Wednesday, February 27, 2008

بیاد گار کلپنا چاولھ

بیاد گار کلپنا چاولھ- بمناسبت سائنس ڈے
از
ڈاکٹر احمد علی برقی اعظمی
ذاکر نگر، نئی دھلی

ھند کی شان تھی کلپنا چاولھ
قابل رشک جسکا رھا حوصلھ
جب خلا ئی مشن پرروانھ ھووئی
طے کیا کامیابی سے ھر مر حلھ
کر کے اسسی سے زیادہ اھم تجر بے
سات سائنسدانوں کا یھ قافلھ
جب خلا ء سے زمیں پر روانھ ھوئی
لوٹتے وقت پیش آ گیا حادثھ
جان دے کر خلاءمیں امر ھو گئی
ھے یہھ تاریخ کا اک اھم واقعہ
تھی یکم فروری جب وہ رخصت ھوئی
تھا قضا ء و قدر کا یھی فیصلھ
جب مناتے ھیں سب لوگ سائنس ذے
پیش آیا اسی ماہ یہ سانحھ
اھل کر نال تنھا نہ تھےدم بخود
جس کسی نے سنا، تھا وھی غمزدہ
اس سے ملتی ھے تحریک منزل رسی
ھے نھیں رائیگاں کوئی بھی سانحھ
کامیابی کی ھے شرط اول یھی
ھو کبھی کم نہ انسان کا ولولھ
جائے پیدائش اسکی تھی جس کاؤں میں
پو چھتے ھیں سبھی لوگ اس کا پتھ
تم بھی پڑہ لکھ کے اب نام روشن کرو
طے کرو کامیابی سے ھر مرحلہ
ساری دنیا میں رھتے ھیں وہ سرخر
آگے بڑھنے کا رکھتے ھیں جو حوصلھ
کیوں نھیں ھم کو رغبت ھے سائنس سے
ھےھمارے لئے لمحھ فکر یھ
غور اور فکر فطرت کے اسرارپر
ھے یھی اھل سائنس کا مشغلھ
ماہ و مریخ جب تک ھیں جلوہ فگن
ختم ھو گا نہ تحقیق کا سلسلھ
آئۓ ھم بھی اپنا ئیں سائنس کو
آج جو کچھ ھے سب ھے اسی کا صلھ
وقت کی یہ ضرورت ھے احمد علی
کر دیاختم جس نے ھر اک فاصلھ

No comments: