ایک زمین کئی شاعر اعلیٰ حضرت احمد رضا خان بریلوی اور احمد علی برقی اعظمی : بشکریہ ناظم ایک زمین کئی شاعر، ایک اور انیک اور اردو کلاسک ادبی گروپ


ایک زمین کئی شاعر
اعلیٰ حضرت احمد رضا خان  بریلوی اور احمد علی برقی اعظمی
نعت : اعلٰحضرت احمد رضا خان بریلوی
سرور کہوں کہ مالک و مولیٰ کہوں تجھے
باغِ خلیل کا گل زیبا کہوں تجھے

حرماں نصیب ہوں تجھے اُمید گہ کہوں
جانِ مراد و کانِ تمنا کہوں تجھے

گلزارِ قدس کا گل رنگیں ادا کہوں
درمانِ درد، بلبل شیدا کہوں تجھے

صبح وطن پہ شامِ غریباں کو دُوں شرف
بیکس نواز گیسوئوں والا کہوں تجھے

اللہ رے تیرے جسم منور کی تابشیں
اے جانِ جاں میں جانِ تجلا کہوں تجھے

بے داغ لالہ یا قمر بے کلف کہوں
بے خار گلبنِ چمن آراء کہوں تجھے

مجرم ہوں اپنے عفو کا ساماں کروں شہا
یعنی شفیع روزِ جزا کا کہوں تجھے

اس مردہ دل کو مژدہ حیات ابد کا دوں
تاب و توانِ جانِ مسیحا کہوں تجھے

تیرے تو وصف عیب تناہی سے ہیں بری
حیراں ہوں میرے شاہ میں کیا کیا کہوں تجھے

کہہ لے کی سب کچھ انکے ثناء خواں کی خامشی
چپ ہو رہا ہے کہہ کہ میں کیا کیا کہوں تجھے

لیکن رِضا نے ختم سخن اس پہ کر دیا
خالق کا بندہ خلق کا آقا کہوں تجھے
​

نعت سرورِ کائنات فخر موجودات احمد مجتبیٰ حضرت محمد مصطفیٰ ﷺ 
احمد علی برقی اعظمی
یٰسین یا مزمل و طٰہ کہوں تجھے
اے پیکرِ جمال میں کیا کیا کیا کہوں تجھے
معراج کا شرف ہے تجھے اس لئے نہ کیوں
مسند نشینِ عرشِ معلیٰ کہوں تجھے
گلزار دینِ حق کا گُلِ سَرسَبَد ہے تو
’’ باغِ خلیل کا گُلِ زیبا کہوں تجھے ‘‘
وجہہِ وجود عالمِ امکاں ہے تیری ذات
پھر کیوں نہ اس کا انجمن آرا کہوں تجھے
بعد از خدا توہی ہے فقط سب کا چارہ ساز
مسیکن و بیکسوں کا سہارا کہوں تجھے
خیر البشر نہیں ہے کوئی جب ترے سوا
پھر کیوں نہ سب سے ارفع و اعلیٰ کہوں تجھے
برقی کی صرف تجھ پہ شفاعت ہے مُنحَصِر
اپنا نہ کیوں نجات دہندہ کہوں تجھے



ایک زمین کئی شاعر بیخود دہلوی اور احمد علی برقی اعظمی بیخود دہلوی :بشکریہ ناظمِ ایک زمین کئی شاعر۔ ایک انیک اور اردو کلاسک جناب عمر جاوید خان


ایک زمین کئی شاعر
بیخود دہلوی اور احمد علی برقی اعظمی
بیخود دہلوی
دردِ دل میں کمی نہ ہو جائے
دوستی دشمنی نہ ہو جائے
تم مری دوستی کا دم نہ بھرو
آسماں مدعی نہ ہو جائے
بیٹھتا ہے ہمیشہ رندوں میں
کہیں زاہد ولی نہ ہو جائے
طالع بد وہاں بھی ساتھ نہ دے
موت بھی زندگی نہ ہو جائے
اپنی خوئے وفا سے ڈرتا ہوں
عاشقی بندگی نہ ہو جائے
کہیں بیخودؔ تمہاری خودداری
دشمن بے خودی نہ ہوجائے

احمد علی برقی اعظمی
جان بلب زندگی نہ ہوجائے
دوستی دشمنی نہ ہوجائے
ہے درندوں سا اُس کا طرزِ  عمل
جانور ، آدمی نہ ہوجائے
ہے بزرگوں کی جو مرے میراث
اس کا وہ مدعی نہ ہو جائے
غنچہ و گُل پہ نظرِ بد اس کی
وجہہِ پژمُردگی نہ ہو جائے
نہ کہیں میری جان کا جنجال
میری یہ بیخودی نہ ہوجائے
ہے رویہ جو اس کا میرے ساتھ
سلب زندہ دلی نہ ہوجائے
مار ڈالے   نہ مجھ کو قبل از وقت
وجہِ مَرگ عاشقی نہ ہوجائے
راحتِ جاں جسے سمجھتا ہوں
تلخ یہ زندگی نہ ہوجائے
میری جاں کا عذاب  میرے لئے
اُس کی یہ بے رُخی نہ ہو جائے
بَرسرِ عام کرکے قتل مرا
میرا قاتل بری نہ ہو جائے
آج کل ہے جو سُرخیٌ اخبار
حال میرا وہی نہ ہوجائے
جس سے ہوتی ہے میری روح فنا
کہیں برقی وہی نہ ہو جائے

ایک زمین کئی شاعر اعلیٰ حضرت احمد رضا خان بریلوی اور احمد علی برقی اعظمی


ایک زمین کئی شاعر
اعلیٰ حضرت احمد رضا خان  بریلوی اور احمد علی برقی اعظمی
نعت : اعلٰحضرت احمد رضا خان بریلوی
سرور کہوں کہ مالک و مولیٰ کہوں تجھے
باغِ خلیل کا گل زیبا کہوں تجھے

حرماں نصیب ہوں تجھے اُمید گہ کہوں
جانِ مراد و کانِ تمنا کہوں تجھے

گلزارِ قدس کا گل رنگیں ادا کہوں
درمانِ درد، بلبل شیدا کہوں تجھے

صبح وطن پہ شامِ غریباں کو دُوں شرف
بیکس نواز گیسوئوں والا کہوں تجھے

اللہ رے تیرے جسم منور کی تابشیں
اے جانِ جاں میں جانِ تجلا کہوں تجھے

بے داغ لالہ یا قمر بے کلف کہوں
بے خار گلبنِ چمن آراء کہوں تجھے

مجرم ہوں اپنے عفو کا ساماں کروں شہا
یعنی شفیع روزِ جزا کا کہوں تجھے

اس مردہ دل کو مژدہ حیات ابد کا دوں
تاب و توانِ جانِ مسیحا کہوں تجھے

تیرے تو وصف عیب تناہی سے ہیں بری
حیراں ہوں میرے شاہ میں کیا کیا کہوں تجھے

کہہ لے کی سب کچھ انکے ثناء خواں کی خامشی
چپ ہو رہا ہے کہہ کہ میں کیا کیا کہوں تجھے

لیکن رِضا نے ختم سخن اس پہ کر دیا
خالق کا بندہ خلق کا آقا کہوں تجھے
​


 نعت سرورِ کائنات فخر موجودات احمد مجتبیٰ حضرت محمد مصطفیٰ  ﷺ
احمد علی برقی اعظمی
یٰسین یا مزمل و طٰہ کہوں تجھے
اے پیکرِ جمال میں کیا کیا کیا کہوں تجھے

معراج کا شرف ہے تجھے اس لئے نہ کیوں
مسند نشینِ عرشِ معلیٰ کہوں تجھے

گلزار دینِ حق کا گُلِ سَرسَبَد ہے تو
’’ باغِ خلیل کا گُلِ زیبا کہوں تجھے ‘‘

وجہہِ وجود عالمِ امکاں ہے تیری ذات
پھر کیوں نہ اس کا انجمن آرا کہوں تجھے

بعد از خدا توہی ہے فقط سب کا چارہ ساز
مسیکن و بیکسوں کا سہارا کہوں تجھے

خیر البشر نہیں ہے کوئی جب ترے سوا
پھر کیوں نہ سب سے ارفع و اعلیٰ کہوں تجھے

برقیؔ کی صرف تجھ پہ شفاعت ہے مُنحَصِر
اپنا نہ کیوں نجات دہندہ کہوں تجھے



دیا ادبی گروپ کے ۲۴۷ عالی آنلاین فی البدیہہ طرحی مشاعرے کے لئے میرا نذر عقیدت بحضور سرور کائنات فخر موجودات احمد مجتبیٰ حضرت محمد مصطفیٰ ﷺ


دیا ادبی گروپ کے ۲۴۷ عالی آنلاین فی البدیہہ طرحی مشاعرے کے لئے میرا نذر عقیدت بحضور سرور کائنات فخر موجودات احمد مجتبیٰ حضرت محمد مصطفیٰ ﷺ
احمد علی برقی اعظمی
مطلعِ نور ہے صورت ان کی
درسِ اخلاق ہے سیرت ان کی
سب پہ لازم ہے اطاعت ان کی
سب سے افضل ہے شریعت ان کی
ہیں وہ محبوبِ خدائے مطلق
فرض ہے اس لئے مِدحت ان کی
ہے لقب رحمتِ عالم ان کا
روح پرور ہے نبوت ان کی
وجہہِ تخلیق دوعالم ہیں وہی
شانِ معراج ہے رفعت ان کی
جن کا مداح ہو خلاق جہاں
کون کرسکتا ہے مِدحت ان کی
ہیں وہی  شافعِ محشر برقی
سب کو درکار ہے رحمت ان کی


ادارۂ عالمی بیسٹ اردو پوئیٹری کی جانب سے عالمی نعتیہ محفل یہ پروگرام مورخہ 27 مئی 2018 دن ، بروز اتوار

یاد رفتگاں َ بیاد مجروح سلطانپوری : احمد علی برقی اعظمی


یاد رفتگاں َ بیاد مجروح سلطانپوری
مجروحؔ سلطانپوری

احمد علی برقی اعظمی
شخصیت مجروحؔ کی ہے نازشِ سلطانپور
جن کے گلہائے سُخن ہیں باعثِ کیف و سرور
ہو گئی ادبی فضا ہموار اُن کی ذات سے
فلمی دنیا کے اُفق پر جب ہوا اُن کا ظہور
فکری اور فنی روایت کے ادب میں تھے نقیب
جلوہ گر اشعار سے ہے اُن کا تخلیقی شعور
بیشتر نظمیں ہیں عصری آگہی سے ہمکنار
سوز و سازِ عشق کا غزلوں میں ہے اُن کی وفور
وہ سپہرِ فکرو فن پر تھے درخشاں اس طرح
مطلعِ انوار ہے رنگِ سخن کا اُن کے نور
لوحِ دل پر مُرتسم ہیں اُن کی یادوں کے نقوش
یاد آئیں گے ہمیشہ اہل دل کو وہ ضرور
جنت الفردوس میں اُن کو ملے ابدی سکون
سایہ گستر ہو ہمیشہ فضلِ رحمٰن و غفور
فکرو فن پر تھی اُنہیں برقیؔ مکمل دسترس
جملہ اصنافِ سخن پر تھا اُنہیں حاصل عبور





اُم المومنیں خدیجتہ الکبریٰ رضی اللہ تعالیٰ عنہا کے یوم وصال کی مناسبت سے سائبان ادبی گروپ کے ۷۶ ویں عالمی آنلاین فی البدیہہ طرحی مشاعرے کے لئے میرا نذرانۂ عقیدت احمد علی برقی اعظمی


اُم المومنیں خدیجتہ الکبریٰ رضی اللہ تعالیٰ عنہا کے یوم وصال کی مناسبت سے سائبان ادبی گروپ کے ۷۶ ویں عالمی آنلاین فی البدیہہ طرحی مشاعرے کے لئے میرا نذرانۂ عقیدت
احمد علی برقی اعظمی
اہلِ ایماں کی ماں خدیجہ ہیں
سر پہ اک سائباں خدیجہ ہیں
گلشنِ دیں اُنھیں سے ہے سرسبز
جس کی اک باغباں خدیجہ ہیں
دینِ فطرت کو تقویت دے کر
اس کی تاب و تواں خدیجہ ہیں
ہے زباں گُنگ اور قلم ساکت
ہم کہاں اور کہاں خدیجہ ہیں
سرورِ دیں کی ہیں شریکِ حیات
جن کی اک رازداں خدیجہ ہیں
اک طرف میہماں رسولِ خدا
اک طرف میزباں خدیجہ ہیں
ہے جو عنوان شفقتِ مادر
ایسی اک داستاں خدیجہ ہیں
مادرِ جملہ ملتِ بیضا
برقؔ و برقیؔ کی جاں خدیجہ ہیں


کتابوں کی افادیت : منظوم تاثرات احمد علی برقی اعظمی


کتابوں کی افادیت : منظوم تاثرات
احمد علی برقی اعظمی
ہیں کتابیں زندگی میں روشنی کی اک کرن
دور ہو جائے گا ان سے جہل و ظلمت کا سحاب
کیجئے روشن دریچے ان سے ذہن و فکر کے
در حقیقت ہیں کتابیں ہی درِ دانش کا باب
ہیں کتابیں دہر میں قُفلِ سعادت کی کلید
ان سے ہونگے آپ کے شرمندۂ تعبیر خواب
ہے اگر ذوق کُتُب بینی سمجھ جائیں گے آپ
سب سوالوں کا تسلی بخش دیتی ہیں جواب
ہے حصول علم کی تاکید از روئے حدیث
علم کی ترویج ہے احمد علی برقی ثواب

ہفت روزہ فیس بک ٹائمز کے ۳۹ ویں عالمی آنلاین فی البدیہہ طرحی مشاعرے کے لئے میری دوسری کاوش : احمد علی برقی اعظمی

ہفت روزہ فیس بک ٹائمز کے ۳۹ ویں عالمی آنلاین فی البدیہہ طرحی مشاعرے کے لئے میری دوسری کاوش
احمد علی برقی اعظمی
اپنا گرویدہ بنانے ماہِ رمضاں آگیا
نغمۂ وحدت سنانے ماہِ رمضاں آگیا
ایک ہی صف میں کھڑے ہیں مِل کے محمود و ایاز
دل سے دل سب کے مِلانے ماہِ رمضاں آگیا
مُژدۂ لاتقنطو مِن رحمتہ اللہ لے کے ساتھ
بگڑی  قسمت کو بنانے ماہِ رمضاں آگیا
دل تصور سے ہے جس کے اہلِ دل کا باغ باغ
خواب وہ لے کر سہانے ماہِ رمضاں آگیا
تشنگانِ معرفت جس کے لئے بیتاب تھے
وہ مئے عرفاں پِلانے ماہِ رمضاں آگیا
جس میں حاصل ہو سبھی کو باریابی کا شرف
خوانِ نعمت وہ سجانے ماہِ رمضاں آگیا
ہے یہ برقی اعظمی قُفلِ سعادت کی کلید
’’ کُھل گئے رب کے خزانے ماہِ رمضاں آگیا

دیا ادبی گروپ کے پینتالیسویں فی البدیہہ دیا عالمی مشاعرے میں میری کاوش احمد علی برقی اعظمی


دیا ادبی گروپ کے پینتالیسویں فی البدیہہ دیا عالمی مشاعرے میں میری کاوش
احمد علی برقی اعظمی

جانے وہ کس گماں میں رہتا ہے
فکرِ سود و زیاں میں رہتا ہے

دیکھتا ہے وہ خواب محلوں کا
خود جو کچے مکاں میں رہتا ہے

مجھ کو اندیشۂ نہیں لاحق
جانے کیوں اس کی ہاں میں رہتا ہے

کیا بتاؤں میں حالِ دل اپنا
جیسے آتش فشاں میں رہتا ہے

غمزہ و ناز اس کا ہے ایسا 
تیر جیسے کماں میں رہتا ہے

تجھ سے آباد ہے یہ خانۂ دل
’’ تو مرے جسم و جاں میں رہتا ہے‘‘

زندہ رہنے کا حوصلہ برقی
میرے عزمِ جواں میں رہتا ہے

عشق نگر اردو شاعری کے ۲۵ ویں عالمی آنلاین فی البدیہہ طرحی مشاعرے کے لئے میری طبع آزمائی

عشق نگر اردو شاعری کے ۲۵ ویں عالمی آنلاین فی البدیہہ طرحی مشاعرے کے لئے میری طبع آزمائی
احمد علی برقی اعظمی
کام ہے یہ اسی ستمگر کا
جس کے سینے میں دل ہے پتھر کا
لے رہا ہے مجھے بنا کے ہدف
’’ اپنے لہجے سے کام خنجر کا ‘‘
ہر گھڑی ہے مجھے یہی خدشہ
نہ مٹا دے نشاں مرے گھر کا
تنگ ہے عرصۂ حیات مرا
میں نہ اندر کا ہوں نہ باہر کا
خونچکاں جس میں ہے ہر اک چہرہ
کیا کروں اب میں ایسے منظر کا
میری دیرینہ آرزو ہے ، کاش
ساتھ مِل جائے اک قلندر کا
میں ہوں اک اس کا مُہرۂ شطرنج
کھیل برقی ہے یہ مقدر کا

ادارہ، عالمی بیسٹ اردو پوئیٹری کی جانب سے پیش کرتے ہیں 155 واں منفرد پروگرام پروگرام بعنوان عالمی نعتیہ محفل


ادارہ، عالمی بیسٹ اردو پوئیٹری📚
کی جانب سے پیش کرتے ہیں 155 واں منفرد پروگرام💎

پروگرام بعنوان
💎عالمی نعتیہ محفل💎

ادارے کی جانب سے پیش کرتے ہیں 155 واں منفرد مشاعرہ بعنوان عالمی نعتیہ محفل یہ پروگرام مورخہ 27 مئی 2018 دن ، بروز اتوار پاکستانی وقت 2:00 بجے اور ہندی وقت کے مطابق 2:30 بجے شروع کیا جائے گا، جس میں شعراء اپنا نعتیہ کلام پیش کریں گے📢

📚ادارۂ ھٰذا دنیا کا واحد ادارہ ہے، جو اس برقی ترقی یافتہ دور میں شعراء,ادباء و مصنفینِ زبانِ اردو ادب کی ذہنی آبیاری کرتا ہے اور نئے نئے لسانیاتی پروگرامز منعقد کرتا ہے...💫
============================
*We present 155th Unique international Program*📢

آپ احباب سے مؤدبانہ گذارش ہے کہ وقتِ مقرہ پر تشریف لاکر پروگرام کو رونق بخشیں، اور ادارہ کو شکریہ کا موقعہ عنایت فرمائیں...📢

📢نوٹ :-
سارے شعرا اپنا کلام برائے مشاورت پیش کریں گے نیز ادارے کی انتظامیہ کی جانب سے بہترین کلام پیش کرنے پر نعت گو شاعر کو توصیف نامہ سندِ اعزاز برائے ادبی خدمات سے سرفراز کیا جائے گا 🏅

📚منجانب انتظامیہ
ادارہ، عالمی بیسٹ اردوپوئیٹری📚

============================
💫پروگرام آرگنائزر💫
عامر حسنی ملائیشیا

💎سرپرست💎
توصیف ترنل ہانگ کانگ
بانی و چیئرمین ادارہ

============================

صدارت
26-محترم احمد علی برقی اعظمی بھارت🇮🇳

مہمانانِ خصوصی
24-محترم ڈاکٹر بلند اقبال نیازی بھارت🇮🇳
25-محترمہ صبیحہ صدف بھوپال (بھارت)🇮🇳

مہمانانِ اعزازی
21-محترمہ غزالہ انجم بورے والا پاکستان🇵🇰
22-محترم علی شیدا کشمیر🇮🇳
23-محترم آل عمر جامپور پاکستان
ناقدین
محترم شفاعت فہیم بھارت
محترم مسعود حساس کویت
محترم شہزاد نیّر پاکستان

نظامت🎤
محترم مختار تلہری بھارت
14 تا 26

محترمہ گلِ نسرین ملتان پاکستان
1 تا 13

رپورٹ✒
محترم امین جس پوری بھارت

============================
شعراء
1)محترم مختار تلہری بھارت🇮🇳

2)محترمہ گلِ نسرین پاکستان🇵🇰

3)محترم اصغر شمیم،کولکاتا،انڈیا
4)محترم عامر حسنی ملائیشیا🇲🇾

5)محترم مشرف حسین محضر بھارت
6)محترم عثمان محمود آزاد کشمیر پاکستان🇵🇰

7)محترم عبدالحمید صفی ربانی پاکستان🇵🇰

8)محترم مصطفٰی دلکش ممبئی مہاراشٹر انڈیا🇮🇳

9)محترم طیب قاسمی گنگوہی بھارت
10)محترم احمد کاشف مہاراشٹر انڈیا🇮🇳

11)محترم علی اکبر ملتان پاکستان
12)محترم نصیر حشمت گرواہ چنیوٹ پاکستان 🇵🇰

13)محترم علیم طاہر( انڈیا ) 🇮🇳

14)محترم انعام الحق معصوم صابری ملتان پاکستان🇵🇰

15)محترم نفیس ناندوروی بھارت
16)محترم جرّار حسین البنی نیویارک

17)محترم احمد رضا مہدی رامپوری

18) محترم امین اڈیرائی پاکستان

19)محترم شہزاد نیّر پاکستان

20)محترم امین جس پوری بھارت