآں جواہر لعل نہرو یونیورسٹی ہی سے پی۔ ایچ۔ ڈی کی ڈگری حاصل کی۔
میرے والد کا نام رحمت الٰہی اور تخلص برقؔ اعظمی تھا جو نائب رجسٹرار قانون گو کے عہدے پر فائز تھے۔میرے والد ایک صاحب طرز اور قادر الکلام استاد سخن تھے جنہیں جانشینِ داغؔ حضرت نوحؔ ناروی سے شرفِ تلمذ حاصل تھا۔ میرے بچپن کا بیشتر حصہ والد محترم کے سایۂ عاطفت میں گزرا۔ مجھے کہیں آنے جانے کی اجازت نہیں تھی۔ بیشتر وقت والد صاحب کے فیضِ صحبت میں گزرتا تھا جس سے میں نے بہت کچھ حاصل کیا اور آج میں جو کچھ ہوں انہیں کا علمی،قلمی اور روحانی تصرف ہے۔ میرا اصلی نام احمد علی اور تخلص والد کے تخلص برقؔ کی مناسبت سے برقیؔ اعظمی ہے۔ والد صاحب کے فیضِ صحبت کی وجہ سے شعری اور ادبی ذوق کی نشوو نما بچپن میں ہو گئی تھی جو بفضلِ خدا اب تک جاری و ساری ہے۔ والد صاحب کے ساتھ مقامی طرحی نشستوں میں با قاعدگی سے شریک ہوتا رہتا تھا۔ اس وجہ سے تقریباً
۱۵؍سال کی عمر سے طبع آزمائی کرنے لگا۔ ادبی ذوق کا نقطۂ آغاز والدِ محترم کا فیضِ صحبت رہا اور میں نے جو کچھ بھی حاصل کیا انھیں کا فیضانِ نظر اور روحانی تصرف ہے۔ اصنافِ ادب میں غزل میری محبوب ترین صنفِ سخن ہے۔ غزل سے قطع نظر مجھے موضوعاتی نظمیں لکھنے کا ۲۰۰۳ء سے ۲۰۰۹ء تک کافی شوق رہا اور میں نے اس عرصہ میں ماحولیات، سائنس، اور مختلف عالمی دنوں کی مناسبت سے بہت کچھ لکھا جو ۶؍سال تک مسلسل ہر ماہ ایک مقامی میگزین ماہنامہ ’’سائنس‘‘ میں شائع ہوتا رہا اور اتنی نظمیں لکھ ڈالیں کی ایک مستقل شعری مجموعہ ہوسکتا ہے۔ اس کے علاوہ مجھے ’’یادِ رفتگاں ‘‘ سے خاصی دلچسپی ہے چنانچہ میں بیشتر شعرا، ادیبوں اور فنکاروں کے یومِ وفات اور یوم تولد کی مناسبت سے اکثر و بیشتر لکھتا رہتا ہوں۔ اس سلسلے میں نے حضرت امیر خسروؔ، ولیؔ دکنی، میرؔ، غالبؔ، حالیؔ، شبلیؔ، سر سیّد، احمد فرازؔ، فیضؔ، پروینؔ شاکر، ناصر کاظمیؔ، مظفرؔ وارثی، شہریارؔ، بابائے اُردو مولوی عبدالحق، ابن انشا، جگرؔ، شکیلؔ بدایونی، مجروحؔ سلطانپوری، مہدی حسن، صادقین، مقبول فدا حسین وغیرہ پر بہت سی موضوعاتی نظمیں لکھی ہیں جن کا بھی ایک مجموعہ مرتب ہو سکتا ہے۔ میں عملی طور سے میڈیا سے وابستہ ہوں اور ۱۹۸۳ء سے آل انڈیا ریڈیو کے شعبۂ فارسی سے وابستہ تھا اور بحیثیت انچارج شعبۂ فارسی ۳۳ سال کی خدمات کے بعد ۳۱ دسمبر ۲۰۱۴ کوملازمت سے سبکدوش ہوگیا اور فی الحال عارضی طور پر اسی شعبے سے وابستہ ہو۔
فیضؔ، ساحرؔ، مجروحؔ، جگر، حسرتؔ، فانیؔ، پروین شاکر، اور ناصر کاظمیؔ وغیرہ میرے پسندیدہ شعرا ہیں۔ ادیبوں میں سرسید احمد خاں اور شبلی نعمانی سے بیحد لگاؤ ہے۔ میں اُردو ویب سائٹس اور فیس بک پر بہت فعال ہوں اور فیس بک پر میری
۴۰۰۰ سے زائد غزلیں او ر نظمیں البم کی شکل میں موجود ہیں۔
موجودہ دور میں ادب اپنی منزل کی طرف رواں دواں ہے اور اس کی توسیع اور ترویج کے امکانات روشن ہیں۔معاصرانہ چشمک اور گروہ بندی فروغ زبان و ادب کی راہ میں سدِّ راہ ہیں۔ سود و زیاں سے بے نیاز ہو کر اگر ادبی تخلیق کی جائے اور اس میں خلوص بھی کارفرما ہو تو فروغِ ادب کے امکانات مزید روشن ہو سکتے ہیں۔میں اپنی خوئے بے نیازی کی وجہ سے گوشہ نشین رہ کر اپنے ادبی اور شعری ذوق کی تسکین کے لئے انٹرنیٹ اور دیگر وسائلِ ترسیل و ابلاغ کے وسیلے سے سرگرمِ عمل ہوں۔ میں اُردو کی بیشتر ویب سائٹس اور اور فیس بُک کے بیشمار فورمز سے وابستہ ہوں۔مجھے خوشامدپسندی اور زمانہ سازی نہیں آتی اس لئے مقامی سطح پر غیر معروف ہوں۔
ہوتا زمانہ ساز تو سب جانتے مجھے..
کیا خوئے بے نیازی ہے دیوانہ پن مرا..
ویب سائٹوں پہ لوگ ہیں خوش فہمی کے شکار..
نا آشنائے حال ہیں ہمسائے بھی مرے..
عرضِ حال
ہوتے ہیں اُن کے نام پہ برپا مشاعرے..
معیار شعر اُن کی بَلا سے گِرے گِرے..
جن کا رسوخ ہے انہیں پہچانتے ہیں سب..
ہم دیکھتے ہی رہ گئے باہرکھڑے کھڑے..
جو ہیں زمانہ ساز وہ ہیں آج کامیاب..
اہلِ کمال گوشۂ عزلت میں ہیں پڑے..
زندہ تھے جب تو ان کو کوئی پوچھتا نہ تھا..
ہر دور میں ملیں گے بہت ایسے سر پھرے..
برقیؔ ستم ظریفیِ حالات دیکھئے..
اب ان کے نام پر ہیں ادارے بڑے بڑے..
جیسا کہ میں نے پہلے عرض کیا، غزل میری محبوب صنف سخن ہے۔ میرے اسلوبِ سخن پر غیر شعوری طور سے غزلِ مسلسل کا رنگ حاوی ہے۔ گویا میری بیشتر غزلوں میں جیسا کہ بعض احباب نے اس کی طرف اشارہ کیا، غزل کے قالب میں نظم یا مثنوی کا گمان ہوتا ہے جو بعض احباب کی نظر میں محبوب اور بعض لوگوں کے خیال میں معیوب ہے۔ میرا شعورِ فکر و فن میرے ضمیر کی آواز ہے۔ میری غزلیں داخلی تجربات و مشاہدات کا وسیلۂ اظہار ہونے کے ساتھ ساتھ بقول جناب ملک زادہ منظور احمد صاحب ’’حدیثِ حسن بھی ہیں اور حکایتِ روزگار بھی‘‘۔ میں جس ماحول کا پروردہ ہوں میری شاعری اس کے نشیب و فراز اور ناہمواریوں اور اخلاقی اقدار کے زوال کی عکاس ہے۔ میں جو کچھ اپنے اِرد گِرد دیکھتا یا محسوس کرتا ہوں اسے موضوعِ سخن بنانا اپنا اخلاقی اور سماجی فریضہ سمجھتا ہوں جس کے نتیجے میں میری بیشتر شعری تخلیقات اجتماعی شعور کی بازگشت کی آئینہ دار ہیں۔ میں کلاسیکی روایات کا پاسدار ہونے کے ساتھ ساتھ جدید عصری میلانات و رجحانات کو بھی موضوع سخن بنانے سے گریز نہیں کرتا۔ حالاتِ حاضرہ کے تناظر میں بیدار مغز سخنور اور قلمکارجس ذہنی کرب کا احساس کرتے ہیں ان کی تخلیقات میں شعوری یا غیر شعوری طور سے اس کا اظہار ایک فطری اور ناگزیر امر ہے۔
چنانچہ…...
ہیں مرے اشعار عصری کرب کے آئینہ دار..
قلبِ مضطر ہے مرا سوزِ دروں سے بیقرار..
آپ پر ہوں گے اثر انداز جو بے اختیار..
میری غزلوں میں ملیں گے شعر ایسے بے شمار..
صفحۂ قرطاس پر کرتا ہوں اس کو منتقل..
داستانِ زندگی ہے میری برقیؔ دلفگار..
احمد علی برقیؔ اعظمی کے کلام سے کچھ اشعار اور دو چند غزلیں بطورِ انتخاب.....
ہے یہ میری شامتِ اعمال یا کچھ اور ہے..
میں سمجھتا تھا جسے آرامِ جاں خاموش ہے.
نیند آنکھوں سے شبِ ہجر اڑانے والا..
خواب گر، خواب نما، خواب کی تعبیر بھی تھا..
🍂🍂🍂🍂🍂
جان میں جان ہے جب تک رہیں سر گرمِ عمل..
وہ گراتا ہے اگر آپ بنانے لگ جائیں..
🍂🍂🍂🍂🍂
جاری رہے نہ جانے یہ سیلِ اشک کب تک..
یہ دل سمندروں کی گہرائی چاہتا ہے..
حساس ہے جو برقی انسان اس صدی کا..
دنیا کے شور و غل سے تنہائی چاہتا ہے..
🍂🍂🍂🍂🍂
غارتگرِ سکوں ہے یہ اُس دلربا کی نیند..
ٹوٹے گی جانے کب مرے درد آشنا کی نیند..
آنکھیں ہیں فرشِ راہ مری کب وہ آئے گا..
کتنا مجھے جگائے گی اُس بے وفا کی نیند..
اُس کا پیام دے کے وہ جو چاہے سو کرے..
ٹوٹی نہیں ہے کیا ابھی بادِ صبا کی نیند..
کیساہے خوابِ ناز کہ آنکھیں ہیں نیم باز..
ہے دلنواز اس کی یہ ناز و ادا کی نیند..
اوراق منتشر ہیں کتابِ جمال کے..
صبر آزما ہے کتنی یہ اُس بے ردا کی نیند..
جاگے تو جا کے اس سے کروں عرضِ مدعا
آنکھوں میں اس کی رہتی ہے برقیؔ بَلا کی نیند
🍂🍂🍂🍂🍂🍂🍂🍂🍂🍂🍂🍂🍂🍂🍂
تیرِ نظر کے اتنے نشانے لگے مجھے..
جو زخم تھے نئے وہ پرانے لگے مجھے..
پہلے ہی خون تھا آتشِ سیال جسم میں..
’’پھر یوں ہوا چراغ جلانے لگے مجھے‘‘..
اپنا سمجھ رہا تھا جنہیں میں تمام عمر..
وہ اپنے اپنے رنگ دکھانے لگے مجھے..
تھا سادہ لوح آ گیا اُن کے فریب میں..
پھر کیا تھا سبز باغ دکھانے لگے مجھے..
بہترتھا چھوڑ دیتے مجھے میرے حال پر..
احسان کرکے مجھ پہ جتانے لگے مجھے..
دیدہ دلیری دیکھئے اُن کی کہ بزم میں..
میرا ہی شعر آکے سنانے لگے مجھے..
رہتے تھے سرنگوں جو سدا میرے سامنے..
برقی وہی اب آنکھ دکھانے لگے مجھے..
🍂🍂🍂🍂🍂🍂🍂🍂🍂🍂🍂🍂🍂🍂🍂
سائے بھی اپنے آج ڈرانے لگے مجھے..
پھر یوں ہوا چراغ جلانے لگے مجھے..
میں سن رہا تھا اور وہ پڑھتے تھے فردِ جُرم..
الزام جو تھے مجھ پہ بتانے لگے مجھے..
جو کہہ رہے تھے اس کا نہ سر تھا نہ کوئی پیر..
وہ جُرمِ بیگناہی گنانے لگے مجھے..
ریشہ دوانیوں میں مہارت ہے اس قدر..
اپنا ہدف ہمیشہ بنانے لگے مجھے..
وہ چاہتے تھے اُن کی مِلاؤں میں ہاں میں ہاں..
وہ اُنگلیوں پہ اپنی نچانے لگے مجھے..
شیشے مین اُن کے جب نہ مکمل اُتر سکا..
از روئے مصلحت وہ رجھانے لگے مجھے..
میں نے کہاکہ مُردہ نہیں ہے مرا ضمیر..
پھر کیا تھا وہ ٹھکانے لگانے لگے مجھے..
میزانِ عدل ناگہاں آئی مجھے نظر..
کچھ لوگ تھے وہاں جو بچانے لگے مجھے..
مہدی حسن کی ناگہاں آئی صدا مجھے..
وہ ماجرائے شوق سنانے لگے مجھے..
اردو غزل ہے آج یہ برقی کی چارہ ساز..
سب جس کے دلنواز ترانے لگے مجھے..

ازخود : تعارفی سلسلہ :1
شخصیت : احمد علی برقیؔ اعظمی
بشکریہ : ادبی گروپ کرچیاں

.
🍂



مومن کے لئے فضلِ خدا عید کا دن ہے احمد علی برقیؔ اعظمی







آگھر مرے یا مجھ کو بُلا عید کادن ہے
احمد علی برقیؔ اعظمی
آ گھر مرے یا مجھ کو بُلا عید کا دن ہے
جو مجھ کو مِلا تجھ سے مِلا عید کا دن ہے
جو زلفِ معطر میں چھپا رکھی ہے اپنی
خوشبو مری سانسوں میں بسا عید کا دن ہے
حق جو ہے مرا تجھ پہ اسے مانگ رہا ہوں
دے میری محبت کا صلہ عید کا دن ہے
گر شیشۂ دل ٹوٹ گیا پھر نہ مِلے گا
یوں خاک میں اس کو نہ مِلا عید کا دن ہے
جس طرح سے پہلے تھے اُسی طرح رہیں گے
آمِل کے یہ کرتے ہیں دُعا عید کا دن ہے
دل میرا ترے پاس ہے یا کھو دیا اُس کو
جو میں نے دیا تھا تجھے لا، عید کا دن ہے
برقیؔ کا تھا جو فرض کیا اس نے ادا وہ
نظروں سے نہ یوں اُس کو گِرا عید کا دن ہے

مومن کے لئے فضلِ خدا عید کا دن ہے
احمد علی برقیؔ اعظمی
دل دل سے مرے اپنا مِلا عید کا دن دن ہے
اب اور نہ تو مجھ کو ستا عید کا دن ہے
ہے تجھ کو پِلانا تو پِلا عید کا دن ہے
نظروں سے مئے ہوش رُبا، عید کا دن ہے
دروازۂ دل تیرے لئے باز ہے میرا
آنا ہے اگر تجھ کو تو آ، عید کا دن ہے
اِس طرح کبھی تَرکِ تعلق نہیں کرتے
کیوں آج ہے تو مجھ سے خفا عید کا دن ہے
ہے نقش محبت کا ترے دل میں جو میری
کیوں تو ہے مِٹانے پہ تُلا، عید کا دن ہے
بے وقت کی شہنائی بجاتے نہیں برقیؔ
دے دینا کبھی اور سزا عید کا دن ہے

تو مجھ کو نہ یوں چھوڑ کے جا عید کا دن ہے
احمد علی برقیؔ اعظمی
تو مجھ کو نہ یوں چھوڑ کے جا عید کا دن ہے
اچھا نہیں یہ جور و جفا عید کا دن ہے
آتا ہے فقط سال میں اک بار یہ موقع
سب شکوے گلے بھول بھی جا عید کا دن ہے
یہ نیچی نگاہیں تری اچھی نہیں لگتیں
نظروں سے نظر میری ملا عید کا دن ہے
ایسا تو کبھی طرز عمل تیرا نہیں تھا
کیا ہو گیا یہ تجھ کو بتا عید کا دن ہے
کیوں دور سے یوں ہاتھ ملاتا ہے تو مجھ سے
آ مِل لے گلے جانِ وفا عید کا دن ہے
ہے خانۂ دل جس سے ابھی تک مرا روشن
یہ شمعِ محبت نہ بجھا عید کا دن ہے
برقیؔ سے نہ کر آج بھی پھر وعدۂ فردا
یوں دل میں نہ کر حشر بپا عید کا دن ہے



Ahmad Ali Barqi Azmi Recites His Poetry In Mushaira Jashn e Aazadi Organised by Aalmi Urdu Majlis Delhi

A Nazm On Hajj e Baitullah By Ahmad Ali Barqi Azmi Recited By Tayyab Qas...




A Nazm On Hajj e Baitullah By Ahmad Ali Barqi Azmi Recited By Tayyab Qasmi Gangohi 



سعادت حجِ بیت اللہ کی سب کو مُیسّر ہو
ڈاکٹر احمد علی برقی اعظمی
آواز خواں : طیب قاسمی گنگوہی
تمنّائے دلی ہر شخص کی یہ بارآور ہو
سعادت حجِِّ بیت اللہ کی سب کو مُیَسّرہو
مبارک حاجیوں کو فضلِ حق سے حجِ اکبر ہو
زیارت خانہئ کعبہ کی اُن کو روح پرور ہو
خوشی سے جائیں حج کو اور خوشی سے لوٹ کرآئیں 
ہمیشہ اُن کے سر پر ابرِ رحمت سایہ گُستر ہو
زیارت سے مُشرّف ہوں وہاں وہ حجرِاسود کی
زباں پر ہر کسی کی نعرہئ اللہ اکبر ہو
عمل پیرا ہوں سب احکام قرآن اور سُنّت پر
مُیسّر دولتِ عرفاں سبھی کو زندگی بھر ہو
ہو مُستحکم خدا کے فضل سے ملّت کا شیرازہ
سبھی ہوں ایک صف میں کوئی اکبر ہو نہ اصغر ہو
مدینے میں ہو سب کی دسترس میں بادہئ عرفاں 
سبھی پر مہرباں یکساں وہاں ساقیئ کوثر ہو
نظر کے سامنے ہو کاش میری گُنبدِ خضریٰ
مرا قلبِ حزیں بھی نورِ ایماں سے منوّر ہو
کہا ہے جس کے حق میں رب نے واللیلِ اِذا یغشیٰ
شمیمِ زُلف سے اُس کی مشامِ جاں مُعطّر ہو
ہوں خاطر خواہ سب سیراب برقیؔ آبِ زمزم سے
جو آئے لوٹ کر وہ زینتِ محراب و منبر ہو





#Fikr-O-Fann / Sher-O-Sukhan:Ahmed Ali Barqi Aazmiwith Azeez Belguami : ...




Courtesy 
#Fikr-O-Fann / Sher-O-Sukhan:Ahmed Ali Barqi Aazmiwith Azeez Belguami : فکروفن :شعروسخن




بشکریہ فکروفن شعروسخن
سیدھی بات ٹی وی چینل"کے ادبی پروگرام "فکروفن شعرو سخن کی برقی نوازی پر منظوم اظہار امتنان و تشکر
احمد علی برقی اعظمی
فکروفن شعروسخن ہے ایک چینل بہترین
کرتا ہے ہموار جو فکری تناظر کی زمین
مستحق ہے داد اور تحسیں کی اس چینل کی ٹیم
بڑھ رہے ہیں دن بدن جس کے جہاں میں سامعین
جس طرح یہ کررہا ہے خدمتِ شعر و ادب
اس کی سیدھی بات کا ہے یہ سلیقہ دلنشین
اس کی ہیں روح رواں وہ، نام ہے جن کا عزیز 
نام ہی کی طرح ان کی پیشکش بھی ہے حسین 
عہد حاضر میں ہے ان کی شاعری ہردلعزیز 
ساتھ ہی ہیں ایک نقاد ادب بھی بہترین 
ان کا انداز تعارف بھی ہے خود ان کی شناخت 
جس کے دنیا بھر میں ہیں پھیلے ہزاروں ناظرین 
ان کو رہتی ہے نئے چہروں کی ہر لمحہ تلاش 
جس کو چاہیں وہ چاہیں بنادیں اپنے فن سے نازنین
ان کی اس برقی نوازی کا نہایت شکریہ
ہے زباں سے ان کی یہ میرا تعارف دلنشین
سیدھی بات ٹی وی چینل"کے ادبی پروگرام "فکروفن شعرو سخن" میں ڈاکٹر احمد علی برقی اعظمی کے فکرو فن اور شخصیت پر ایک ادبی فیجچر۔ تحریر و پیش کش جناب عزیز بلگامی صاحب ۔ Seedhi Baat Channel" ke adabi programme "Fikr o Fann Sher o Sukhan" mein i Dr. Ahmed Ali Barqi Azmi ke fann aur shakhsiyat par ek adabi feature. Tahreer aur peshkash Janab Azeez Belgaumi shb . Ise is link par mulaheza kiya jaa sakta hai:
Channel ko subscribe Karna aur like karna na bhooleN.... Shukriya.

’’ اپنے کسی عمل پہ ندامت نہیں مجھے ‘‘ : کُنجِ ادب انٹرنیشنل گروپ کے پہلے عالمی انٹرنیشنل مشاعرے بیاد حمایت علی شاعر بتاریخ ایک اگست ۲۰۱۹ کے لئے میری طبع آزمائی احمد علی برقی اعظمی


کُنجِ ادب انٹرنیشنل گروپ کے پہلے عالمی انٹرنیشنل مشاعرے بیاد حمایت علی شاعر بتاریخ ایک اگست ۲۰۱۹ کے لئے میری طبع آزمائی
احمد علی برقی اعظمی
اب اور ظلم سہنے کی طاقت نہیں مجھے
کیسے کہوں کہ کوئی شکایت نہیں مجھے
دیوانہ وار مجھ پہ جو کرتا تھا جاں نثار
کہتا ہے اب وہ تجھ سے محبت نہیں مجھے
لکھتا رہے گا حرفِ صداقت مرا قلم
واللہ خود فروشی کی عادت نہیں مجھے
نالاں سبھی ہیں آج غمِ روزگار سے
وہ کون ہے جو کہتا  ہے وحشت نہیں مجھے
وہ دور سے سناتا ہے بس اپنے من کی بات
کہتا ہے تجھ سے ملنے کی فرصت نہیں مجھے
بد بخت ہے جو کہتا ہے اپنی زبان سے
’’ اپنے کسی عمل پہ ندامت نہیں مجھے ‘‘
اس سے بڑا رذیل نہ ہوگا کہیں کوئی
جو یہ کہے پسند شرافت نہیں مجھے
جو اپنا حق ہے اُس سے وہی مانگتا ہوں میں
درکار اب کسی کی عنایت نہیں مجھے
کُنجِ ادب میں رہ کے ہے مجھ کو سکون قلب
برقی کسی سے بُغض و عداوت نہیں مجھے




है निशान ए अज़मत ए हिन्दूस्तान ए आई आर डॉ, अहमद अली बर्क़ी आज़मी BARQI AZMI'S POETIC COMPLIMENT TO (AIR) ALL INDIA RADIO AHMAD ALI BARQI AZMI HAI NISHAN E AZMAT E HINDUSTAN AIR





है निशान ए अज़मत ए हिन्दूस्तान ए आई आर
डॉ, अहमद अली बर्क़ी आज़मी
है निशान ए अज़मत ए हिन्दूस्तान ए आई आर 
है जहां में बेज़बानों की ज़बां ए आई आर
करता है दुनियाँ की ख़बरों से हमें यह बाख़बर 
कामयाबी की है दिकष दास्ताँ ए आई आर
गंगा जमुनी हिन्द की तहज़ीब है इस से अयाँ
है सक़ाफ़त का हमारी तर्जुमान ए आई आर
लोग सर धुनते हैं सुन कर इसके नग़मे दिलनवाज़
सब की है तफरीह की रूह ए रवाँ ए आई आर
रौशनी से इस की रोशन है जहाँ ए रंग व बू 
है जहां में एक ऐसी कहकशां ए आई आर
कहते हैं आकाशवाणी इस को उर्फ़ ए आम में 
है जो उर्दू में सदा ए आसमां ए आई आर
गुलफिशां है इस में बर्क़ी हिन्द की हर एक ज़बां 
सब ज़बानों का है दिलकश गुलसितां ए आई आर
BARQI AZMI'S POETIC COMPLIMENT TO (AIR) ALL INDIA RADIO
AHMAD ALI BARQI AZMI
HAI NISHAN E AZMAT E HINDUSTAN AIR
HAI JAHAAN MEIN BE ZABANON KI ZABAAN AIR
KARTA HAI DINIYA KI KHABRON SE HAMEIN YE BA KHABAR
KAMIYABI KI HAI DILKASH DASTAAN AIR
GANGA JAMUNI HIND KI TAHZEEB HAI IS SE AYAAN
HAI SAQAFAT KA HAMARI TARJUMAAN AIR
LOG SAR DHUNTE HAIN SUN KAR IS KE NAGHME DILNAWAZ
SAB KI HAI TAFREEH KI ROOH E RAWAAN AIR
ROUSHANI SE JIS KI RAUSHAN HAI JAHAN E RANG O BU
HAI JAHAAN MEIN EK AISI KAHKASHAAN AIR
KAHTE HAI AKASHVANI IS KO URF E AAM MEIN
HAI JO URDU MEIN SAD E AASMAAN AIR
GULFISHAN HAI IS MEIN BARQI HIND KI HAR EK ZABAAN
SAB ZABANON KA HAI DILKASH GULSITAAN AIR