Saturday, February 23, 2008

ایڈز کا کس طرح ھوگا سد باب

ایڈز کا کس طرح ھوگا سد باب
از
ڈاکٹر احمد علی برقی اعظمی
ذاکر نگر، نئی دھلی

ھے جھاں میں اک مسلسل اضطراب
ایڈز کا کس طرح ھوگا سد باب
ھے یہ بیماری ابھی تک لا علاج
کھا رھے لوگ جس سے پیچ و تاب
آج کل جو لوگ ھیں اس کے شکار
زند گی ھے انکی گو یا اک عذ اب
اپنی لا علمی سے ابنائے وطن
کر رھے ھیں ان سے پیھم اجتناب
در حقیقت ھے یہ اک مھلک مرض
جس سے ھیں خطرات لاحق بے حساب
جسم و جاں میں ھے توازن لازمی
کیجئے ایسا طریقہ انتخاب
ھو نہ پیدا ان میں کوئی اختلال
جو بھی کرنا ھے اسے کر لیں شتاب
ھوتے ھی کمزور جسمانی نظام
روح میں ھوتا ھے پیدا اضطراب
سلب ھو جاتی ھے طاقت جسم کی
دینے لگتے ھیں سبھی اعضاء جواب
رفتہ رفتہ آتا ھے ایسا زوال
جسم کھو دیتا ھے اپنی آب و تاب
ماھرین طب ھیں سرگرم عمل
تا کہ اس کا کر سکیں وہ سد باب
جس طرح "ٹی بی" تھی پھلے لا علاج
آج ھے اس کا تدارک دستیاب
اس کا بھی مٹ جائے گا نام و نشآں
ھو گئی کوشش جو ان کی کامیاب
اک نہ اک دن تیرگی چھٹ جائے گی
دور ھو جا ئے گا ظلمت کا سحاب
کیجئے احمد علی حسن عمل
ھے ضروری ایک ذھنی انقلاب

No comments: