Sunday, February 10, 2008

تھے ضیاء الدین اصلا حی اد یب باوقار

تھے ضیاء الدین اصلا حی اد یب باوقار
از
ڈاکٹر احمد علی برقی اعظمی ، ذاکر نگر، نئ دہلی


تھےضیاء الدین اصلا حی ادیب باوقار
انکی تصنیفات ہیں اردو ادب کا شاہکار
تھے معارف کے ایڈ یٹر ناظم اصلاح بہی
گلشن شبلی میں انکی ذات تہی مثل بہار
تھی وہ پہلی فروری جب شومئ تقدیر سے
ناگہاں اک حادثے کے ہو گۓ تہے وہ شکار
شبلی کالج بہی ہے اس غم میں برابرکاشریک
غمزدہ سلمان سلطاں ، مضمحل ہیں افتخار
ان کو الیاس اعظمی سے تھا جو اک فطری لگاؤ
اس لۓ وہ فرط غم سے ہیں مسلسل اشکبا ر
ساکت و صامت ہیں رفقاء شبلی منزل کے سبھی
فرط غم سے ان کا بھی ناگفتہ بہ ہے حال زار
تھی عظیم المر تبت ان کی مثالی شخصیت
یاد ہے لوگوں کو اب تک ان کا عجزو انکسار
ان کی عملی زندگی تھی پیکر مہرو وفا
تھےہمیشہ ہر کسی کےخیرخواہ و غمگسار
شبلی منزل کی تھیں رونق ان کی بزم آرائیاں
یاد آئیں گی جو ارباب نظر کو بار بار
مختصر سی نظم میں اس کا احاطہ کیا کریں
ان کے تھے احمد علی ادبی محاسن بیشمار

No comments: